محمد حفیظ کا ٹیسٹ کیرئیر اختتام پذیر

محمد حفیظ

ابوظہبی: پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد حفیظ کا ٹیسٹ کیرئیر مایوس کن انداز میں اختتام پذیر ہوگیا۔

انہوں نے 55 میچز میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے 10 سنچریوں اور 12 نصف سنچریوں کی بدولت 3 ہزار 652 رنز بنائے۔

سرگودھا میں 17 اکتوبر 1980ء کو پیدا ہونے والے محمد حفیظ نے 22 سال کی عمر میں اپنا پہلا ٹیسٹ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں بنگلہ دیش کے خلاف راشد لطیف کی قیادت میں کھیلا۔

پہلی اننگز میں وہ 2 اور دوسری اننگز میں 50 رنز بنانے میں کامیاب رہے جس کے بعد پشاور میں کھیلے گئے اپنے دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں انہوں نے کیرئیر کی پہلی سینچری بنائی اور 102 رنز ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی۔

کیرئیر کی پہلی ٹیسٹ سیریز کے تین میچز میں 214 رنز بنانے والے حفیظ کو دوسری سیریز کھیلنے کے لئے تین سال انتظار کرنا پڑا، محمد حفیظ کے کیرئیر کی بہترین ٹیسٹ سیریز یو اے ای میں 15-2014 میں نیوزی لینڈ کے خلاف رہی، جہاں انہوں نے دو میچز میں 139.33 کی اوسط سے 418 رنز بنائے۔

محمد حفیظ کا ٹیسٹ کیرئیر اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا بہترین اسکور 224 رنز رہا، یہ اسکور انہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف کھلنا میں اپریل 2015 میں بنایا۔

محمد حفیظ نے ٹیسٹ کرکٹ میں 10 سینچریوں میں سے 9 سینچریاں ایشیا میں کھیلتے ہوئے اسکور کیں اور ٹیسٹ کھیلنے والے ملکوں میں سب سے عمدہ کارکردگی انگلینڈ اور سر ی لنکا کے خلاف رہی۔

انگلینڈ کے خلاف انہوں نے 10 ٹیسٹ میچوں میں ایک سینچری کے ساتھ 767 رنز بنائے جب کہ سری لنکا کے خلاف 10 ٹیسٹ میں ایک سینچری کے ساتھ 724 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔

محمد حفیظ نے 2012 میں سری لنکا کے خلاف گال ٹیسٹ میں بطور کپتان واحد ٹیسٹ کھیلا، وہاں پاکستان کو 209 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

2003 سے 2018 تک محمد حفیظ کے کیرئیر کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ 100 سے زیادہ ٹیسٹ اننگز میں 10 سینچریاں اور 12 نصف سینچریاں بنانے والے دائیں ہاتھ کے بیٹسمین نے ایک اچھی اننگز کھیلنے کے بعد تواتر کے ساتھ مسلسل رنز بنانے میں کم ہی کامیابی حاصل کی۔

2016 کے دورہ انگلینڈ میں تین ٹیسٹ میچز کی 6 اننگز میں 102 رنز بنانے والے محمد حفیظ کو ٹیسٹ ٹیم سے ڈراپ کیا گیا، اکتوبر 2018 میں 25 ماہ بعد ٹیسٹ ٹیم میں واپس آنے والے حفیظ نے واپسی کا جشن دبئی میں آسڑیلیا کے خلاف 126 رنز کی اننگز کھیل کر منایا۔

البتہ اس شاندار واپسی کے بعد ان کا بیٹ رنز بنانا ہی بھول گیا، اگلی سات اننگز میں صرف 66 رنز نے ابوظہبی میں نیوزی لینڈ کے خلاف دوسری اننگز سے پہلے ہی فیصلہ کرلیا کہ 38 برس کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی دیوانے کا خواب ہوگی۔

بولنگ ایکشن کلئیر ہونے کے بعد ون ڈے اور ٹی 20 میں مکمل توانائی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو منوانے والے سابق ٹیسٹ کپتان نے شیخ زاید اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن اہم پریس کانفرنس میں ٹیسٹ کرکٹ سے خود کو علیحدہ کرنے کا درست اور بروقت فیصلہ کیا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں