کراچی میں تجاوزات کیخلاف کیا گیا آپریشن نمائشی ثابت ہوا

encroachment

سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں انسداد تجاوزات کی ٹیم کی جانب سے صدر کے علاقے میں کیا گیا آپریشن نمائشی ثابت ہوا اور کے ایم سی کے جاتے ہی پتھاروں کا جنگل دوبارہ آباد ہوگیا۔ 

پولیس اور رینجرز کی نگرانی میں انسداد تجاوزات کی ٹیم ایمپریس مارکیٹ، ریگل چوک، پاسپورٹ آفس، اور ملحقہ سڑکوں پر تجاوزات کے خلاف آپریشن میں کیا گیا۔

تجاوزات کے خاتمے کے آپریشن کے دوران ٹیم نے دکانوں کے باہر قبضہ کی گئی جگہوں کو مسمار کردیا اور پتھارے ہٹانے کے ساتھ ساتھ دکانوں پر لگے سن شیڈ بھی اتار لیے گئے۔

دوسری جانب صدر پارکنگ پلازہ کے اطراف قائم دکانداروں نے  تجاوزات آپریشن کے خلاف احتجاج کیا اور مظاہرین نے ایمپریس مارکیٹ سے پارکنگ پلازہ جانے والا راستہ بند کردیا جسے بعدازاں کھول دیا گیا۔

محکمہ انسداد تجاوزات کی جانب سے آپریشن سے قبل مختلف مقامات پر بینرز آویزاں کیے گئے اور دکانداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ فوری طور پر تجاوزات ختم کردیں بصورت دیگر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

صدر کراچی میں تجاوزات کیخلاف ایک اور آپریشن کا نتیجہ بھی وہی ڈھاک کے تین پات نکلا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر کیا جانے والا آپریشن بھی نمائشی اور ناکام ثابت ہوا اور کے ایم سی ٹیم کے جاتے ہی صدر میں پھر پتھاروں کا جنگل آباد ہوگیا، ٹھیلے اور پتھارے والوں کا کاروبار جاری ہے۔

 آپریشن کا پیشگی اعلان ہونے کی وجہ سے صبح پتھارے اور ٹھیلے لگائے ہی نہیں گئے تھے اور کے ایم سی نے کیمروں کے سامنے نمائشی آپریشن کیا جس کے بعد تجاوزات قائم ہونے سے روکنے کا کوئی انتظام ہی نہیں تھا۔

صدر میں تجاوزات کیخلاف آپریشن کے باعث اطراف کی سڑکوں پر شدید ٹریفک جام ہوگیا، آئی آئی چندریگر روڈ، پی آئی ڈی سی، صدر اور دیگر اطراف کے علاقوں میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

 شدید ٹریفک جام کے باعث دفاتر سے واپسی گھروں کو جانے والے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں