سگریٹ نوشی کے خطر نا ک نقصا نا ت

سگریٹ نوشی

سگریٹ نوشی کی عادت نہ صرف انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے بلکہ اس کے دیگر متعدد نقصانات بھی ہیں اور اب اس میں ایک اور اضافہ ہوگیا ہے۔
ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ نوجوانی سے ہی تمباکو نوشی اور الکحل کا استعمال شروع کردینے سے شریانیں اکڑنے لگتی ہیں جس کے نتیجے میں بہت سی بیماریاں پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
تحقیق میں بتایا گیا کہ شریانوں کا اکڑنا انہیں نقصان پہنچنے کا عندیہ دیتا ہے اور درمیانی عمر ہی لوگ ہارٹ اٹیک اور فالج جیسی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں
سگریٹ نوشی اور الکحل کا استعمال شریانوں کو پہنچنے والے نقصان کی شرح کو دوگنا بڑھا دیتا ہے۔
بہت زیادہ تمباکو نوشی کے استعمال سے شریانوں کے اکڑنے کا خطرہ کبھی کبھار سیگریٹ پینے والوں کے مقابلے میں الکحل کی نسبت زیادہ ہے
ان دونوں بری عادتوں کے شکار افراد میں یہ خطرہ اوسطا دو گنا تک بڑھ جاتا ہے۔
طبی ما ہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانی میں ہی سیگریٹ نوشی اب اتنی عام ہوچکی ہے
جس کی وجہ سے آج کی نوجوان نسل نوجوانی میں ہی ان خطرناک بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے
طبی ما ہرین نے بتایا کہ اگر نوجوان نسل اس لت سے چھٹکارہ پالیں تو ان کی شریانیں پھر معمول پر آجاتی ہیں۔
سیگریٹ نوشی کی عادت پھیپھڑوں کے لیے تباہ کن ہوتی ہے جبکہ اس کے دیگر متعدد نقصانات بھی ہیں اور اب اس میں ایک اور اضافہ ہوگیا ہے۔
برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ نوجوانی سے ہی تمباکو نوشی یا الکحل کا استعمال شروع کردینے سے شریانیں اکڑنے لگتی ہیں جس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ان دونوں کا استعمال شریانوں کو پہنچنے والے نقصان کی شرح دوگنا بڑھا دیتا ہے۔
لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ شریانوں کا اکڑنا انہیں نقصان پہنچنے کا عندیہ دیتا ہے اور درمیانی عمر میں دل کے مسائل جیسے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اس تحقیق کے دوران 12 سو سے زائد نوجوانوں کا جائزہ 2004 سے 2008 تک لیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ تمباکو نوشی کے استعمال سے شریانوں کے اکڑنے کا خطرہ کبھی کبھار سیگریٹ پینے والوں کے مقابلے میں اوسطا 3.7 فیصد زیادہ ہے جبکہ الکحل کا استعمال یہ خطرہ 4.7 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ان دونوں بری عادتوں کے شکار افراد میں یہ خطرہ اوسطا 10.8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ نوجوانی میں ہی سیگریٹ نوشی اب عام ہوچکی ہے جو کہ شریانوں کی اکڑن کا عمل شروع کردیتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر نوجوان اس لت سے چھٹکارہ پالیں تو ان کی شریانیں پھر معمول پر آجاتی ہیں۔

Spread the love
  • 9
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں