اگر شکار کھیلنا ہے تو ایسے کھیلیں…

شکار کھیلنا

تفریح، کھیل، تماشا انسان کی معاشرتی زندگی کا حصہ ہے اور ان سے لطف اندوز ہونا ہر انسان کا فطری حق ہے۔ ہمارا دین اسلام بھی فطر ت کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور نہ ہی خلافِ فطرت امور کا حکم دیتا ہے۔ تفریح کی مختلف صورتیں ہیں اور ہر دور میں لوگ مختلف انداز میں اختیار کرتے آئے ہیں۔ شکار کھیلنا ایک اہم کھیل ہے اور زمانہ قدیم سے چلا آ رہا ہے۔

اسلام میں بھی شکار کھیلنا جائز ہے۔تاہم اسلام میں ہمیں چند حدود وقیود کیساتھ اس کے کھیلنے کی اجازت ہے۔

چناچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’جب تم احرام کھول دو تو شکار کر لیا کرو ‘‘(المائدہ) ۔

شکار کھیلنا ایک عمدہ اور نفع بخش تفریح ہونے کے ساتھ ساتھ ذہن سازی کا ایک بہترین طریقہ بھی ہے۔ اور یہ انسان کی بلند ہمتی کی دلیل بھی ہے۔ تاہم دورانِ شکار یہ امر ضرور مدِنظر ہو کہ شکار کا ہر گز مقصد لہو ولعب نہیں اور دوسرا شکار سے دوسروں کو نقصان نہ پہنچتا ہو اور اِسی طرح اگرکسی جانور کی نسل شکار کی زیادتی کی بدولت معدوم ہو رہی ہو تو اسکا شکار بھی ہرگز نہ کیا جائے۔

پاکستان میں خصوصا صوبائی حکومتیں وقتا فوقتا موسم شکار کے دوران اپنے مروّجہ قانون کے مطابق شکار کی اجازت دیتی ہیں تاکہ عوام کو قانونی ضابطوں کے اندر اس کھیل کے بھرپور مواقع فراہم کرکے ایک صحت مند رجحان کو فروغ دیا جا سکے تاکہ ناجائز اور غیر قانونی شکار کے پر یشر کو منظم اور مربوط انداز سے ختم کیا جا سکے۔

شکار کھیلنا
ٖFile Photo: Houbara Bustard

شکار کھیلنے کے اوقات:

حکومت پنجاب محکمہ تحفظ جنگلی وپارکس نے حسبِ سابق اس سال بھی موسمِ شکار کا اعلان کر رکھا ہے جس کے مطابق مرغابی کا شکار یکم اکتوبر 2018تا 31مارچ 2019جبکہ تیتر کا شکار 15نومبر 2018تا15فروری2019 کھیلنے کی اجازت ہے۔

شکار کھیلنے کے قواعدو ضوابط

شکاری حضرات پر لازم ہے کہ وہ شکار کھیلتے وقت شکار کے مروّجہ قواعدو ضوابط کو ملحو ظِ خاطر رکھیں۔
1۔ شکار سے قبل اپنا شوٹنگ لائسنس بنوائیں اور شکار مستند اسلحہ لائسنس کے ساتھ مقررہ دنوں اور اوقات میں شکار کے کھلے علاقوں ہی میں کھیلیں ۔
2۔ مرغابی کا شکار ہفتہ اور اتوار جبکہ تیتر کا شکار محض اتوار والے دن ہی کھیلا جا سکتا ہے۔

3۔ شکار کا وقت طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب کے درمیان ہے۔
4۔ کسی قسم کی سواری سے شکار کرنا ،سڑک پر شکار کرنا اور سپاٹ لائٹ یا مصنوعی روشنی کی مدد سے شکار کرنا غیر قانونی ہے۔

5-وائلڈلائف سینگچوری اور نیشنل پارک میں شکار کی ممانعت ہوتی ہے جبکہ گیم ریزرو میں شکار کیلئے خصوصی اجازت نامہ درکار ہوتا ہے ۔
6.وائلڈلائف سینگچوری اور نیشنل پارک کی حدود میں لوڈ یا کور سے باہر ہتھیار رکھنا غیر قانونی ہے۔
بیٹھے ہوئے پرندوں پر فا ئر مت کریں۔

مزید یہ کہ شکاری حضرات کی ذمہ داری ہے کہ وہ شکار سے قبل قواعد و ضوابط کے متعلق خوب آگاہی حا صل کر لیں۔

شکار کھیلنے کے لئے اہم ہدایات

ایک ذمہ دار شکاری نہ صرف قواعد و ضوابط کی پاسداری کرتا ہے بلکہ دوران شکار وہ شکار کے جملہ اخلاقی پہلوؤ ں کو بھی ملحوظ رکھتا ہے ۔شکار کے وقت مقررہ مقدار سے ہرگز تجا وز نہ کریں ۔شکار کو ایک کھیل سمجھیں اور اسے حصولِ گوشت کا ذریعہ مت جانیں ۔دوران شکا ر اگر نشانہ خطا ہو تو تحمل کا مظاہرہ کریں۔ افزائشِ نسل میں خلل سے گریز کریں اورشکار کے وہ طریقے اپنائیں جن سے ذہنی و جسمانی ورزش کے فوائد حاصل ہوں اور پرندوں کو بچ نکلنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔

گہرے پانیوں ، گھنی اور خاردار جھاڑیوں جیسے مقامات پہ شکار مت کریں کیونکہ ایسی جگہوں سے شکار شدہ پرندوں کو مار گرانے یا زخمی کرنیکے بعداُن کو تلاش نہ کرنا انتہائی غیر اخلاقی روّیہ ہے ۔اپنی نشانہ بازی کی صلاحیت بڑھائیں کیونکہ خراب نشانہ بازی بھی جنگلی حیات کی تباہی کا موجب بنتی ہے اور زخمی ہوکر بھاگ جانیوالے پرند؂ے بعد ازاں مر جاتے ہیں ۔شکار کیلئے اعلان کردہ پرندوں کے علاوہ کسی جانور یا پرندے کا شکار مت کریں۔

شکار کھیلنا
File Photo

سکولوں اور کھیلوں کے میدان ، ہسپتالوں ، صنعتی وتجارتی عمارات، قبرستان اور رہائشگاہوں کے نزدیک شکار مت کیجئے۔مزروعہ زمینوں/کھیتوں میں مالکان کی اجازت کے بغیر گاڑی نہ چلائیں اور کسی بھی راستے کو شکار کے مقصد کیلئے بند نہ کریں یہ انتہائی غیر اخلاقی فعل ہے۔

یاد رکھیں! کہ شکارکا ایک مہذب ، قانون پسند اور ماحول دوست روّیہ نہ صرف اِس کھیل کی تفریح طبع کیلئے انتہائی سود مند ،تعلیم و تحقیق سے مزّین ، دلچسپ اور فائدہ مند ہو سکتا ہے بلکہ جنگلی حیات کا یہ دانشمندانہ طریقہ استعمال بھی اسکے تحفظ اور فروغ میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ شکار کے اِن جملہ قواعد وضوابط اور اخلاقیات کی پاسداری یقینی بنائی جائے۔

جنگلی حیات کا دانشمندانہ استعمال
تحریر : مرزا محمد رمضان

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں