خدا کی بے آواز لاٹھی

خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے

وہ ایک محکمے میں سرکاری ملازم تھا اس کی پوزیشن محکمے میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی افسران اور سیاستدانوں کا چہیتا ہونے کے باعث ہر کوئی اسے ہی محکمے کا اعلیٰ افسر سمجھتا تھا. وہ گذشتہ کئی برسوں سے ایک ہی سیٹ پر تعینات تھا متعدد لوگوں نے اس کے تبادلے کی کوششیں کیں مگر وہ ہر مرتبہ افسران یا سیاستدانوں کو اُن کی منہ مانگی رشوت دے کر اپنا ٹرانسفرکینسل کر والیتا تھا.

وہ صبح 9 بجے کی بجائے 11 بجے دفتر آتا پانچ بجے کی بجائے 2 بجے ہی آفس سے چلا جاتا اپنا کام کرنے کے لیے آفس میں اس نے اپنی جیب سے دو ملازم رکھے ہوئے تھے یعنی ان کی تنخواہ وہ خود ادا کرتا تھا کسی افسر میں اتنی جرات نہیں تھی کہ اس سے پوچھ سکے کہ یہ غیر متعلقہ ان ٹرینڈ اور نان پروفیشنل لوگ آفس میں کیوں موجود ہیں بہت سارے لوگ تو انہیں سرکاری ملازم ہی سمجھتے تھے اس نے کروڑوں روپے مالیت کی دو بڑی گاڑیاں رکھی ہوئی تھیں.

ایک تووہ خود استعمال کرتا تھا جبکہ دوسری گاڑی مختلف مواقعوں کے لیے افسران کی خوشامد کے لیے رکھی ہوئی تھی خاص طور پر افسران کی بیگمات کے سفر کے لیے وہ کسی سائل کومعاف نہیں کرتا تھا ہر ایک سے رشوت لینا تھا اس نے ہر کام کے ریٹ مقرر کیے ہوئے تھے اور ہر کوئی اس سے پوچھے بغیرہی اس کی مطلوبہ رقم بطور رشوت اسے پہنچا دیتا تھا جو اس سے معاوضہ کی بابت دریافت کرنے کی غلطی کر لیتا وہ بیچارا ادھر ادھررلتا رہتا اور کوئی افسر تک بھی اسی سائل کی بات نہیں سنتا تھا اس کے بچے شہر کے مہنگے سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے پیسے کی اتنی ریل پیل تھی.

وہ ہر محکمے کے افسروں کو باقاعدگی سے منتھلی پہنچا دیتا تھا جس کی وجہ سے کوئی بھی اس کے خلاف کہیں آواز نہیں اٹھاتا تھا اگر کوئی ایماندار افسر اتنی جرات کرنے کی کوشش کرتا تو اس کے کو لیگ افسران دباؤمیں لے آتے کہ یاتو تمہارا ٹرانسفر ہو جائے گا یا پھر تم اپنی سیٹ گنوا بیٹھو گے کیونکہ کوئی بھی سیاستدان یا افسر اپنے فنانسر،سپانسر کی قربانی دینے کے لیے تیار نہیں

ایک دن اسے اسلا م آباد ٹریننگ کے سلسلے میں جانا تھا وہ اپنی فیملی کو بھی اپنے ساتھ لے گیا تاکہ دو تین دن کی آؤٹنگ بھی ساتھ ہی ہو جائے تیسرے دن واپسی پر اس کی لاکھوں روپے کی قیمتی گاڑی تیز رفتا ری کے باعث الٹ گئی اس کا ڈرائیور موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا بیوی بچے شدید زخمی ہو گئے اور وہ خود بھی ایسی حالت میں تھا کہ ہل ہی نہیں ہو رہا تھا اسے ایک ایک سیکنڈ بہت بھاری محسوس ہو رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ایک فون کال پرہیلی کاپٹرتک منگوالے کچھ دیر بعد اسے آوازیں آئیں لوگ جمع ہو رہے تھے سب یہی کہہ رہے تھے کہ گاڑی کو کاٹے بغیر کسی کو باہر نہیں نکالا جا سکتا.

loading...

اب اس کو موت سامنے نظر آرہی تھی اسے یقین ہو چلا تھا کہ جتنی دیر میں انہیں کوئی نکالے گا اس وقت تک شاید وہ زندہ ہی نہ رہ سکیں اس کے بچوں کی آواز یں اس کو مسلسل رولائے جا رہی تھیں بیوی کی چیخوں نے اسے اپنے زخم اور تکلیفیں بھی بھلا دی تھیں وہ باہر کھڑے لوگوں کو خدا کے واسطے دے رہا تھا پھر اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا..

چند لمحوں بعد خاموشی ہوگئی تھی جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ کسی ہسپتال کے انتہائی نگہدا شت وارڈ میں تھا آہستہ آہستہ اس کے ذہن میں وہ حادثے والاسارا واقعہ یاد آنا شروع ہوگیااس نے بیوی بچوں کے بارے میں پوچھا کسی نے کوئی جواب نہیں دیا تھوڑا ساواویلا کیا تو منہ میں تکلیف شروع ہوگئی نرس نے بتایا کہ بولنے اور ہلنے کی اجازت نہیں ہے اور جو اس نے پوچھا ہے اس کی کسی کو سمجھ نہیں آئی کیونکہ اس کا چہرہ سوجھا ہوا تھا اورجبڑے ٹوٹے ہوئے تھے جنہیں ٹانکوں کی مدد سے جوڑا گیا تھا وہ ایک ہفتے تک ہسپتال میں اسی طرح لیٹا رہا کبھی بے ہوش ہوگیا تو کبھی نیم بے ہوش اگر مکمل ہوش پر کبھی آجاتا تو تکلیف میں ہونے کی وجہ سے غیر ضروری حرکت کرنے پر نرس اسے پھر نیند کا انجکشن لگا دیتی.

دو ہفتے بعد جب صورتحال کچھ بہتر ہوئی تو اسے معلوم ہوا کہ حادثے میں صرف ایک اس کی ہی جان بچی تھی وہ بھی اس طرح کہ نہ تو اس کے بازو سلامت تھے اور ناہی ٹانگیں اب باقی زندگی اسے وہیل چیئر پر گزار نا تھی دوست رشتہ دار پہلے دن سے ہی اس کی جائیداد کے پیچھے لڑ رہے تھے زیادہ پراپرٹی اس کے دوست رشتہ داروں کے نام تھی کیونکہ وہ ایک سرکاری ملازم تھا اور آج تک اسی لیے بچتا آرہا تھا کہ کوئی اس کے خلاف ثبوت نہیں پیش کر سکا تھا لہذا جس دوست رشتہ دار کے پاس جو کچھ تھا اس نے موقع ملتے ہی اس پر قبضہ کر لیا اب ویسے بھی اس کی باقی ماندہ زندگی معذوری میں ہی گزرنی تھی لہذا سب دوست یار عزیز رشتہ دار اسے چھوڑ گئے آج اس کی دولت اس کے کسی کام نہیں آئی سب پیسے اور مطلب کے دوست تھے جو چھوڑ گئے.

اب یہ معاملہ اس کا اور اس کے رب کا ہے پتا نہیں اسے کس غریب یا مظلو م کی آہ نے جکڑا ہے پتا نہیں باقی زندگی میں یہ معاشرہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے لیکن جب ہم آل ان آل ہوتے ہیں تو اپنے اختیار ات اور حد سے تجاوز کر جاتے ہیں یہاں تک کہ خدا کو بھی بھول جاتے ہیں اس طرح کا کم از کم ایک شخص آج بھی آپ کو ہر محکمے میں نظر آئے گاجس کی پہچان رشوت افسر شاہی سے تعلقات اور سیاستدانوں کی پشت پناہی ہوگی اس کی وجہ سے نجانے کتنے غریب آدمی محکمے میں دھکے کھا رہے ہوں گے اسے اور اس کے بیو ی بچوں کو بد دعائیں اور گالیاں دے رہے ہوں گے اور وہ ظالم لوگ پیسوں کے بل بوتے پر اس طرح کے بے لگام اور لالچی اہلکاروں کی وساطت سے کتنے غریب لوگوں پر ظلم کر رہے ہیں کاش کہ یہ لوگ اب بھی سمجھ جائیں کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے نجانے کب کس کابرا وقت آجائے۔
میاں بابر صغیر

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں