امریکہ اب مزید پاکستان کے کندھوں پر رکھ کر بندوق نہ چلائے، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان
loading...

واشنگٹن: وزیراعظم عمران خان نے امریکی اخبار کو انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان کرائے پر لی ہوئی بندوق نہیں، اب ہم وہ کریں گے جو ہمارے مفاد میں بہتر ہوگا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر باقاعدہ تعلقات چاہتا ہے، سپر پاور کے ساتھ اچھے تعلقات کون نہیں چاہے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے امریکا کی جنگ لڑتے ہوئے زیادہ نقصان اٹھایا ہے، اب ہم وہ کریں گے جو ہمارے لوگوں اور ہمارے مفاد میں بہتر ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہوں کا الزام لگایا تھا، جب حکومت میں آیا تو سکیورٹی فورسز سے مکمل بریفنگ لی اور وقتاً فوقتاً امریکہ سےکہا کہ بتائیں پاکستان میں پناہ گاہیں کہاں ہیں تاکہ اسے چیک کریں، پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ٹوئٹ اور اس پر جواب سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ٹوئٹر پر ٹرمپ کو جواب دینے کا مقصد ریکارڈ درست کرنا تھا، جواب میں لکھا تھا کہ امریکی صدر کو تاریخی حقائق پتہ ہونا چاہیے اور ٹرمپ کی جانب سے ہرزہ سرائی کا سوشل میڈیا پر جواب ٹوئٹر جنگ نہیں تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جہاں سے دہشت گردوں کی آمدو رفت مشکل ہے۔

امریکی فوج کے انخلا سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ 1989 میں جب سویت یونین افغانستان سے نکلا تو امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا تھا، ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان سے جلد بازی میں نہ نکلے اور افغانستان میں پہلے حالات ٹھیک کرے پھر تعمیر نو کیلیے بھی اس کی ضرورت ہوگی۔

پاکستان میں 27 لاکھ افغان مہاجرین اب بھی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں