کراچی میں انسداد تجاوزات آپریشن، وزیر قانون کو متبادل طریقہ کار تیار کرنے کی ہدایت

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے حوالے سے وفاقی وزیر قانون کو متبادل طریقہ کار تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 20 نکاتی ایجنڈے سمیت معاشی صورت حال پر غور کیا گیا جب کہ وزیراعظم اور کابینہ نے خزانہ، اصلاحات اور منصوبہ بندی کی وزارتوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے 15 اجلاس ہو چکے ہیں، فیصلوں پر 98 فیصد عمل ہو رہا ہے، اجلاس میں ای سی سی کے فیصلوں کی توثیق کی گئی ہے۔

افتخار درانی نے بتایا کہ وزیراعظم نے انسداد تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے لیکن انسداد تجاوزات مہم میں غریبوں کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام بڑے لینڈ مافیا کے خلاف وفاق، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں آپریشن جاری رہےگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انفرادی کیسز کے حوالے سے وزیراعظم نے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے، چھوٹے تاجروں اور دکانوں کو نقصان سے بچانے کے لیے تعاون کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کراچی میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر قانون کو متبادل طریقہ کار تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں گلگت بلتستان اصلاحاتی پیکج اور عبوری صوبہ بنانے پر مزید مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسانوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کے تقرر کے نئے طریقہ کار کی منظوری دی گئی ہے جب کہ اکنامک افیئر ڈویژن کے سات شعبوں کو متعلقہ وزارتوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

افتخار درانی نے کہا کہ نارکوٹکس کنٹرول پر پاک کینیڈا معاہدے کی منظوری دے دی گئی ہے، معاہدے کے ساتھ اینٹی منی لانڈرنگ کا بھی معاہدہ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں کابینہ کی دستاویزات کو خفیہ رکھنے کے حوالے سے اقدامات کی منظوری بھی دی گئی ہے، ایسے کاغذات جن پر سیکریٹ لکھا ہوتا ہے اس کی پاسداری یقینی بنائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ طے کیا گیا ہے کہ سرکاری و ریاستی ڈاکومنٹس کو تحفظ ملنا چاہیے۔

قومی احتساب بیورو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے افتخار درانی کا کہنا تھا کہ نیب ایک آئینی ادارہ ہے جس پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کیسز میں پیشرفت ہو رہی ہو گی لیکن نتائج اس طرح نہیں ہیں، ادارے کی پرفارمنس پر کسی کو دل پر لینے کی ضرورت نہیں ہے، ادارے کو ہر وقت اپنی حالت بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پلی بارگین کا معاملہ دیکھیں تو ماضی میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ تردید کے باوجود وزیر خزانہ کے استعفے کے خبر چلائی گئی جس کا ملک کو نقصان ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستی امور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے، میڈیا خبر نمائندے چلانے سے پہلے ہم سے پوچھ لیا کریں، سیکرٹ ایکٹ 1923 کا اطلاق سب پر ہوتا ہے۔

وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر کا کہنا تھا کہ 18 ارب روپے سے پاکستان پاورٹی گریجویشن پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ بی آئی ایس پی سے پیسے لینے والوں کو منتخب کر کے تکنیکی آلات اور مشینیں فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ گیس کی ایک بڑی دریافت سامنے آئی ہے جس کا بہت فائدہ ہو گا۔

آئی ایم ایف کے حوالے سے حماد اظہر نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن کے کچھ لوگ پاکستان میں موجود رہتے ہیں لیکن آئی ایم ایف سے باضابطہ بات چیت جنوری کے آخر میں ہو گی۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں