حکومت کا آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ

آئی ایم ایف

وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے فوری مذاکرات شروع کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف سے فوری مذاکرات کی منظوری دے دی ہے۔

اسد عمر کا کہنا ہے کہ ملک جس مشکل حالات سے گزر رہا ہے پورے ملک کو ادراک ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے ایسا پروگرام لینا چاہتے ہیں جس سے معاشی بحران پر قابو پایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت یہ مشکل حالات چھوڑ کر گئی، ہم نے اس بحران سے نکلنے کے لیے بیک وقت متبادل راستے اختیار کرنے ہیں۔

ذرائع وزارت خزانہ کا بتانا ہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر دورہ انڈونیشیا میں آئی ایم ایف سے باضابطہ درخواست کریں گے، پاکستان کی درخواست کے بعد آئی ایم ایف وفد 10 روز میں پاکستان کا دورہ کرے گا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد اپنی شرائط لے کر پاکستان آئے گا، پاکستان کی آئی ایم ایف شرائط پر رضا مندی کے بعد پروگرام کو حتمی شکل دی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سارے عمل کے لیے 4 سے 6 ہفتوں کا وقت درکار ہوگا اور آئی ایم ایف پروگرام کا دورانیہ 3 سال ہو گا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل اسد عمر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں