نیب اور پارلیمنٹ کی بالادستی

بجٹ
loading...

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء خورشید شاہ اور بلاول بھٹو زرداری نے موجودہ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی گرفتاری کے معاملے پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی حمایت کی ہے۔ سابق اسپیکر ایاز صادق نے شہباز شریف کی گرفتاری کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے رہنماء خورشید شاہ سے رابطہ کیا ہے اور قومی اسمبلی کا اجلاس ریکوزیشن کرانے کے لیے پیپلز پارٹی سے حمایت کی درخواست کی۔ اس موقع پر خورشید شاہ نے ان سے کہا کہ میں نے اس صورت حال پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے ملاقات کی جنہوں نے اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی حمایت کی ہے۔ قائد حزب اختلاف پارلیمنٹ کا اہم ترین حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کی ہے۔ شہبازشریف کی گرفتاری پر پارلیمنٹ کو آگاہ کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔

اس حوالے سے جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نیب کو سیاسی انتقام کے لیے بنایا گیا جو سر اٹھائے گا نیب اسے ڈ نڈا مارے گا۔ شہباز شریف کی گرفتاری پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ نیب ایک آمر کا بنایا ہوا ادارہ ہے جسے سیاسی انتقام کے لیے بنایا گیا تھا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان نے مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی الیکشن سے قبل شہباز شریف کی گرفتاری کیا معنی رکھتی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پہلے سے گرفتاری کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی۔ غالب امکان ہے کہ ضمنی الیکشن سے قبل یہ انتقامی کاروائی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتساب سب کا بلا امتیاز ہونا چاہیئے البتہ اپوزیشن کے معاملے میں جانبداری اور سیاسی انتقامی کارروائی سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری جس مقدمے میں ہوئی ہے اس کا فیصلہ تو عدالتیں کریں گی کہ اس میں وہ کتنے قصوروار تھے اور کتنے نہیں۔ لیکن اتنا تو عام آدمی کو بھی معلوم ہے کہ انہیں صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا اور گرفتاری آشیانہ کیس میں ڈال دی گئی۔ ایسے ہی جیسے نواز شریف کے خلاف کیس تو پانامہ کا تھا لیکن نااہلی اقامہ پر ہوگئی اور یہ سوال سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج نے اٹھایا تھا۔

صاف پانی کیس کی تفتیش کہاں تک پہنچی یہ تو ابھی معلوم نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آشیانے کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے تو پھر صاف پانی کی ضرورت پڑ جائے۔ اب شہباز شریف جانیں اور عدالتیں لیکن کیا اس گرفتاری کا کوئی تعلق اس غیر ذمہ دارانہ بیان سے بھی بنتا ہے۔ جو چند دن پہلے پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک رہنماء رانا مشہود نے داغ دیا تھا۔ یہ پتھر جس تالاب میں پھینکا گیا تھا اس کی لہروں نے دور دور تک اضطراب پیدا کر دیا تھا اور کوئی وقت ضائع کیے بغیر حامی اور مخالف سب دھڑا دھڑا وضاحتیں کرنے لگے تھے۔ جس نے بھی وضاحت کی اس نے پہلے رانا مشہود کو ان کی اوقات یاد دلانا ضروری سمجھا۔ کسی نے کہا کہ ان کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں پھر اس بیان کی بھرپور انداز میں مذمت بھی کر دی۔ ان کی اپنی جماعت نے بھی ان کے خلاف انضباطی کارروائیاں شروع کر دیں۔ رکنیت بھی معطل کر دی لیکن لگتا یوں ہے رانا مشہود کے غیر ذمہ دارانہ بیان نے کچھ ذمہ داروں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔

ممکن ہے شہباز شریف چند دن بعد گرفتار ہو جاتے لیکن ضمنی الیکشن سے آٹھ دن پہلے ان کی گرفتاری اگر عجلت میں کی گئی تو اس کی وجہ مسلم لیگ ن کے یہ حقیقی یا فرضی دعوے بھی ہوسکتے ہیں جس میں وہ اپنے آپ کو ضمنی انتخاب کی فاتح قرار دیتی ہے۔ ضمنی انتخاب قومی اسمبلی کی 11 نشستوں پر ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کا فوکس تو لاہور پر ہے جہاں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق امیدوار ہیں۔ دونوں کا دعویٰ ہے کہ وہ جیت جائیں گے۔ بہرحال نتیجہ دلچسپ رہے گا۔ لیکن اس وقت زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں حکومت کے ایک بڑے اتحادی سردار اختر مینگل کی جماعت حکومت کا ساتھ چھوڑنے کے لیے پر تول رہی ہے اور کوئی دن جاتا ہے وہ حکومت سے الگ ہو جائے۔

ڈیڑھ ماہ سے بھی کم عرصے میں سردار اختر مینگل کو یہ شکایت پیدا ہوئی ہے کہ ہم حکومت کے اتحادی ہیں لیکن حکومت کسی معاملے پر ہم سے مشاورت نہیں کرتی۔ عموماً چھوٹی جماعتوں کو اپنی بڑی اتحادی جماعت سے ایسی شکایت رہتی ہے اس لیے اگر سردار مینگل کو بھی شکایت ہے تو زیادہ حیرت کی بات نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر صرف مشاورت نہ کرنے کی شکایت ہے تو حکومت ایسا کیوں نہیں کرتی اگر ایک پارٹی سے آپ نے صدر اور وزیراعظم کے انتخاب میں ووٹ لیا ہے اور اس کے مطالبات مان کر ایک تحریری معاہدہ بھی کیا ہے تو کیا حرج ہے اس جماعت سے وقتاً فوقتاً مشورہ ہی کرلیا جائے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ اگر وفاقی حکومت بی این پی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہے تو کم از کم مشاورت نہ ہونے کی شکایت تو دور کر دے اور اگر اس کا خیال ہے کہ بی این پی جاتی ہے تو جائے، ہمارے پاس ایسے کاموں کے لیے مشاورت کا وقت نہیں تو پھر یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ قومی اسمبلی کے ایوان میں اکثریت کے لیے 172 ارکان کی سادہ اکثریت درکار ہے اور وزیراعظم عمران خان کو 176 ووٹ ملے تھے یعنی سادہ اکثریت سے صرف چار زیادہ۔ اور یہ کوئی ایسی تعداد نہیں جس پر حکومت اتراتی پھرے لیکن بعض وزراء کے رویے ایسے ہیں جیسے ان کی حکومت دو تہائی اکثریت سے قائم ہوئی ہو۔

اختر مینگل کو تازہ شکایت یہ پیدا ہوئی ہے کہ بلوچستان کا نیا گورنر لگاتے ہوئے ان سے مشورہ نہیں کیا گیا اور اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر بلوچستان کے متعلق اہم فیصلے کرنا مناسب نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت سازی کے وقت بی این پی نے بلوچستان کی بہتری کے لیے چھ نکات پیش کیے تھے جن میں سے چار نکات سے حکومت پیچھے ہٹتی نظر آتی ہے۔ تحریک انصاف اپوزیشن کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور محاذ آرائی کی سیاست کر رہی ہے۔

نوازشریف حکومت نے بلوچستان کے متعلق بجٹ میں منصوبے رکھے لیکن ان پر عمل نہیں کیا جبکہ تحریک انصاف نے ان منصوبوں کے حوالے سے ضمنی بجٹ میں کوئی ذکر نہیں کیا۔ اختر مینگل کا خیال تھا کہ اب حکومت ان سے جان چھڑانا چاہتی ہے اب اس بیان کے بعد اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اختر مینگل مزید کتنا عرصہ حکومت کا ساتھ دیتے رہیں گے۔

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں