بلٹ پروف سے بکتربند تک

شہباز شریف

(فیضان الہی ظہیر)

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور موجودہ قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف کو قومی احتساب بیورو نے آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ قومی احتساب بیورو کے لاہور میں واقع دفتر میں بیان ریکارڈ کروانے کے لیے گئے۔ ان پر لگائے گئے الزامات تو عدالت میں ثابت کیے جائیں گے مگر یہ واقعہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے قبل اپوزیشن لیڈر محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی آج سے 33 سال قبل 29 اگست 1985ء کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جلا وطنی کے بعد اپنے بھائی شاہنواز بھٹو کی تدفین کے لیے پاکستان آئیں۔ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ شاہنواز بھٹو کے قتل کا معمہ بھی حل نہ ہو سکا۔ اُن کی اہلیہ ریحانہ پر فرانس میں قتل کی تحقیقات کی گئیں مگر ا لزام ثابت نا ہو سکا اور ریحانہ اپنی بیٹی سسی کے ساتھ امریکہ شفٹ ہو گئیں۔

محترمہ بینظیربھٹو کو اگرچہ کراچی میں ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کیا گیا تھا مگر اس وقت جنرل ضیاء کا دورحکومت تھا۔ دور آمریت میں اس قسم کا واقعہ ہونا حیرت انگیز بات نہیں مگر منتخب جمہوریت میں اس طرح کے اقدامات حالات کی سنگینی کا باعث بن سکتے ہیں۔ جب کہ ہمارا ملک جس نازک صورت حال سے گزر رہا ہے ایسے میں ان واقعات سے دنیا ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھے گی۔

وزیراعظم عمران خان کی نیت اور سمت بلاشبہ درست تسلیم کی جانی چاہیئے اور عمران خان ایک وژنری لیڈر بن کے ابھر رہے ہیں۔ ہمیں تمام مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی ترقی اور عظمت کے لیے موجودہ حالات کو مدنظر رکھ کر صحیح معنوں میں جدوجہد کرنا ہوگی۔ لِی کوان بھی تو ایک پسی ہوئی قوم کا لیڈر تھا جس کے عزم نے سنگاپور کے لوگوں کی زندگی کے معیار کو بلند کیا یہاں معیار زندگی کے بلند ہونے سے مراد قوم کی اجتماعی اور مجموعی ترقی ہے۔ ہمیں آج نہیں تو کل قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ معاشرہ نہیں بلکہ جنگل بن جائے گا جہاں صرف طاقتور کا راج ہو گا۔

ہمیں عمران خان کی اس بات سے اتفاق کرنا چاہیئے کہ معاشرے کا وہ طبقہ جو پیچھے رہ گیا ہے اُسے آگے لے کے آنا ہوگا ورنہ ہمارے اردگرد اتنا بگاڑ پیدا ہو جائے گا کہ اُسے ہم ایک وقت کے بعد سنبھال نہیں سکیں گے۔ لیڈر اپنا لیڈر ہونا کردار سے ثابت تو کرتا ہی ہے مگر قوم کو بھی اعتماد کرنا پڑتا ہے۔ 28 ہزار ارب کے قرضوں میں ڈوبی قوم کو خدارا اپنی نیت صاف کر کے ہر اچھے کام میں حکومت کا ساتھ دینا چاہیئے۔ سب سے بڑا ظلم جو ابھی تک ہم اپنے ساتھ کرتے آئے ہیں وہ شخصیت پرستی ہے۔ ہمیں اب اس بات کو تہہ دل سے تسلیم کر لینا چاہیئے کہ اگر ہماری حق تلفی میں میاں نواز شریف ہوں، میاں شہبازشریف، آصف علی زرداری، فضل الرحمان، اسفندیار ولی یا کوئی بھی لیڈر ہو اس کی جزا و سزا قانون کے مطابق ہو جیسے یہاں قانون کسی بھی عام آدمی کے لیے ہے۔ میں یہاں موجودہ وزیراعظم عمران خان کا ذکر اس لیے نہیں کیا کیونکہ وہ اب اقتدار میں ہیں اور ان کے ہر فیصلے کے اثرات ہم آنے والے وقتوں میں دیکھیں گے۔

میاں محمد شہباز شریف کی پنجاب کے لیے بے پناہ خدمات ہیں جن کا اعتراف ہم اخباروں اور ٹی وی میں آنے والے غیرملکی سربراہان مملکت کے بیانات کی صورت میں سنتے آئے ہیں۔ پنجاب سپیڈ کے نام سے پکارے جانے والے خادم اعلیٰ پنجاب قومی احتساب بیورو کی تحویل میں ہیں۔ احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو کو شہباز شریف کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔

احتساب عدالت میں پیشی کے لیے شہباز شریف کو جب بکتر بند گاڑی مین لایا جا رہا تھا تو میری طرح ہر دیکھنے والے کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر آرہا ہو گا جب ایک شہنشاہ کو لاتعداد گاڑیوں کے جھرمٹ میں اسی شہر میں سفر کروایا جاتا تھا۔ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ جس پولیس کے اعلی سے اعلی افسران کو فقط ایک انگلی کی جنبش سے تہہ و بالا کر دیا جاتا تھا تو کل حضور اسی پولیس کی سپاہ کے حصار، بکتر بند گاڑی اور چند متوالوں کے جھرمٹ میں احتساب عدالت پیش ہوئے۔ لیکن یہ شائد اتنا اہم موضوع نہیں جتنا اہم یہ ہے کہ چاہے شاہ ہو یا گداگر انصاف سب کے لیے برابر ہونا چاہیئے۔

ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق اور ان کی اہلیہ روسماں منصور بھی کرپشن کی پاداش میں پولیس کی حراست میں ہیں۔ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کو اسی سال جیل بھیجا گیا۔ صاحبِ اقتدار لوگوں کا جیل میں جانا اس سے تو بڑی بات نہیں جتنا یہاں پسا ہوا طبقہ ا نصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کی دہلیزوں پہ ماتھا پٹخ پٹخ کے اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کے مر جاتا ہے پر انصاف پھر نہیں ملتا۔ نا ہی اسے کوئی بلٹ پروف گاڑی لینے آتی ہے نا ہی متوالوں کا جھرمٹ گلہ پھاڑ پھاڑ کے نعرے لگاتا ہے۔

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں