عزم و ہمت کا پیکر، مریم احمد

عزم و ہمت کا پیکر
loading...

مجھے نہیں پتہ کہ میری صحیح تاریخ پیدائش کیا ہے ؟کیونکہ جب میں پیدا ہوئی تو میرے جسم پر مکمل ہاتھوں کی بجائے صرف اس کے نشان تھے۔

سب نے میری ماں کو مشورے دیے کہ بچی کو اپنے جسم سے دور رکھو، اپنا دودھ نہ پلا ، افیون کھلا دو۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح میں خود ہی مرجاؤں گی۔ ان کی نظر میں ایک معذور بچی کا مر جانا ہی بہتر تھا۔ اسی پریشانی میں کسی کو میری پیدائش کی تاریخ بھی نہ یاد رہی۔

لیکن میری ماں نے میری معذوری کو خدا کی آزمائش سمجھتے ہوئے میری بھرپور خدمت کی اور ساتھ ہی خدا سے دعا بھی مانگی کہ اے خدا ! اس کو زندہ رکھنا ہے تو کسی کا محتاج نہ کرنا۔ اپنے بچپن کا یہ تکلیف دہ واقعہ بتاتے ہوئے مریم احمد کی آنکھوں میں تاسف کی بجائے مامتا کے جذبے کی صداقت کا احترام تھا۔ وہ جذبہ ، جس کی سچائی کے سامنے معذوری نے گھٹنے ٹیک دیئے اور بغیر ہاتھوں کی وہ بچی جس کی دنیامیں آمد کی تاریخ نہ رقم ہو سکی ، آج عزم و ہمت کی تاریخ رقم کرنے کا ہنر رکھتی ہے۔
27

سالہ مریم احمد آج عورت فانڈیشن لاہور میں ایک ذمہ دار عہدہ پر کام کر رہی ہے۔ گھریلو کام سے لے کر بسوں میں  سفر کرنے ، اور نوکِ قلم سے لے کر کمپیوٹر سے متصل(Key Pad) کے حروف سے تعلیمی اور تخلیقی معجزے سر انجام دیتی ہیں۔

ملتان کے ایک چھوٹے سے گاؤں جہانیان میں رقیہ بیگم اور بشیر احمد کے گھر پیدا ہونے والی مریم نے بتایا ، ہم کل آٹھ بہن بھائیوں میں میرا نمبر ساتواں ہے۔ والد گاؤں کے اسکول میں استاد تھے۔انتہائی غربت میں زندگی بسر کرنے کے باوجودہم نے سادہ لیکن بھرپور زندگی گزاری۔ ماں باپ نے پوری کوشش کی کہ ہم سب اعلی تعلیم حاصل کریں۔ میرے ابا کو اقبال اور سعدی کی شاعری سے عشق تھا۔ فارسی پر انہیں عبور حاصل تھا۔ دونوں شاعروں کا کلام ابا کی رگ رگ میں بسا ہوا تھا۔ وہ رات کو ہمیں اپنے سینے پر لٹا کر ان کے اشعار سناتے تھے۔ اور پیغمبروں کی عظمت کی مثالیں دیتے تھے کہ کس طرح انہوں نے غربت میں زندگی بسر کی۔ اور اکثر یہ شعر دہراتے

مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

مریم نے یہ بھی بتایا کہ ان کی پیدائشی معذوری کی وجہ یہ ہے کہ ان کی والدہ نے دورانِ حمل تھیلوڈومائیڈ

(Thalodomide )کھائی۔ اس زمانے میں دوا کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچوں میں جسمانی نقص پائے جاتے تھے لہذا بعد میں اس دوا پر پابندی لگا دی گئی۔
اپنے بارے میں مزید بتایا کہ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے اپنی معذوری کا کوئی احساس نہ تھا۔ کیونکہ میرے امی ابا نے مجھے اپنے دوسرے نارمل بچوں کی طرح پالا۔ اسی طرح کام کروانا، غصے میں پٹائی کر دینا ، کوئی رحم والا رویہ نہیں تھا۔ تین سال کی عمر میں پڑھانا اور پھر اسکول بھیجنا شروع کر دیا۔ میں شروع ہی سے ہر درجہ میں پوزیشن لیتی رہی۔ اعتماد سے زندگی گزارنے میں گھر والوں کے علاوہ اسکول کے اساتذہ اور ساتھی بچوں کا بھی بڑا اہم کردار تھا۔

میں گھر میں کھانا پکانے ، کپڑے دھونے اور صفائی ستھرائی جیسے تمام کام کرتی تھی۔ اسکول میں بھی بہترین طالبہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ مانیٹر بنا دی جاتی۔ میری اساتذہ نے کام لینے میں مجھ سے کوئی رعایت نہیں کی۔ بلکہ جان بوجھ کر زیادہ کام کرواتیں تاکہ مجھ میں کسی قسم کا احساسِ کمتری نہ پیدا ہو۔ میں تعلیم کے علاوہ اسکول کے ڈراموں اور موسیقی کے پروگراموں میں بھی حصہ لیتی تھی۔ اور نویں دسویں میں مجھے پہلا انعام ملا۔اپنی معذوری کا احساس پہلی بار اس وقت ہوا ، جب آٹھویں جماعت میں ہماری کلاس ٹیچر نے ہم سب بچوں کا گروپ فوٹو اتروایا۔ جب میں نے تصویر دیکھی تو پہلی بار احساس ہوا کہ میں نارمل نہیں اور بغیر ہاتھوں کے کتنی بری لگتی ہوں۔ غم اور غصے کے مارے میں خوب روئی۔ اس دن گھر جا کر میں نے اپنے آپ کو آئینے میں غور سے دیکھا۔ جہاں ہاتھوں کے بغیر ایک لڑکی تھی۔

اب مجھ میں احساسِ کمتری پیدا ہو گیا تھا۔ میں راتوں کو روتی اور قرآنی معجزوں کا سوچتی۔ ہر رات خدا سے دعا کر کے سوتی کہ جب صبح اٹھوں تو میرے دونوں ہاتھ ہوں۔ خدا پر یقین اتنا بھرپور تھا کہ روز یہی دعا مانگتی۔ خدا کو چیلنج کرتی کہ واہ اللہ میاں ، پیغمبروں کو بڑے معجزات عطاکیئے ہیں۔ کیا مجھے دو ہاتھ نہیں دے سکتا ؟مزے کی بات یہ کہ میں کبھی کسی کے سامنے نہ روتی کہ میرے گھر والوں کو دکھ نہ ہو۔تعلیم سے دلچسپی رہی اورہر سال اپنی قابلیت کی بنیاد پر وظیفہ لیا اور میں گاؤں کی پہلی لڑکی تھی جس نے ملتان ڈگری کالج میں داخلہ لیا۔ میرے مضامین معاشیات ، ریاضی اور شماریات تھے۔ گو خود میرا ارادہ آئی ایس ایس بی کا ٹیسٹ دے کر آرمی میں جانے کا تھا ، لیکن اس خواہش کی تکمیل میں میری معذوری آڑے آئی۔

دورانِ تعلیم میری زندگی کے کٹھن ترین سال کالج کے ہاسٹل میں تھے۔احساسِ کمتری کی وجہ سے میں آہستہ آہستہ اپنے خول میں بند ہوتی جا رہی تھی۔ لوگوں کے سامنے جانے سے کتراتی تھی۔ ہر وقت سوچتی کہ یہ زندگی کیسے کٹے گی۔ باوجود کسمپرسی کے میرے ماں باپ میری تعلیم کے لئے محنت کرتے تھے۔ میرے ابا نے کسی نہ کسی طرح میرے اکانٹ میں اضافی رقم جمع کروا دی تھی۔ کہ فیس کی ادائیگی میں کسی قسم کی کمی نہ ہو۔ اس طرح احساسِ کمتری کے باوجود میری پڑھائی بالکل نارمل چل رہی تھی۔ مجھے تعلیم سے کوئی رغبت نہ رہی تھی ، صرف ماں باپ کی خوشی کی خاطر پڑھ رہی تھی۔ پھر بھی گریجویشن میں فرسٹ کلاس آئی۔ لیکن مجھے اپنے مستقبل میں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ تاہم ایم اے میں داخلہ لیا اور 2000 میں بہا الدین زکریا یونیورسٹی سے اچھے نمبروں سے کامیاب ہو گئی۔

عورت فانڈیشن سے کس طرح منسلک ہوئیں ؟

ہو ایہ کہ ایم اے کے امتحان ختم ہونے کے بعد میں لاہور اپنی بہن کے گھر آ گئی۔ ابھی تک وہ گھر کو سہارا دے رہی تھی۔ اس کی شادی کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے نوکری کی تلاش شروع کر دی۔ کیونکہ اب مجھے احساسِ ذمہ داری پیدا ہو گیا تھا۔ میں نے ہر جگہ درخواستیں دینی شروع کر دیں ، لیکن بے سود۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب چیمبر آف کامرس کے اہم عہدے دار نے مجھے نوکری کے بجائے ٹیوشنز کا مشورہ دیا کہ اچھی نوکری تمہیں نہیں مل سکتی ۔ پھر ایک نجی بینک کے منیجر نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ بی بی ! بجائے نوکری کے گھر بیٹھو اور شادی کرو۔

میں نوکری کی تلاش میں ماری ماری پھرتی رہی۔ مجھے لگتا تھا کہ یہ دنیا ایک جنگل ہے ، جس میں جنگلی جانوروں کے بیچ ایک معصوم بچہ کو چھوڑ دیا گیا ہو۔ ان تجربات نے میری ہمت توڑ دی تھی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے ، ستمبر کی تاریخ اور جمعرات کی شب تھی۔ اور میں اپنی بہن کے گھر کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھی دو تین بجے رات تک اس قدر روئی کہ گویا عرش کو ہلا دیا۔ میں نے خدا سے کہا کہ میں نے تو امتحان کے کسی پرچے میں تین گھنٹوں ( مقررہ وقت ) سے زیادہ کبھی وقت نہیں لیا۔ یہ ڈگری میں نے پیسے دے کر نہیں لی ، آخر میں نوکری کیوں نہیں کر سکتی ؟پھر میں نے اللہ سے کہا ، میں تمہاری ذات پر اندھا اعتماد کرتی ہوں۔ اور اگر کل تک مجھے اچھی ، کم از کم پانچ چھ ہزار ماہانہ تنخواہ کی نوکری نہیں ملی تو تمہارے وجود سے میرا اعتماد اٹھ جائے گا۔ میں سمجھوں گی کہ تو ہے ہی نہیں ، اور کل چار بجے ٹرین کے نیچے آکر کافر کی موت مر جاں گی( اس وقت گھر کے سامنے قاسم پورہ سے ٹرین گزرتی تھی۔ )میں نے تم سے عشق کیا تھا لیکن اب منکر ہو کر مروں گی۔

دوسرے دن جمعہ تھا۔صبح گیارہ بجے کے وقت میں نے بہن سے جھوٹ بولا کہ چیمبر آف کامرس سے نوکری کے لئے فون آیا ہے۔ میں نے خود سے یہ بھی سوچا کہ شاید وہاں معذوروں کے کوٹے میں نوکری مل جائے ، لیکن اس دن انہوں نے پہلے سے تلخ لہجے میں جواب دیا کہ گھر ٹیوشنز پڑھا لیں

میں مایوسی کے ساتھ ٹوٹے ہوئے دل سے واپس لوٹنے لگی۔ میری آنکھیں ویران اور ہر قدم بوجھل تھا۔ راستے میں مجھے گھر کے لئے چائنا چوک سے الٹی جانب مڑنا تھا لیکن نہ جانے کس طرح سیدھی طرف قدم مڑ گئے۔ تھوڑے فاصلے پر عورت فانڈیشن کا بورڈ نظر آیا اور سیکنڈ میں فلور پر پہنچ گئی۔استقبالئے والوں سے کہا۔ مجھے نگار سے ملنا ہے۔ اس نے پوچھا۔

کیا کام ہے ؟کیا آپ انہیں جانتی ہیں ؟میں نے کہا نہیں۔ لیکن آپ انہیں بلائیں ، مجھے ان سے بات کرنی ہے۔ میں نے باغی لہجہ میں مزید کہا، عورتوں کے نام سے فانڈیشن تو بنا لی ہے ، لیکن اگر عورتوں کی بات سننے کے لئے وہ نہ آئیں تو میں سمجھ لوں گی کہ یہ سب جھوٹ ہے، اور میں خود کشی کر لوں گی۔ اتفاق سے جمعہ کا دن تھا اور نگار آفس میں موجود تھیں۔ تھوڑی دیر میں ایک باوقار اور محبت سے بھرپور خاتون باہر آئیں ، یہ نگار تھیں۔(جاری ہے)

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں