میڈیا صرف 6 ماہ پاکستان کی ترقی دکھائے، پھر دیکھیں پاکستان کہاں جاتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج کمی آرہی ہے اور وقت قریب ہے کہ ہم مکمل امن کی طرف چلیں گے۔

راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بہت کمی واقع ہوئی ہے اور وہاں فراری ہتھیار ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ افواج پاکستان کی زیادہ تر توجہ بلوچستان کی جانب ہے، تاکہ وہاں صورت حال بہتر ہو۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند سالوں میں کراچی میں امن وامان کی صورت حال میں بہت بہتری واقع ہوئی ہے، جس کا کریڈٹ پاکستان رینجرز سندھ کو جاتا ہے، جس نے جانفشانی سے کام کیا ہے اور اس شہر کی روشنیاں واپس لوٹائی ہیں جبکہ پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کراچی ایک زمانے میں جرائم کی شرح کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر تھا لیکن اب یہاں صورتحال بہت بہتر  ہے، شہر میں دہشت گردی کے واقعات میں 99 فیصد جبکہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں 93 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے 3 مطالبات

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان کے صرف 3 مطالبات تھے، چیک پوسٹس میں کمی، مائنز کو کلیئر کروایا جائے اور لاپتہ افراد کی بازیابی۔

چیک پوسٹس میں کمی کے مطالبے کے حوالے سے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاک فوج نے صورتحال میں بہتری آنے پر چیک پوسٹوں میں کمی کی ہے، اگلے سال پاک افغان بارڈر پر خاردار تار لگانے کا کام مکمل ہوجائے گا، جس سے صورت حال میں مزید بہتری آئے گی۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے 15 سال جنگ لڑی، جس کے دوران بہت سے دہشت گرد مارے بھی گئے، اس وقت بھی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی فورس وہاں بیٹھی ہے تو یہ کیسے ثابت ہوگا کہ لاپتہ افراد ان کی فورس میں شامل نہ ہوں، یا کسی اور جگہ لڑائی ہیں استعمال نہ ہورہے ہوں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ لاپتہ افراد سے معلق 2 جگہوں پر شکایات موصول ہوئیں اور مجموعی طورپر 7 ہزار کیسز آئے، جن میں سے تقریباً 4 ہزار کیسز حل ہوچکے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ 70 ہزار پاکستانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لڑتےہوئے شہید یا زخمی ہوئے، وہ بھ ہم میں سے ہی ہیں۔

ساتھ ہی ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ریاست نے پی ٹی ایم والوں کے ساتھ تعاون کیا، لیکن یہ لوگ جس طرف جارہے ہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ وہ لائن کراس کرلیں، جس کے بعد ریاست کو اپنی رِٹ برقرار رکھنے لے لیے قدم اٹھانا پڑے۔

آپریشن رد الفساد کے دوران کی گئی کارروائیاں

ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کے دوران کی گئی کارروائیوں کے اعدادشمار بتاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کے تحت 44 بڑے آپریشن کیے گئے جس کے دوران ملک سے 32 ہزار سے زائد ہتھیار ریکور کیے گئے۔

2018 میں بھارت کی جانب سے سیزفائر کی 2593 خلاف ورزیاں

ڈی جی آئی ایس پی نے بتایا کہ 2017 میں بھارت کی جانب سے 1881 سیز فائر کی خلاف ورزیاں ہوئی تھیں، لیکن رواں برس کنٹرول لائن پر سیز فائر کی 2593 خلاف ورزیاں ہوئیں، جن کے نتیجے میں 55 شہری شہید اور 300 زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز جان بوجھ کر عام آبادی کو نشانہ بتاتی ہیں۔

‘امریکا خواہش کر رہا ہےکہ کسی طرح سے مذاکرات ہوجائیں’

ڈی جی آئی ایس پی آر نے امریکہ کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں جنگ میں اتنی کامیابی نہیں ہوئی جتنی پاکستان نے حاصل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سیاسی مذاکرات کی بات کرتا ہے اور ہر وہ قدم اٹھا رہا ہے جو سیاسی مذاکرات کو کامیاب کرے اور اب امریکا خواہش کر رہا ہےکہ کسی طرح سے مذاکرات ہوجائیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا کہ ہمارا ان پر اتنا اثرورسوخ نہیں، لیکن ہم جتنا کردار ادا کرسکتے ہیں کریں گے۔

loading...
Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں