پاکستان میں بچوں کا جنسی استحصال

زیادتی

(زنیرہ ثاقب)

اپنی ڈاکٹریٹ کے سلسلے میں مجھے کئی این جی اوز کے ساتھ کام کرنے کا اتفاق ہوا۔ اس شعبہ کے ساتھ کام کرنے پر شدت سے احساس ہوا کہ پاکستان میں ان تنظیموں کے بارے میں پائے جانے والے منفی جذبات درست نہیں ہیں۔

جہاں اس بات سے بالکل انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کئی تنظیموں نے سوائے پیسوں کی لوٹ مار اور ذاتی مفاد کے سوا کسی کے لیے کوئی کام نہیں کیا وہاں ایسے تنظیموں کی بھی کوئی کمی نہیں جو کہ دن رات اس ملک میں پائے جانے والے اس خلاء کو پر کر رہی ہیں جو کہ حکومت کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے وجود رکھتے ہیں۔

اسی سلسلے میں ‘ ساحل ‘ نام کی ایک تنظیم کے ساتھ کام کرنے کا اتفاق ہوا۔ یہ تنظیم پاکستان کی ان چند تنظیموں میں سے ہے جو بچوں کے جنسی استحصال پر کام کر رہی ہیں۔ یہ تنظیم نہ صرف متاثرہ بچوں کو مفت قانونی مدد دیتی ہے بلکے نفسیاتی مشاورت کے ذریعے ان کو دوبارہ ایک کارآمد شہری بنانے کی کوشش بھی کرتی ہے۔

اس تنظیم کے تحت ہر سال ایک رپورٹ شائع کی جاتی ہے۔ یہ رپورٹ پاکستان میں شائع ہونے والے اخبارات میں رپورٹ ہونے والی خبروں کی مدد سے بنائی جاتی ہے۔ اس سال یہ رپورٹ پاکستان کے 84 قومی اور مقامی اخباروں میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی مدد سے بنائی گئی۔

یہاں یہ بات سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ یہ رپورٹ محض ان کیسز پر بنائی جاتی ہے جو کہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق آدھے سے زیادہ کیسز کبھی رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔ اس کی وجہ آپ اور میں خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں آج بھی جنسی استحصال ایک ممنوع موضوع ہے اور زیادہ تر اس میں مجرم کی بجائے متاثرہ فرد ہی کو الزام دیا جاتا ہے اور یہ بات تو ہم سمجھتے ہی ہیں کہ جہاں غیرت کی خاطر قتل کر دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جاتا وہاں ایسے کیسز کا رپورٹ نہ ہونا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔

اس رپورٹ کا نام ہے کرول نمبر رپورٹ۔ اس کے چیدہ چیدہ نکات دیکھتے ہیں جس سے ہمیں کچھ اندازہ ہوگا کہ پاکستان میں آخر ہو کیا رہا ہے۔2015 ء میں پورے پاکستان سے بچوں کے جنسی استحصال کے 3768 کیس رپورٹ ہوئے جس کا مطلب ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر 10 بچے زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ دوبارہ آپ کو یاد کروا دوں کے یہ رپورٹڈ کیس ہیں۔ ان میں سے 100 بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ 1723 بچے گینگ ریپ کا شکار ہوئے۔

اس معاملے میں کم از کم پاکستانی معاشرے نے اپنی تنگ نظری کو پیچھے چھوڑ دیا اور لڑکے لڑکیاں برابر اس کا شکار بنے۔ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق 5483 عصمت دری کرنے والے مجرموں میں سے تقریباً 2000 کے قریب لوگ بچوں کو کسی نہ کسی طرح جانتے تھے۔ یعنی وہ خاندان یا خاندان کے دوستوں میں سے کوئی لوگ تھے۔ یہ کیس یہ بھی بتاتے ہیں کہ لگ بھگ 50 فیصد کیس بند کمروں (اسکول، مدراس) یا گھروں میں ہوتے ہیں۔

loading...

ہمارے ملک میں ایک بیمار ذہنیت کے حامل طبقے کا خیال ہے کے ریپ کوئی جیز ہے ہی نہیں۔ ہاں زنا ایک جرم ضرور ہے جو کہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دونوں فریقوں کی مرضی نہ ہو۔ کچھ روشن خیال سمجھتے ہیں کہ ریپ ویسے تو ممکن نہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ ریپ کا شکار ہونے والے انسان نے ایسے کپڑے پہن رکھے ہوں یا ایسی حرکتوں میں ملوث ہو جو کہ کسی کے جذبات بھڑکانے کا سبب بن جائیں اور وہ ریپ کا شکار ہو جائے جس صورت میں متاثر کی غلطی ہے نہ کہ ریپ کرنے والے کی۔

ان لوگوں کی معلومات کے لیے عرض ہے کے 2015ء میں 5 سال کی عمر کے 200 بچوں کو جنسی زیاتی کا نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ 6 سے 10 سال کے 800 کے قریب کیس رپورٹ ہوئے۔

اب یہ تو کوئی ان ہی سے پوچھے کہ یہ بچے کونسے کپڑے پہنتے تھے اور کونسی حرکات میں ملوث ہوئے جو کسی کے جذبات بھڑکانے کی وجہ بن گئے؟ دکھ کی بات یہ ہے کے ہمارا میڈیا سنسنی پھیلانے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ ان کیسز میں سے 1500 سے زیادہ کیس ایسے تھے جس میں متاثرہ بچے کا نام اور کچھ رپورٹس میں نام اور تصویر دونوں اخبار میں چھاپ دی گئیں۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کو اس معاشرے میں پہلے تو کیس کو رپورٹ کرنے کے لیے کس قدر حوصلہ اور ہمت چاہیئے اور اس کے بعد جب سنسنی پھیلانے کے لیے اخبار میں جلی حروف میں بچے کی تصویر اور نام چھاپ دیا جاتا ہو گا تو وہ بچہ، بچی اور اس کا خاندان کس قدر ذہنی اذیت سے گذرتے ہوں گے۔

آج اس ممنوع موضوع پر بات کرنے کے دو مقصد تھے۔ پہلا یہ کہ آپ کو یہ اندازہ ہو سکے یہ سب کچھ یہاں آپ کے ارد گرد ہی ہو رہا ہے۔ اگر آپ کے اپنے بچے یا چھوٹے بہن بھائی ہیں تو ان کی حفاظت اور ان کی تربیت آپ کی ذمے داری ہے۔ ہمارے یہاں لوگوں نے بچوں کی اس بات پر تربیت کو بھی ممنوع بنا دیا ہے۔ اس تربیت کا واحد مقصد بچے کو یہ سمجھانا ہے کہ استحصال کی کونسی صورتیں ہو سکتی ہیں اور ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

اگر خدا نخواستہ کوئی بچہ اس کا شکار ہو جائے تو وہ کس سے بات کر سکتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کیونکہ ہم شرما شرمی میں یا اپنی تنگ نظری میں بچے سے اس موضوع پر بات نہیں کرتے تو وہ ہمارے پاس شکایت لے کر بھی نہیں آتا۔ بچہ سوچتا ہے کہ وہ متاثر نہیں بلکہ اس میں اس کا ہی کوئی قصور ہے۔ لہٰذا بچوں سے اس موضوع پر ضرور بات کیجیئے۔

دوسرا مقصد اس موضوع پر بات کرنے کا حکومت وقت کو ذمے داریوں کا احساس دلانا ہے۔ ایک این جی او پاکستان میں واحد ادارہ ہے جو کہ بچوں کے جنسی استحصال پر اعداد و شمار اکٹھا کر رہا ہے۔ کوئی حکومتی ادارہ اس سلسلے میں نہ تو فعال ہے اور نہ ہی اس میں کوئی دلچسپی رکھتا ہے۔ میڈیا پر کسی قسم کی تعلیم اس بارے میں نہیں دی جاتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی تنگ نظری سے نکلیں اور ممنوع موضوعات پر بات کر کے ان کے حل کی تدبیر کریں۔

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں