پاک چین تجارت:مقامی صنعتکاروں کی پریشانی

وزیراعظم عمران خان

چین نے پاکستان کو مالی امداد فراہم کرنے پر رضامندی کے اظہار کے ساتھ ساتھ معیشت، زراعت، قانون نافذ کرنے اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پندرہ معاہدوں اور یاداشتوں پر دستخط کیے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان معاہدوں سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور معاشی تعاون کو مزید وسعت دینے میں مدد ملے گی۔چین اور پاکستان میں طے پانے والے معاہدوں میں اسلام آباد پولیس اور بیجنگ پولیس اور پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے کمیشن اور چین کی اکیڈمی آف سائنسز کے درمیان تعاون کی دستاویزات بھی شامل ہیں۔

پاکستان کو اس وقت تجارتی خسارے کی وجہ سے شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ رواں سال کے آغاز سے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں 42 فیصد کمی ہوئی ہے اور اس وقت زر مبادلہ کے ذخائر آٹھ بلین ڈالر رہ گئے ہیں۔اسی وجہ سے گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کو دروہ کیا تھا اور پاکستان کے پرانے اتحادی اسلامی ملک سے چھ ارب ڈالر کا مالیاتی پیکج حاصل کیا تھا۔پاکستان کی حکومت کی کوشش ہے کہ چین اور دوسرے دوست ملکوں سے بھی مالی مدد حاصل کی جائے تاکہ ملک کی مالی مشکلات کو حل کیا جا سکے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے کم سے کم قرضہ لیا جائے۔

چین کے نائب وزیر خارجہ کونگ ژان یو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چین اپنی استطاعت کے مطابق ہی پاکستان کو مالی مدد فراہم کرے گا۔انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے کہ چین کی حکومت پاکستان کو موجودہ مالی مشکلات سے نکلنے میں ضروری مدد اور تعاون فراہم کرے گی لیکن اس کی تفصیلات اور اس سلسلے میں ممکنہ اقدامات مزید مذاکرات کے بعد طے کیا جائیں گے۔چین کے نائب وزیر خارجہ نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت جاری منصوبوں میں کمی کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی تبدیلی ہوئی تو ان منصوبوں میں مزید اضافہ ہی ہو سکتا ہے۔عمران خان کا دورہِ چین پاکستان کے لیے سفارتی، اندرونی سیاست، معیشت اور انسانی ترقی جیسے اہم معملات کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔

سب سے اہم معاملہ چین کے ساتھ تجارت کے توازن کو بہتر بنانا ہے۔چین تیزی سے ترقی کرتے ہوئی دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گیا ہے اور دنیا میں ایندھن کا دوسرا بڑا خریداری بھی بن گیا ہے۔ افریقا میں جہاں مغربی ملکوں نے سازشوں کے تحت قبائلی جھگڑوں کی ذریعے خانہ جنگی برپا کر رکھی ہے، وہاں چین نے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔چین اپنی فوجی قوت کے بجائے اپنی کاروباری صلاحیت کے ذریعے افریقی اور ایشیائی ملکوں میں معاشی ترقی کے ثمرات کو بانٹ رہا ہے ۔اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو چین سالانہ 2260 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات اور خدمات دنیا بھر کو فروخت کرتا ہے جبکہ دنیا بھر سے 1840 ارب ڈالر کی درآمدات کرتا ہے۔ اگر پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کی بات کی جائے تو صورتحال بہت زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ پاکستان چین کو سالانہ 1 ارب 38 کروڑ ڈالر مالیت کی برآمدات کرتا ہے جبکہ چین سے سالانہ 9 ارب 70 کروڑ ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کرتا ہے۔

اس طرح چین کے ساتھ تجارت میں سالانہ 8 ارب 32 کروڑ ڈالر خسارے کا سامنا ہے۔چین کی مقامی معیشت میں طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور تقریباً 6 سال میں مصنوعات اور خدمات کی طلب دگنی ہوگئی ہے۔ سال 2011 میں چین کی ریٹیل سیلز کا حجم 2898 ارب ڈالر تھا جو سال 2016 میں بڑھ کر 5 ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔پاکستانی صنعت کار اور تاجر چین کے ساتھ تجارتی خسارے پر پریشان ہیں۔ان کا کہناہے کہ کب تک امریکا اور یورپ کے پیچھے چلتے رہے گے، وہاں تجارت سے زیادہ سیاست ہے۔ مغرب میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کی لابی بھی اپنی سیاست کر رہی ہے، اس وجہ سے پاکستان مشرقِ وسطیٰ کا بیک یارڈ بن کر رہ گیا ہے۔ چین کی خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ کرنسی بھی آزاد ہے۔

چین میں یورپی امریکا جیسی سیاست کا بھی سامنا نہیں ہے۔ چین ایک اچھی ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے جہاں لوگوں کے پاس دولت بھی ہے اور نئی اشیا کی طلب بھی ہے۔چین نہ صرف بڑے پیمانے پر مصنوعات اور خدمات کا خریدار ہے بلکہ وہ اپنی صنعتوں کو کم ترقی یافتہ ملکوں میں منتقل کر رہا ہے۔ کیونکہ چین اب ہائی ٹیک صنعت کی جانب جارہا ہے، اس لیے صرف ویتنام میں ڈیڑھ سو ارب ڈالر کی چینی صنعت منتقل ہوئی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش اور ہندوستان میں بھی چین نے اپنی صنعتوں کو منتقل کیا ہے۔ پاکستان میں ابھی تک چینی صنعت کی منتقلی نہیں ہوئی ہے۔ ان حالات میں دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کیا معاشی پیکج لے کر واپس پاکستان لوٹتے ہیں۔

Spread the love
  • 3
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں