عالمی امن کانفرنس:افغان تنازع کے حل کی ایک اور امید

پاکستان روس میں 9نومبر کو افغانستان میں قیام امن کے موضوع پر علاقائی ممالک کی کانفرنس میں شرکت کریگا ۔ذرائع کے مطابق نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر ماسکو فارمیٹ مذاکرات میں وزارت خارجہ کا ایک ایڈیشنل سیکریٹری شرکت کریگا ۔روس کی وزارت خارجہ نے کہاہے کہ کانفرنس میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندے بھی شرکت کرینگے تاہم طالبان نے کانفرنس میں شرکت سے متعلق ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔طالبان کیلئے اجلاس میں شرکت کر نا اس لئے اہم ہے کہ ان کی شرکت سے طالبان کی سیاسی حیثیت کو علاقائی سطح پر تسلیم کیاجائیگا ۔

افغان حکومت کی شرکت بھی اس لئے اہم ہے کہ اس موقع پر انہیں طالبان نمائندگان کے درمیان غیررسمی طورپر ملنے کا موقع ملے گا ۔دریں اثناء افغان صدر اشرف غنی نے 2019 میں ہونیوالے صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار دوبارہ حصہ لینے کا اعلان کردیا ۔امریکی ٹی وی کے مطابق وہ 2014 سے افغانستان کے صدر چلے آ رہے ہیں۔وہ اب تک ملک میں امن وامان کی صورتحال کی بحالی اور تمام علاقوں میں اپنی حکومت کی عملداری کے قیام میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔امریکی حکومت کی ایک کمیٹی نے حال ہی میں رپورٹ میں کہا کہ حالیہ مہینوں کے دوران میں کابل حکومت کے ہاتھ سے بہت سے علاقے نکل گئے ہیں ،اس کی عمل داری محدود ہو کر رہ گئی ہے اور طالبان کیخلاف لڑائی میں اس کی سکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔قبل ازیں افغان صدر اشرف غنی نے کہاہے وہ پاکستان کے ساتھ امن چاہتے ہیں، پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں بھی ہے۔، طالبان کو ہتھیار چھوڑنا، غیر ملکیوں سے رابطے توڑنا اور اپنے ملک واپس لوٹنا ہوگا۔
اس کانفرنس میں امریکا، پاکستان، بھارت، ایران اور چین کے ساتھ ساتھ سابقہ سوویت یونین کا حصہ رہنے والی وسطی ایشیا کی پانچ ریاستوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔نائن الیون کے بعد امریکہ نے جلد بازی کرتے ہوئے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر یلغار کردی۔ افغانستان پر پاکستان کے تعاون سے بمباری کا سلسلہ شب و روز جاری رہا۔ افغان فوج کی طرف سے مزاحمت نہ ہونے کے برابر تھی۔ طالبان قیادت اپنے اور افغانستان کے امیر ملا عمر سمیت روپوش ہو گئی۔ امریکہ کا افغانستان پر چند روز میں قبضہ ہو گیا مگر جنگ ختم نہ ہوئی۔ طالبان نے گوریلا کاررروائیاں شروع کردیں۔ افغانستان سے راہ فرار اختیار کرکے طالبان کے دنیا میں جہاں سینگ سمائے چلے گئے۔

loading...

پاکستان کے ساتھ 27سو کلو میٹر طویل بارڈر کراس کرنا ان کیلئے مشکل نہیں تھا۔روس نے افغانستان پر قبضہ کیا تو امریکہ نے دنیا کے کونے کونے سے مجاہدین کو اس کے مقابل لاکھڑا کیا ۔ پاکستان سے بھی کئی لوگوں کو مجاہدین کے قافلوں میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ پاکستان اور امریکہ کے تعاون سے مجاہدین اپنے مقاصد اور تفویض کردہ مشن میں کامیاب ہوئے۔ مجاہدین روس کے خلاف جنگ کو کفر اور اسلام کی جنگ سمجھ کرلڑ رہے تھے، انہیں یہی باور کرایا گیا ۔پھر نائن الیون کے بعد امریکہ نے وہی کچھ کیا جو روس نے کیا تھا بلکہ روس سے بھی کچھ زیادہ کیا ۔ روس کو افغانستان کی سیاسی قیادت نے قدم جمانے کی گنجائش دی تھی جبکہ امریکہ ایک جارح بن کر قابض ہوا تھا۔ مجاہدین نے امریکی حملے کو بھی کفر اور اسلام کی جنگ سمجھا اور پھر سے افغانستان کا رخ کر لیا ، مگر اب امریکہ نے انہیں دہشت گرد قرار دیدیا۔ امریکہ کی اس دن سے اب تک دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ جاری ہے۔امریکہ نے افغانستان پر قبضہ کر لیا مگر امن ایک دن کیلئے بھی بحال نہ ہو سکا۔

امریکہ نے جس طرح نائن الیون کے فوری بعد افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی، افغانستان میں سرگرم طالبان نے امریکہ اور افغان انتظامیہ کے امن کے قیام کے انتظامات کو تلپٹ کرکے رکھ دیا۔ آج طالبان دو بارہ کئی صوبوں پر قابض ہو چکے ہیں جو افغان انتظامیہ کے زیر تسلط علاقے ہیں ان میں بھی حکومتی رٹ مفقود ہے۔ امریکی سامراجیت کابل شہر کے اندر تک سمٹ چکی ہے۔ کابل میں بھی امن و امان کی صورتحال کوقابل رشک تو کیا اطمینان بخش بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ افغان انتظامیہ اور امریکی حکام سکیورٹی کے سات پردوں میں بھی محفوظ نہیں۔

افغانستان میں امن و امان کیبدترین صورتحال کا فائدہ پاکستان کے ازلی و ابدی دشمن بھارت نے اٹھایا اس کو افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کا کھلا موقع مل گیا۔تین ہزار کلو میٹر طویل اور کھلی سرحد بھارتی جاسوسوں، ایجنٹوں اس کے پروردہ اور تربیت یافتہ دہشتگردوں کیلئے پاکستان میں مداخلت کی خاطر استعمال ہو رہی ہے۔ امریکہ نے افغانستان پر نام نہاد جمہوریت کے ذریعے اپنا قبضہ مضبوط بنانے کی ہرممکن کوشش کی۔ افغان سپیشل گارڈز کو تربیت دی۔ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط کیا مگر طالبان کی ہلاکت خیز کارروائیاں نہ رک سکیں۔ پاکستان کو کردار ادا کرنے کی کبھی دھونس دی اور کبھی درخواست کی گئی۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں