اذیت گاہوں کو اسپتال کیسے بنایا جائے؟

loading...

سماج میں تبدیلی کا آغاز ہمیشہ تعلیم سے ہوتا ہے۔ تعلیم کے بعد صحت دوسرا شعبہ ہے، جو تبدیلی کے متمنی لوگوں کی توجہ کا طالب ہے۔ دنیا کے اگر سو ایسے ممالک کی فہرست بنائی جائے، جن میں عوام کو صحت کی نسبتا بہتر سہولیات میسر ہیں، تو ان میں شاید ڈنمارک، فرانس، انگلینڈ، سنگاپور اور بیش تر یورپی ممالک فہرست کے اوپر یعنی پہلے نمبروں پر آتے ہیں، اور فجی اور رومانیہ وغیرہ فہرست میں سب سے نیچے آتے ہیں۔ اور پاکستان کی طرح کے کئی ایسے تیسری دنیا کے پس ماندہ اور غریب ملک بھی ہیں، جو ان پہلے سو ملکوں کی اس فہرست میں کہیں نہیں آتے۔

کسی ملک میں صحت کی سہولیات کو جانچنے کے لیے کئی قسم کے پیمانے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے بچتے ہوئے سادہ زبان میں عرض ہے کہ اس سلسلے میں جو پہلی چیز دیکھی جاتی ہے، وہ کسی ملک کے شہریوں کی اوسط عمر ہے۔ اس طرح جس ملک میں شہریوں کی اوسط عمر سب سے زیادہ ہے، عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ وہاں کا نظام صحت اچھا ہے، جن ممالک میں ڈاکٹر، اسپتال یا ادویات کی سہولیات عام نہیں وہاں عموما لوگ چھوٹی موٹی بیماریوں، انفیکشن، وباوں، وائرس اور دوسری ایسی معمولی پے چیدگیوں سے مر جاتے ہیں، جن کا ترقی یافتہ دنیا میں کوئی سوال نہیں۔ اس طرح غریب اور پس ماندہ ممالک میں عورتوں، بچوں اور عام غریب لوگوں کی معمولی امراض میں اموات کی شرح زیادہ ہے۔
عمر کی طوالت سے صحت کی سہولیات کے تعلق کے کچھ معمولی استثنا بھی ہیں۔ یہ استثنا جاپان اور اٹلی کے کچھ گاوں ہیں جہاں لوگوں کی اوسط عمر دنیا میں سب سے زیادہ ہے، مگر ایسا ان کے نظام صحت کی وجہ سے نہیں۔ سائنس دان ان کی طویل عمری کا کریڈٹ نظام صحت کو دینے کے بجائے، ان کی خوراک اور رہنے سہنے کے قدرتی ماحول کو دیتے ہیں۔ ان کی خوراک میں زیادہ تر مچھلی شامل ہے اور رہن سہن بہت سادہ اور قدرتی ہے۔ مگر عام طور پر دنیا بھر میں اوسط عمر کو اچھا نظام صحت جانچنے کا ایک اہم ترین پیمانہ مانا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ناروے کے لوگوں کی اوسط عمر تقریباً تراسی سال ہے، کینیڈا بیاسی اور ریاست ہائے متحدہ امریکا میں یہ عمر اٹھہتر سال ہے۔

اچھے نظام صحت کو ناپنے کا دوسرا پیمانہ کسی ملک میں پائی جانے والی شرح اموات ہے۔ جیسے ناروے میں یہ شرح اموات ساڑھے تین فی صد ہے، جب کہ امریکا میں چھ کے قریب ہے۔ تیسرا پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ کسی ملک میں ڈاکٹروں کی تعداد کیا ہے، اور وہاں ایک ڈاکٹر اوسطاً کتنے افراد کے علاج معالجے اور دیکھ بھال کے لیے میسر ہے۔ جیسے سویڈن میں ایک ہزار افراد کے لیے تین اعشاریہ چھہ ڈاکٹر میسر ہیں، جب کہ امریکا میں ایک ہزار افراد کے لیے صرف دو اعشاریہ چار ڈاکٹر دست یاب ہیں۔ اسی طرح نرسیں، مڈ وائف اور صحت کے شعبے سے وابستہ دوسرے پیشہ ور لوگوں کی دست یابی بھی دیکھی جاتی ہے۔

صحت کے نظام کا معیار جانچنے کے لیے چوتھے نمبر پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی ملک میں صحت پر فی کس کیا خرچ کیا جا رہا ہے۔ پیمانہ یہ بھی ہے کہ صحت پر جی ڈی پی کا کتنے فی صد خرچ کیا جاتا ہے۔ اور جی ڈی پی کا جو حصہ مختص کیا جاتا ہے، اس کو آگے خرچ کیسے کیا جاتا ہے۔ آبادی کے اندر اس کی تقسیم کتنی منصفانہ ہے۔ اس کے فوائد عام آدمی تک بھی پہنچتے ہیں یا یہ صرف بڑے شہروں تک محدود رہتا ہے اشرافیہ کے کام آتا ہے، اور کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ جو ملک صحت کی مد میں زیادہ سے زیادہ وسائل منصفانہ، شفاف اور مساویانہ طریقے سے لگائے گا، اس کا نظام صحت اتنا بہتر ہو گا۔ اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ آسٹریلیا میں صحت پر فی کس اخراجات تقریباً تین ہزار ڈالر ہیں، اور امریکا میں سات ہزار سے اوپر۔ لیکن گلوبل رینکنگ میں امریکا، آسٹریلیا سے بہت نیچے ہے۔

دگنے خرچ کے باوجود رینکنگ میں نیچے ہونے کی وجہ حکومت کی پالیسی ہے، جو یہ تعین کرتی ہے کہ صحت کے بجٹ کو کیسے صرف کیا جائے، تاکہ یہ عام آدمی اور ضرورت مند تک بھی پہنچ سکے۔ اسی طرح اخراجات کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے عوامل بھی آتے ہیں، جن میں علاج کے مساوی مواقع، ادویات، علاج تک رسائی اور دوسرے کئی ایسے عناصر شامل ہیں۔
پہلے سو ممالک کی فہرست میں تیسری دنیا کے جن پس ماندہ ممالک کا ذکر نہیں آتا، ان میں پاکستان اور بھارت دونوں شامل ہیں۔ دونوں ملکوں میں آبادی بہت زیادہ ہے۔ اس تناسب سے آبادی کے ایک بڑے حصے کو ڈاکٹر یا صحت سے وابستہ دوسرے پیشہ ور لوگوں تک رسائی نہیں۔ دونوں ملک روایتی طور پر صحت کی مد میں بہت کم خرچ کرتے رہے، اور اب بھی بجٹ میں صحت اور تعلیم پر کچھ زیادہ نہیں خرچ کیا جاتا۔

PC: Parhlo

پاکستان میں نئی حکومت صحت کے بارے میں خاص ایجنڈا رکھتی ہے۔ وزیر اعظم کو صحت کے میدان میں ذاتی دل چسپی اور طویل تجربہ ہے۔ کرکٹ کے بعد اسپتال اور صحت ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔ اس لیے قدرتی طور پر عام لوگوں کو ان سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وہ ان توقعات پر کیسے پورا اترے ہیں۔ توقعات و خواہشات اپنی جگہ، مگر ان سب پر بھاری ایک چیز ہے، جسے ہم زمینی حقائق کہتے ہیں۔ زمینی حقائق کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑتا ہے، یا پھر آپ میں اتنی طاقت ہو کہ آپ زمینی حقائق ہی بدل دیں۔

ہماری زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا نظامِ صحت ہیبت ناک ہے۔ ہمارے اسپتال وہ کھنڈر ہیں، جن میں مریضوں کی شکل میں زندہ لاشیں پڑی ہیں۔ یہاں ان کو جسمانی تکلیف کم اور ان کو اور ان کے لواحقین کو ذہنی اذیت زیادہ اٹھانا پڑتی ہے۔ یہاں جو بد بو اور گندگی ہے، عملے کی فرعونیت اور بے پروائی ہے وہ ایک اچھے خاصے صحت مند انسان کو بیمار بنا سکتی ہے، چہ جائیکہ کسی مریض کا یہاں علاج ہو۔ اب ان اذیت گاہوں اور کھنڈرات کو اسپتالوں میں بدلنے کے لیے عزم، ارادے اور خواہشات کے ساتھ ساتھ مالی وسائل کی ضرورت ہے۔

یہ مالی وسائل کہاں سے آئیں گے۔ پاکستان میں بڑے بڑے اسٹیک ہولڈرز نے پہلے ہی اپنے اپنے حصے کا بجٹ طے کر رکھا ہے۔ ان میں سے آپ کس کا حصہ کاٹیں گے جو صحت کی مد میں خرچ ہو گا؟ دوسرا یہ کہ اگر وسائل ہوں بھی تو اہم سوال یہ ہے کہ آپ کی صحت پالیسی کیا ہے، اور اس پر پیسا کتنے منصفانہ اور شفاف انداز میں خرچ کیا جاتا ہے۔ سویڈن، ناروے، ڈنمارک اور آئس لینڈ میں صحت کی مد میں فی کس کے حساب سے امریکا کے مقابلے میں بہت کم خرچ کیا جاتا ہے، مگر نتائج اور معیار کے اعتبار سے امریکا کا ان ممالک سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ بسا اوقات وسائل کی فروانی نہیں، بلکہ جو بھی وسائل موجود ہوتے ہیں ان کی منصفانہ تقسیم ہی مسئلے کا حل ہوتی ہے۔ صحت کے شعبے میں آپ امریکا اور کیوبا کا تقابلی جائزہ لینے کے لیے یونیسف کے اعداد و شمار دیکھ لیں۔ حالاں کہ یہ تقابل بنتا نہیں۔ یہ سیب اور سنگترے کا تقابل ہے۔ امریکا ایک ترقی یافتہ، امیر ترین اور وسائل سے مالامال ایک وسیع و عریض ملک ہے۔ کیوبا ایک چھوٹا سے جزیرہ ہے، جس کے پاس محدود وسائل ہیں۔ لیکن کیوبا میں صد فی صد آبادی کو علاج معالجے کی مکمل اور مفت ورلڈ کلاس سہولیات میسر ہیں۔ دو ہزار پانچ کے اعداد و شمار کے مطابق کیوبا میں ایک لاکھ افراد کے لیے چھ سو ستائیس ڈاکٹر میسر تھے، جب کہ اسی سال امریکا میں ایک لاکھ افراد کے علاج کے لیے صرف دو سو پچیس ڈاکٹر موجود تھے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ پاکسان کا نظام صحت بہت خستہ حال ہے۔ اس شکستہ حال نظام کے لیے مختص بجٹ ہاتھی کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔ اس باب میں وسائل کے اضافے کے ساتھ ساتھ ان وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی ضروری ہے، تا کہ اس کی برکات ملک کے محروم طبقات تک بھی پہنچ سکیں۔
بیرسٹر حمید بھاشانی

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں