نواز شریف کی اقتدار سے علیحدگی ہی اصل تبدیلی ہے

تبدیلی

(بلال چوہدری)

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بنے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزر چکا۔ اتنی کم مدت والی حکومت کو ماضی میں کبھی اتنی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جتنا عمران خان اور انکی حکومت کو 18 اگست کے بعد کرنا پڑ رہا ہے۔

ملک کے نامور صحافی، اینکرز، دانشور ہر گزرتے دن کے ساتھ پی ٹی آئی حکومت کو  تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ جس میں کچھ حصہ حکومت کا اپنے غلط فیصلوں کا بھی ہے۔ مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان پچھلے 35 سے 40 سال سے جس ڈگر پر چل رہا تھا۔ اس کو بریک لگانے اور تبدیل کرنے کی کوشش پر سیاسی مخالفین کو بھی مروڑ اٹھ رہے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ‌ کے سب سے بڑے جادوگر میاں نواز شریف اور انکا خاندان جو پچھلے 35 سے 40 سال سے اقتدار اور اختیارات کا مالک رہا ہے۔ بادی النظر میں پارلیمانی سیاست سے نکالے جا چکے ہیں۔ دوسرے بڑےکنگ میکر آصف علی زرداری جو محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے مالک بن بیٹھے تھے۔ آج پارلیمنٹ کا حصہ تو ہیں۔ مگر منی لانڈڑنگ کیسز میں ان کے گرد شکنجہ کسا جارہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کر تبدیلی آئی کہاں؟

حکومت کے حامیوں کے نزدیک نواز شریف جو 35 سال سے فوج، عدلیہ اور کسی حد تک عوامی حمایت کے سبب اقتدار کا حصہ رہے ہیں ان کا اقتدار سے بے دخل ہونا ہی اصل میں تبدیلی ہے۔ ان کے نزدیک نواز شریف اور ان کے حواریوں نے مختلف شعبدہ بازیوں‌ اور کھوکھلے دعوؤں سے دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کا جو دعویٰ کر رکھا تھا اس غبارے سے ہوا نکلنا ہی تبدیلی ہے۔

پنجاب میں نواز شریف اور ان کے خاندان کو اقتدار سے محروم کرنا، مرکز میں انکو ہرانا اپنے آپ میں ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ پاکستان جس ڈگر پر چل رہا تھا۔ یہاں امیر، طاقتور اور صاحبِ اقتدار ہمیشہ قانون کی پہنچ سے دور سمجھے جاتے تھے وہاں عمران خان کا حکومت میں آنا بلاشبہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔

عمران خان اور حکومت کے مخالفین جو 18 اگست تک یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ عمران خان کے ہاتھ میں اقتدار کی لکیر ہی نہیں۔ عمران خان صرف شادی کی شیروانی پہن سکتا ہے وزیراعظم کی نہیں وغیرہ وغیرہ۔ وہ سب مخالفین اپنے زخم چاٹ رہے ہیں اور مختلف حیلوں بہانوں سے عمران خان اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

loading...

معذرت کے ساتھ ہم جیسے صحافی اور میڈیا والے بھی پی ٹی آئی حکومت پر کچھ زیادہ ہی مہربان ہیں۔ اس کی صاف وجہ واضح طور پر حکومت کی طرف سے اشتہارات روکنا بڑے صحافیوں کی ضیافتیں اور ان کی خاطر مدارت میں کمی اور سب سے بڑھ کر انڈیا اور پاکستان دشمن قوتوں اور این جی اوز کے پے رول پر ہونا ہے۔ 40 سال کے اقتدار والوں کا گند صرف 40 دن پرانی حکومت سے صاف کرنے کی توقع رکھنے والے واضح طور پر کسی اندرونی مروڑ کا شکار ہیں۔

دوسری طرف حکومت اپنے ماہر اور تجربہ کار سیاستدان کے ذریعے سیاسی مخالفین کو آئے دن ایسا مواد پیش کر دیتی ہے جن سے مخالفین کو مزید تنقید کا موقع میسر آجاتا ہے۔ مرکز میں حکومت بننے کے بعد عام لوگوں کو خاص طور پر شہری آبادی جو کہ نسبتاً پڑھی لکھی اور شعور بھی رکھتی ہیں، ان کو خان صاحب سے بہت توقعات تھیں مگر حکومت نے اپنے قیام کے فوراً بعد مختلف اداروں میں تقرریوں اور تبادلوں سے کوئی زیادہ اچھا تاثر قائم نہیں کیا۔

پنجاب اور کے پی کے میں وزرائے اعلیٰ کی نامزدگیاں اور انکی اب تک کی کارکردگی، غیر ضروری طور پر گاڑیوں، بھینسوں کی نیلامی پر شور شرابا کرنا، پروٹوکول اور گورنر ہاؤس کو عوام کے لیے کھولنا پبلک سٹنٹ قرار دے رہے ہیں۔  عوام عمران خان سے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کی توقع کر رہی تھی اسکے مقابلے میں 45 دن کی کارکردگی کسی طور پر بھی معیاری نہیں کہی جاسکتی۔

آج تک عمران خان کے بارے میں تمام لوگوں سمیت ان کے مخالفین ایک بات پر متفق ہیں کہ وہ خود بے ایمان نہیں، ان کے اندر پیسے کا لالچ اور بھوک نہیں وہ چونکہ خود کرپٹ نہیں اس لیے ان سے امید ہے کہ وہ کرپٹ عناصر کو نہیں چھوڑیں گے اور نا ہی حکومت میں کسی کو کرپشن کرنے دیں گے جسکی واضح مثال خیبرپختونخواء کے سابق وزیرِاعلیٰ پرویز خٹک ہیں۔ ہماری اطلاعات کے مطابق عمران خان کو ان کے بارے میں شک تھا کہ کچھ بڑے سرکاری ٹھیکوں میں وہ ملوث ہیں جس کی بناء پرعمران خان نے ان کو وہاں سے فارغ کر دیا۔

عمران خان 22 سال کی جدوجہد اور بھرپور عوامی حمایت کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچے۔ اب وہ ایک ایسی جگہ موجود ہیں جہاں پوری پاکستانی قوم (ماسوائے چند غداروں کے) فوج، عدلیہ اور تمام ادارے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہماری دعا اور پوری قوم کی امید ان سے جڑی ہے کہ وہ غریب لوگوں کی دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے مواقع فراہم کریں۔ لوگوں کو فوری انصاف اور علاج کی سہولت فراہم کریں جس وعدے پر وہ برسراقتدار آئے ہیں۔ لوگوں کو ٹھوس بنیادوں پر نتائج چاہیئے۔ اب صرف وعدوں یا پرانے کارناموں سے کام نہیں چلے گا۔

Spread the love
  • 29
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں