غربت: ریاست کی واحد اپنی جنگ

غربت

ادارہ شماریات کے مطابق نومبر میں مہنگائی کی شرح میں 6.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 6.8 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ دوسری جانب جولائی سے نومبر کے دوران مہنگائی کی شرح 6.02 فیصد رہی۔ نومبر میں مرغی 19 فیصد مہنگی، انڈوں کی قیمت میں 9 فیصد اضافہ، پٹرول 5 فیصد اور ڈیزل 7 فیصد فیصد مہنگا ہوا۔ اسکے علاوہ مونگ کی دال 2 فیصد، ماش ساڑھے 3 فیصد مہنگی، ڈیری مصنوعات ڈھائی فیصد مہنگی ہوئی جبکہ سیمنٹ کی قیمت میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری طرف رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بیرونی قرضوں اور واجبات میں ایک ارب 39 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ 30 ستمبر تک بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 96 ارب 73 کروڑ ڈالر ہوگیا۔ 30 ستمبر تک بیرونی قرضوں کا حجم 85 ارب 64 کروڑ ڈالر رہا۔

تحریک انصاف کے دور میں سٹاک مارکیٹ 10 فیصد گر گئیجس کے باعث سرمایہ کاروں کے ایک ہزار ارب روپے ڈوب گئے اور بیرونی سرمایہ کاروں نے مزید نقصان کے خدشے کے پیش نظر سٹاک مارکیٹ سے 26 کروڑ ڈالر نکال لئے ہیں۔سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے دوران 800 پوئنٹس سے زائد کی کمی ہوئی، انڈیکس 39 ہزار کی سطح برقرار نہ رکھ سکا۔ بگڑتے معاشی حالات کے اثرات سٹاک مارکیٹ اور روپے کی قدر میں کمی کی صورت میں نظر آنے آرہے ہیں۔پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے معیشیت بحالی کے مسلسل دعوؤں کے باوجود بیرونی قرضوں میں 90 ارب روپے کا مزید اضافہ ہوگیا ہے۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق تجارتی خسارہ اور قرض و سود کی ادائیگیوں کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا رجحان جاری ہے، جس کے باعث ایک طرف تو روپیہ کمزور ہورہا ہے تو دوسری جانب سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کار شیئرز کی خریداری کے بجائے اس کی فروخت میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔تین ماہ کے دوران ڈالر کی شرح تبادلہ میں 20 روپے اضافے سے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں لاکھوں افراد کا اضافہ ہو گیا۔

وزارت منصوبہ بندی کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ساڑھے 5 کروڑ یعنی 29.5 فیصد آبادی خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں پاکستان کا 10 فیصد بالائی طبقہ مجموعی آمدنی کے 27.6 فیصد حصے پر قابض ہے، جبکہ نیچے والے 10 فیصد لوگوں کے حصے میں مجموعی آمدنی کا صرف 4.1 فیصد آتا ہے، ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 4 ڈالر یومیہ سے کم کمانے والے افراد خط غربت کے نیچے تصور کئے جاتے ہیں۔اس وقت پاکستان میں کم از کم ماہانہ اجرت 16 ہزار 400 ہے جس کے مطابق ایک مزدور روزانہ 539 روپے کماتا ہے، جو کہ ڈالر کی موجودہ شرح تبادلہ کے تحت 3.9 ڈالر بنتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں کم از کم یومیہ اجرت لینے والے لاکھوں افراد خط غربت کے نیچے دھکیل دئیے گئے ہیں، اقتصادی ماہرین کے مطابق روزانہ 539 روپے کمانے والے افراد لوئر کلاس، ایک ہزار روپے تک کمانے والے لوئر مڈل، ایک ہزار سے دس ہزار روپے روزانہ یعنی تین لاکھ روپے مہینہ تک کمانے والے افراد مڈل کلاس میں آتے ہیں جبکہ اس سے اوپر پاکستان کا وہ حکمران طبقہ ہے جو مجموعی آبادی کا 5 فیصد ہے۔

ان اعداد و شمار کے مطابق مجموعی آبادی کے 40 فیصد افراد معمولی اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں لوئر اور مڈل کلاس کے درمیان لٹکے رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں عالمی تعریف کے مطابق پاکستان میں خط غربت کی تعریف پر پورا نہ اترنے والے کروڑوں افراد کثیرالجہتی غربت کا شکار ہیں جس کے تحت لوگوں کے پاس صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف کی بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔ 2016 کے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کے مطابق پاکستان 0.550 کے ساتھ جنوبی ایشیا میں کم ترین سطح پر یعنی بنگلہ دیش سے بھی نیچے ہے۔ اس حوالے سے ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ڈالر اور پٹرول مہنگا ہونے سے زندگی گزارنے کی قیمت بڑھ جاتی ہے جسے اقتصادی زبان میں’’ کاسٹ پشڈ انفلیشن ‘‘کہتے ہیں،جسکے نتیجے میں عام استعمال کی اشیا کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔
اس وقت ملک میں مہنگائی 4 سال کی بلند ترین سطح کو چھو چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا۔ شرح سود میں حالیہ اضافہ اور روپے کی قدر میں راتوں رات گراوٹ سرمایہ کاروں کے اعتماد کے زوال کا سبب ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کی ذمہ داری اعلیٰ حکومتی سطح سے جاری ہونے والے بیانات اور رد عمل پر عائد ہوتی ہے۔ یہ حقیقت مدنظر رکھنے کی ہے کہ حکومت کے اس تین ماہ کے عرصے میں قومی معیشت کو سنبھالنے کے لئے جس طرح کے اقدامات کیے جا رہے ہیں اس سے یہ خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ آنے والے وقت میں بازارِ حصص کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

صورتحال کی بہتری کے لئے حکومت کے معاشی ذمہ داران کو اعتماد سازی پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ وزیر خزانہ اپنے بیانات میں معیشت کے ہر اشاریے میں بہتری کا دعویٰ کرتے ہیں مگر عملی طور پر جب صورتحال اس کے برعکس سامنے آتی ہے تو سرمایہ کاروں کے علاوہ عام شہری کی تشویش بھی بڑھ جاتی ہے کہ اگر سب اچھا ہے تو حقیقی طور پر سامنے کیوں نہیں آتا۔معیشت کی بحالی، زر مبادلہ اور سرمایہ کاری ، گیس کی نئی دریافت ،صحت عامہ اور صحت کارڈ ،نیا تعلیمی نظام، ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات اور بہت کچھ ۔ یہ سب آنے والے مہینوں یا سالوں میں منظرِ عام پر آئیں گے مگر یہ جب ہوگا تو پتا چلے گا کہ کیا اچھا ہواہے اور کیا برا،لیکن ایک قیامت جو 20کروڑ سے زیادہ پاکستانیوں پراس وقت گزر رہی ہے وہ ہے مہنگائی اور اقتصادی بدحالی کے اثرات۔ عوام کے لیے اس مہنگائی سے بڑا دنیا میں اور کیا عذاب ہوسکتا ہے۔غربت کے خلاف جنگ ریاست پاکستان کی واحد اپنی جنگ ہے، مگر بدقسمتی سے حکومت مہنگائی کے خلاف آمادہ پیکار نظر نہیں آتی۔

وزیر اعظم مستقبل کے بارے پر اعتماد تو ہیں لیکن جو عوام پر گزر رہی ہے اس کے بارے پریشان نظر نہیں آتے۔ غربت سے جنگ پاکستان کے لیے اس قدر اہم ہے کہ اس سے نبر دآزما ہونے کے لیے ایک علیحدہ وزارت ازحدضروری ہے،کابینہ میں سب سے اہم وزیر اسی وزارت کا ہونا چاہیے۔ غربت کی جنگ میں صحت ، تعلیم ، خزانہ ،صنعت ، خوراک جیسے کئی شعبوں کی بنیادی اہمیت ہے۔ اس لئے مجوزہ وزارت کی اہمیت سب کو باور کروانا بہت اہم ہے ۔کیوں نہ کابینہ کے ہر اجلاس میں پہلا موضوع غربت کے بارے اٹھائے گئے اقدامات پر بحث ہونا چاہیے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں