پاکستانی کھلاڑی مسجد اقصی میں، کیا اسرائیل راضی ہے؟

اسرائیل

صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے، اسرائیل کے بارے میں پاکستان کا وہی موقف ہے کہ جو مسلم امہ کا موقف ہے۔

صدر مملکت کا بیان یقیناًباعث اطمینان ہوتا اگر محض ایک روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے یو ٹرن کے فضائل و مناقب بیان نہ کیے ہوتے۔ وزیراعظم کے اس بیان کے بعد عوام ہر حکومتی بیان کے 180 اور 360 دونوں زاویوں کو ملحوظ رکھ کر حسب توفیق بندوبست کرنے پہ مجبور ہیں۔

زیادہ وقت نہیں گزرا کہ ایک اسرائیلی صحافی نے دعوی کیا کہ ہمارا جہاز اسلام آباد ائیرپورٹ پہ دس گھنٹے گزار کر واپس آیا ہے تو پاکستانی میڈیا نے وہ واویلا کیا کہ الامان الحفیظ، حکومت، اداروں اور حکومتی شخصیات کو اپنی اپنی جگہ پہ مختلف انداز میں وضاحتیں اور صفائیاں جاری کرنی پڑیں۔ ایسا پوسٹمارٹم ہوا کہ ممکنہ ہوائی جہاز کی پیدائش سے لے کر زندگی بھر کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا گیا، حالانکہ مذکورہ ممکنہ جہاز کا قصور محض اتنا بتایا گیا کہ وہ اسرائیلی ہے اور اسلام آباد میں اترا ہے۔

حالانکہ بقول ہارون الرشید اسرائیل کا ایک بندہ تو ہمیشہ ہی امریکی سفارتخانہ میں موجود ہوتا ہے، جس کے بارے میں حکومت کو پتہ ہوتا ہے۔ خیر اس بات کو چند دن ہی گزرے ہیں کہ پاکستان کی پوری فٹبال ٹیم بمعہ کوچ و دیگر آفیشلز کے اسرائیل (مقبوضہ فلسطین) پہنچ گئی، مگر اس دورے پہ میڈیا میں اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی۔

پاکستانی فٹبال ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں کا شمار ان گنے چنے خوش نصیب پاکستانیوں میں ہوتا ہے کہ جنہیں مسجد اقصی یعنی قبلہ اول میں نماز جمعہ ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم اس وقت مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں موجود ہے۔ فلسطین کے ساتھ دوستانہ فٹبال میچ کھیلنے کے لئے پاکستانی فٹبال ٹیم فلسطین گئی۔ قومی فٹبال ٹیم کے کھلاڑیوں اور دیگر آفیشلز نے قبلہ اول میں نماز جمعہ ادا کی ادائیگی کے بعد وہاں اپنی خصوصی تصاویر بنوائیں جو کہ اس وقت سوشل میڈیا پہ تیزی کے ساتھ وائرل ہوکر زیر بحث ہیں۔
پاکستانی فٹبال ٹیم کی قیادت صدام حسین کے پاس ہے جبکہ کھلاڑیوں میں یوسف اعجاز بٹ، احسان اللہ، عمر حیات، ارسلان علی، نوید احمد، ذیشان رحمان، مہدی حسن، یعقوب اعجاز بٹ، عدنان یعقوب، عمیر علی، حسن بشیر، محمد علی، محمود خان، نوید رحمان اور منصور جب کہ آفیشلز میں ہیڈ کوچ جوز اینٹونیو، معاون کوچ محمد حبیب، ٹرینر جوز روبرٹو اور محمد عدنان شامل ہیں۔ پاکستان ٹیم اس وقت فیفا میں 199 نمبر پہ جبکہ فلسطین کی ٹیم 159 نمبر پہ موجود ہے۔

دونوں ٹیمیں اس سے قبل بھی آپس میں متعدد میچز کھیل چکی ہیں، تاہم اب تک کے تمام میچز میں فلسطینی ٹیم کا پلڑا رہا۔ رام اللہ میں ہونے والے اس دوستانہ میچ میں پاکستانی ٹیم نے میچ کے آغاز میں انتہائی عمدہ کھیل پیش کیا اور 17 ویں منٹ میں کپتان صدام حسین کے خوبصورت پاس پر حسن بشیر کے ذریعے گول کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بعد ازاں فلسطینی ٹیم نے عمدہ کم بیک کیا اور پہلا ہاف ختم ہونے سے چند منٹ قبل مقابلہ 1۔ 1 گول سے برابر کرنے میں کامیاب ہو گئی، یہ گول الیکسز نے کیا۔

دوسرے ہاف میں دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کی، اس جدوجہد میں فلسطین کی ٹیم 76 ویں منٹ میں ناظمی البداوی کے ذریعے دوسرا گول کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ میچ کے بعد فلسطین کے صدر محمود عباس کی طرف سے پاکستان فٹبال ٹیم کے اعزاز میں پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں صدر محمود عباس نے گرین شرٹس کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور فلسطین کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے دورہ فلسطین بالخصوص قبلہ اول میں ادائیگی نماز کی تصاویر جاری ہونے کے بعد سے بیشتر پاکستانی انٹرنیٹ کے ذریعے فلسطین کے ویزہ فارم اور شرائط نامہ ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ فلسطین گرچہ ہمارے مطابق ایک ملک، ایک خطہ ہے، ایک ریاست ہے تاہم اس وقت فلسطین مقبوضہ ہے، جس پہ اسرائیل نامی ناجائز اور غیرقانونی قوت قابض ہے، لامحالہ بین الاقوامی مروجہ قوانین و ضوابط کی پاسداری کرتے ہوئے فلسطین جانے کے لئے اسرائیلی شرائط کی پابندی اور ویزہ کا حصول ضروری ہے۔

پاکستان کے تمام پاسپورٹس (سبز، سرخ اور نیلے ) پہ واضح طور پریہ عبارت درج ہوتی ہے کہ یہ پاسپورٹ ماسوائے اسرائیل کے تمام ممالک کے لئے کارآمد ہے، یعنی پاکستانی پاسپورٹ اسرائیلی ویزے کے لئے درخواست دہندہ نہیں ہوسکتا، جب اپلائی ہی نہیں کیا جاسکتا تو اسرائیلی ویزہ جاری بھی نہیں ہو سکتا، چنانچہ اگر ویزہ جاری نہیں ہو سکتا تو بین الاقوامی پرواز کے ذریعے مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) میں داخلہ ممکن ہی نہیں۔
دوسری جانب فلسطین میں داخلے کے ممکنہ طور پر تین سے چار راستے ہیں۔ ایک تو فضائی راستہ ہے کہ اسرائیل کے مختلف بین الاقوامی ائیرپورٹس کا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں داخلے کے تین ممکنہ راستے ہیں۔ مصر، اردن، لبنان۔ ان راستوں سے صحیح سلامت فلسطین میں داخل ہونے کے امکانات آج کل کافی کم ہیں۔ گرچہ پاکستانی فٹبا ل ٹیم کو قبلہ اول میں نماز جمعہ کی ادائیگی کا شرف حاصل ہوا ہے، جو کہ بیشتر فلسطینیوں کو بھی حاصل نہیں ہو پاتا اور عمومی طور پر نماز جمعہ کے لئے مسجد اقصی فلسطینیوں کے لئے بھی بند کردی جاتی ہے۔ پاکستانی فٹبال ٹیم کے مکمل سکواڈ کا سرکاری طور پر فلسطین میں صحیح سلامت پہنچنا، رام اللہ میں فلسطینی فٹبال ٹیم کے خلاف میچ کھیلنا، بعدازاں قبلہ اول میں نماز ادا کرنا اور آخر میں فلسطینی صدر محمود عباس کے عشائیہ میں شریک ہونا یقیناًاچنبھے کی بات ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور فلسطین کے مابین یہ فٹبال میچ 15 نومبر کو کھیلا جانا تھا مگر پاکستانی ٹیم کو بروقت ویزہ جاری نہیں ہوئے۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ پوری کی پوری پاکستانی فٹبال ٹیم دہری شہریت کی حامل تو نہیں کہ کسی اور ملک کے پاسپورٹ پہ اسرائیلی ویزہ جاری کیا گیا ہو، ظاہر ہے ویزہ کے لئے پاکستانی پاسپورٹ کا ہی استعمال کیا گیا ہوگا۔ چونکہ پاسپورٹ پہ اسرائیل کے خلاف واضح طور پر عبارت درج ہے تو اس کے لئے مروجہ طریقہ کار سے ہٹ کر طریقہ اپنایا گیا ہوگا، جس میں وزارت خارجہ نے بنیادی کردار ادا کیا ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ وزارت خارجہ نے تکنیکی اعتبار سے چاہے کوئی بھی راستہ اختیار کیا ہو، کیا وہ راستہ پاسپورٹ پہ درج عبارت، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بنیادی موقف اور آئین و قانون سے متصادم نہیں ہوگا؟ ایک صاحب دانش بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں کہ بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کے لیے کھلاڑیوں کے ویزہ جات کا طریقہ کار ذرا مختلف ہوتا ہے۔ اس میں اتنی گنجائش ہوتی ہے کہ ممالک اور ریاستوں کے مابین تنازعات کے باوجود بھی کھلاڑی کے لئے راستہ کھلا ہو۔

حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ کئی مرتبہ ہماری کبڈی ٹیم کو بھارت نے بروقت ویزے جاری نہیں کیے، جس کی وجہ وہ مقررہ وقت پہ میچ نہیں کھیل پائی، حالانکہ یہ میچز ٹورنامنٹ کے تھے جن میں خطے کی چند اور ٹیمیں بھی شامل تھیں، لہذا یہ دلیل کسی طور قابل قبول نہیں ہوسکتی کہ کھلاڑیوں کے لئے ویزہ کا عمل کوئی مختلف ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ پاکستان اور فلسطین کے مابین یہ ایک روزہ میچ نہ کسی بین الاقومی ٹورنامنٹ یا سیریز کا حصہ تھا اور نہ کھیلوں کی کسی عالمی تنظیم کے زیراہتمام کوئی رینکنگ مقابلہ تھا، بلکہ دونوں کے درمیان یہ ایک دوستانہ میچ تھا۔

پاکستانی فٹبال ٹیم نے فلسطین کا دورہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے کہ جب چند روز قبل ہی پی ٹی آئی کی عاصمہ حدید نے قومی اسمبلی میں بنا لگی لپٹی کے فلسطین کو اسرائیل کا ملک قرار دیا اور کہا کہ صہیونی مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اسرائیل سے تعلقات کے لئے کوئی راہ نکالنے کی ضرورت پہ زور دیا۔ اس سے قبل معروف تجزیہ کار ہارون الرشید نے میڈیا پہ بتایا کہ امریکی سفارتخانے میں اسرائیل کا ایک بندہ موجود ہوتا ہے کہ جس کے بارے میں ہماری حکومت کو پتہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ اسلام آباد ائیرپورٹ پہ اسرائیلی جہاز کی لینڈنگ کی افواہ بھی میڈیا کی زینت بنی رہی۔ اس مد میں مذہبی جماعتیں اور عوامی حلقے پہلے ہی حکومت کو باربار متنبہ کررہے ہیں کہ اسرائیل سے پیار و محبت کی پینگیں بڑھانے سے باز رہے۔ پاکستان اور فلسطین کی ٹیموں کے مابین فٹبال میچ قابل اعتراض نہیں بلکہ باعث اطمینان ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ان میچز میں کھلاڑیوں کی ٹھوکروں میں فٹبال ہی ہونا چاہیے۔ کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات، بانی پاکستان کا دوٹوک موقف اور پاکستان کا آئین و قانون ہرگز ہرگز نہیں ہونے چاہیں۔

پاکستانی فٹبال ٹیم کا حالیہ دورہ اس لحاظ سے باعث تشویش ہے کہ فلسطین میں داخلے کے لئے دفتر خارجہ نے کیا طریقہ کار اپنایا، اسرائیل کو کیسے راضی کیا اور ویزوں کے اجرا کے لئے کیا قیمت ادا کی گئی۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پاکستان اور فلسطینی عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور قیام پاکستان سے لے کر تاحال پاکستان نے عالمی سطح پہ کبھی بھی مسئلہ فلسطین سے عربوں یا دیگر چند اسلامی ممالک کی طریقہ مجرمانہ چشم پوشی نہیں برتی بلکہ ہمیشہ ہی مقدمہ فلسطین کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔

تمام تر مسلکی، سیاسی، لسانی یا گروہی اختلافات کے باوجود مسئلہ فلسطین پہ اہلیان پاکستان ہمیشہ ہی ایک صفحہ پہ دکھائی دیے۔ اگر کبھی خائن حکمرانوں نے پاکستان کے اس اصولی موقف سے خیانت کی کوشش بھی کی تو عوامی ردعمل کے سامنے یہ حکمران بے بس رہے، یہاں تک دور آمریت میں بھی اسرائیل سے تعلقات بنانے یا بڑھانے کی تمام تر کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکومت جو کہ پہلے ہی اپنے وعدوں اور موقف سے انحراف کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے، خود کو مزید کسی امتحان میں نہ ڈالے۔

عمران خان

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں