منی لانڈرنگ اسکینڈل: سندھ حکومت کے زیراستعمال تمام بینک اکاؤنٹس کی 10 سالہ تفصیلات طلب

کومت سندھ

جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے تفتیش کا دائرہ سندھ حکومت تک پھیلا دیا۔

جے آئی ٹی نے سندھ حکومت کو لکھے گئے خط میں صوبائی حکومت کے زیراستعمال تمام بینک اکاؤنٹس کی 10 سالہ تفصیلات طلب کرلیں اور تفتیش کا دائرہ بیمار صنعتوں کی مالی امداد اور سرکاری ٹھیکوں تک پھیلا دیا۔

خط کے متن کے مطابق جے آئی ٹی نے سندھ حکومت سے دس سال میں ہونے والی کھربوں روپے کی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ مانگا ہے اور کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے جس بینک میں بھی جو اکاؤنٹ ہے اس کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔

جے آئی ٹی کی جانب سے صوبائی حکومت کے زیر استعمال تمام اکاؤنٹس کی بینک اسٹیٹمنٹ متعلقہ افسر کے دستخطوں کے ساتھ مانگی گئی ہیں۔

خط میں میں کہا گیا ہے کہ 10 سال میں صوبے میں بیمار صنعتوں کو امداد اور ان کے ڈائریکٹرز کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

جے آئی ٹی کی جانب سے 10 سال میں محکمہ آبپاشی اور کمیونیکشن ورکس کے ٹھیکوں کی تفصیلات بھی مانگی ہیں اور کہا گیا ہے کہ بتایا جائے 10 سال میں دونوں محکموں میں کتنی مالیت کے اور کتنے ٹھیکے دیے گئے۔

صوبائی حکومت کو لکھے گئے خط میں 10 سال میں دیے گئے تمام ٹھیکے، ٹھیکوں کے نام، پتے اور شناختی کارڈز کی تفصیلات تک مانگی گئی ہیں جب کہ خط میں سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق منی لانڈنگ کیس 2015ء میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اٹھایا گیا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایف آئی اے کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں۔

حکام کے دعوے کے مطابق جعلی اکاؤنٹس بینک منیجرز نے انتظامیہ اور انتظامیہ نے اومنی گروپ کے کہنے پر کھولے اور یہ تمام اکاؤنٹس 2013ء سے 2015ء کے دوران 6 سے 10 مہینوں کے لیے کھولے گئے جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی اور دستیاب دستاویزات کے مطابق منی لانڈرنگ کی رقم 35 ارب روپے ہے۔

مشکوک ترسیلات کی رپورٹ پر ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ کے حکم پر انکوائری ہوئی اور مارچ2015 ء میں چار بینک اکاؤنٹس مشکوک ترسیلات میں ملوث پائے گئے۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں