سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کو گرفتار کر لیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق ایرانی صدر پر ایران میں ہونے والے حالیہ پردتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ تاہم انہیں گھر میں ہی نظر بند کر نے کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔

 سابق ایرانی صدر  احمدی نژاد  پر لوگوں کو حکومت کے خلاف مظاہروں پر اکسانے اور بدامنی کی فضا پیدا کرنے کے الزامات ہیں۔  اطلاعات کے مطابق احمدی نژاد  کو ایران کے شہر شیراز سے گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی منظوری کے بعد احمدی نژاد کو گھر پر نظر بند کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

loading...

یاد رہے کہ 28 دسمبر 2017 کو مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے تھے۔  ان مظاہروں کی لہر پورے ایران میں پھیلی اور پُرتشدد مظاہروں میں اب تک تقریباً 21 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مظاہرین کی سڑکوں پر آنے کی بڑی وجہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری بتائی جاتی ہے۔

غلط معاشی اور انتظامی پالیسیوں پر کڑی تنقید سابق صدر بھی اپنی تقریروں میں کرتے رہے ہیں۔ اسی حوالے سے انہوں نے گزشتہ مہینے بشہر شہر کے دورے دوران کہا کہ ایران اس وقت انتظامی بحران سے گزر رہا ہے اور ایرانی حکومت کو عوام کے مسائل کی پرواہ نہیں ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں