شاہ سلمان سے صدر ٹرمپ کا اظہارِ محبت

ٹرمپ کا بیان
loading...

امریکہ کے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی فرما نروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی حکومت امریکہ کی فوج کی مدد کے بغیر دو ہفتے بھی نہیں چل سکتی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد یہ واشنگٹن کی جانب سے خلیج فارس میں اپنے سب سے قریبی اتحادی پر دباؤ تصور کیا جارہا ہے۔

ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم سعودی عرب کی حفاظت کرتے ہیں کیا اب بھی آپ کہیں گے کہ وہ امیر ہیں۔ میں شاہ سلمان سے محبت کرتا ہوں میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ کو اپنی فوج کے لیے معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار جس ریلی میں کیا وہ ریاست مسی سیپی میں منعقد ہوئی۔

ٹرمپ جب سے امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں ان کے خیالات میں اسی طرح کا تلاطم موجود ہے جیسا کہ انہوں نے اب شاہ سلمان کے بارے میں اظہارِ خیال کیا ہے۔ سعودی عرب اپنے قیام سے لے کر آج تک امریکہ کا قریبی دوست اور حلیف رہا ہے۔ مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز ابنِ سعود نے امریکہ کے اس وقت کے صدر روز ویلٹ کے ساتھ جو قریبی تعلقات قائم کیے وہ آج تک چلے آرہے ہیں اور تمام امریکی صدور اِن تعلقات کا احترا م کرتے چلے آرہے ہیں۔

یہ بھی درست ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات سٹرٹیجک نوعیت کے ہیں اور سعودی مملکت کی سالمیت کی حفاظت میں امریکی افواج اور اسلحے کا کردار بھی ہے لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ سعودی عرب امریکی اسلحے کا بہت بڑا خریدار ہے اور ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب صدر ٹرمپ سعودی عرب کے دورے پر آئے تھے تو امریکہ سے اسلحے کی خریداری کے بڑے سودے ہوئے تھے جن میں وہ جدید ترین اسلحہ بھی شامل تھا جو اب تک امریکہ سے باہر بہت کم ملکوں کے پاس ہے۔

دنیا میں شاید ایسے ملک بھی زیادہ نہیں ہوں گے جو ایک ہی وقت میں اسلحے کے اتنے بھاری سودے کے معاہدے کرسکتے ہوں۔ اس معاہدے پر دونوں ملک بہت خوش تھے۔ صدر ٹرمپ کو یہ خوشی تھی کہ ان کے ملک کی اسلحہ ساز فیکٹریاں اربوں ڈالر کا اسلحہ سعودی عرب کو فروخت کرسکیں گی اور سعودی عرب کو یہ خوشی تھی کہ وہ اس اسلحے سے کام لے کر اپنی مملکت کا دفاع بہتر اور جدید بنا سکے گا۔ غالباً اسی خوشی و سرشاری کے اظہار کے لیے اسی موقع پر دنیائے اسلام کے رہنماؤں کی ایک کانفرنس بھی سعودی عرب میں منعقد کی گئی جس میں ان ملکوں کے رہنماؤں کو صدر ٹرمپ کے حضور شرفِ بازیابی حاصل ہوا۔

کہا جاتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ سعودی تعلقات کے اس نئے دور کے آغاز کا سہرا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سر جاتا ہے جنہوں نے سعودی عرب کو جدید بنانے کے لیے تیزی سے بعض اقدامات بھی کیے اور مملکت میں پہلی مرتبہ ایسی سرگرمیوں کی اجازت دی جو اس سے پہلے سعودی عرب جیسے معاشرے میں شجرِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتی تھیں۔

اگرچہ جہاں جہاں امریکی فوجی موجود ہیں وہاں پہلے ہی ان کی دلچسپی کی تفریحات وافر اور بطریقِ احسن موجود ہیں سعودی علماء اور معاشرے کے عمومی مزاج نے اگرچہ شہزادہ محمد بن سلمان کی اِن اصلاحات پر پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا لیکن وہ جوشِ جوانی میں اپنے پروگرام پر عمل پیرا رہے یہاں تک کرپشن کے خاتمے کے نام پر انہوں نے سعودی شاہی خاندان پر بھی ہاتھ ڈال دیا اور کئی شہزادوں کو گرفتار کرکے ان سے بڑی رقوم وصول کیں۔

یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ ان رقوم میں کتنا پیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا تھا لیکن اس سے یہ بہرحال واضح ہوگیا کہ سعودی شاہی خاندان میں اتحاد و یکجہتی کے پرانے تصور میں دراڑیں بڑ چکی ہیں اور مملکت کے فوجی اخراجات پورے کرنے کے لیے اندرونِ ملک بھاری ٹیکس بھی لگائے جارہے ہیں جن کا کوئی تصور اس سے پہلے موجود نہیں تھا۔

گویا یہ کہا جارہا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک بھی فوجی اخراجات کے بوجھ تلے اتنا دب گیا ہے کہ اسے اپنے شہریوں پر ناقابلِ یقین حد تک زیادہ ٹیکس لگانے پڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے بہت سی چھوٹی کمپنیاں اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ پا رہیں اور ایک ایک کرکے بند ہو رہی ہیں۔ ان کمپنیوں میں وہ کمپنیاں بھی شامل ہیں جو غیرملکیوں نے مقامی کفیلوں کے ساتھ مل کر بنا رکھی تھیں۔

سعودی عرب اب تک اپنے دفاع کے سلسلے میں امریکہ پر جو انحصار کرتا رہا ہے صدر ٹرمپ نے اس کا بھانڈہ بیچ چوراہے یہ کہہ کر پھوڑ دیا ہے کہ اگر امریکہ ساتھ نہ دے تو شاہ سلمان کی حکومت دو ہفتے قائم نہیں رہ سکتی۔ غالباً صدر ٹرمپ کو اپنے اس ایک محبت بھرے جملے کی سنگینی کا کما حقہ اندازہ نہیں اور اس سے نہ صرف پورے عرب ملکوں بلکہ پورے عالمِ اسلام میں تشویش کی جو وسیع لہریں پھیلی ہیں اس سے سعودی نظام کی مضبوطی کا سارا محل دھڑام سے گر پڑا ہے اور دنیا میں سعودی عرب کے ہمدرد اور بہی خواہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کیا صدر ٹرمپ سعودی حکمرانوں کو کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں اور کیا سعودی عرب کے اندر کوئی ایسی تحریک جنم لے رہی ہے جو شاہی خاندان کے لیے خطرہ ہے؟

اس وقت سعودی عرب کے ایران، قطر اور دوسرے کئی خلیجی ملکوں کے ساتھ تعلقات خراب ہیں۔ یمن کے ساتھ تو باقاعدہ جنگ ہو رہی ہے جہاں سے سعودی سرزمین پر میزائل بھی داغے جارہے ہیں جو امریکی اینٹی میزائل سسٹم کے ذریعے گرائے جا رہے ہیں اور اگر یہ سسٹم کسی وجہ سے باقی نہ رہے یا صدر ٹرمپ اپنی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیں تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ سعودی دفاع میں کتنی بڑی دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔

یمن کو میزائل وغیرہ کی سپلائی بھی ایران کی جانب سے ہو رہی ہے اور یہ جنگ سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔ ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ خود ولی عہد کے اپنے بقول ان میں بہتری کا کوئی امکان نہیں حالانکہ اگر یہ تعلقات بہتر ہو جائیں تو امریکی افواج پر سعودی عرب کا انحصار اور فوجی بجٹ بھی کم ہوسکتا ہے لیکن لگتا ہے امریکہ نے ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ دونوں متحارب ملک ایک دوسرے کے قریب نہ آ پائیں۔

سعودی عرب نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلامی ملکوں کی جو اتحادی فوج بنائی ہے وہ دہشت گردی کے مقابلے میں کس حد تک کامیاب جا رہی ہے اور بطور مجموعی سعودی عرب کے دفاع میں کس حد تک کردار ادا کر رہی ہے اس کے بارے میں تو بیرونی دنیا کو زیادہ خبر نہیں لیکن صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد یہ ضروری ہوگیا ہے کہ سعودی عرب اپنی قوت بازو پر انحصار کرکے مقامی نوجوانوں کو جنگی امور کی تربیت دے اور اپنی افواج کو جدید خطوط پر استوار کرے۔ نہ صرف امریکہ پر انحصار تدریجاً کم کرکے بالکل ختم کرے بلکہ دوسری بیرونی افواج سے اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی پالیسی بھی تبدیل کرے۔

سعودی افواج کو اپنی سرزمین کا دفاع خود کرنا چاہیئے اور اس سلسلے میں پاکستان کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیئے جس نے وسائل کی قلت کے باوجود ایک شاندار فوجی قوت قائم کی ہے جو اپنے طاقتور ہمسایوں کے خطرناک عزائم کو خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان سعودی افواج کی تربیت میں کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اس سے پہلے سعودی عرب کو امریکی اثر و رسوخ سے نکلنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ اگرچہ شاہ سلمان کو اپنا عزیز دوست کہتے ہیں لیکن انہوں نے جو حقِ دوستی ادا کیا ہے اس کی داد بھی دینی چاہیئے۔ کیا اس کے بعد بھی کوئی حجاب باقی ہے جس کے اترنے کی سعودی عرب کو امید رکھنی چاہیئے؟ دنیا میں اپنی قوتِ بازو پر انحصار کرنے والی قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں