پاکستان فلم انڈسٹری کے دبنگ اور بادشاہ ، سلطان راہی کی 22 ویں برسی 9 جنوری کو منائی جائے گی۔

1971 ء میں فلم ’’بابل ‘‘میں   بدمعاش کے چھوٹے سےکردار سے شہرت کا آغاز  کرنےوالے اور پھر پاکستان فلم انڈسٹری پر کم بیش 25 سالوں  تک راج کرنے والے ورسٹائل اور دبنگ اداکار سلطان راہی کی 22 ویں برسی 9 جنوری بروز منگل  کو منائی جائے گی ۔برسی کی تقریب انکے صاحبزادے حیدر سلطان کی رہائشگاہ پر منعقد ہو گی جس میں فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے سلطانہ راہی کے دیرینہ دوست اور دیگر شرکت کریں گے اور نماز عصر کے بعد دعا کروائی جائے گی۔ یاد رہے کہ   9 جنوری 1996ء کو جب  سلطان راہی  اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور آرہے تھے تو راستے میں انہیں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا اور آج تک ان کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے ۔ وہ لاہور میں شاہ شمس قادری کے مزارکے احاطے میں آسودہ خاک ہیں۔محمد سلطان المعروف سلطان راہی کا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آیا اور کراچی منتقل ہو گیا ۔ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے مختلف اسٹیج ڈراموں میں اداکاری کا آغاز بھی کر دیا اور پھر ان کا یہی شوق انہیں راولپنڈی سے لاہور لے آیا جہاں انہوں نے فلموں میں ثانوی کردار ادا کرنے کے ساتھ اسٹیج ڈراموں میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا۔سلطان راہی مرحوم نے نے اپنی فلمی کیریئر کا آغاز فلم ’’باغی ‘‘میں ایک معمولی سے کردار سے کیا تھا اس کے بعد وہ خاصے عرصے تک فلموں میں چھوٹے موٹے کردار ہی ادا کرتے رہے۔  1972ء میں بطور ہیرو ان کی پہلی فلم ’’بشیرا ‘‘ریلیز ہوئی اس فلم نے انہیں بام عروج تک پہنچادیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ پاکستان کے فلمی صنعت کے سب سے مقبول اور سب سے مصروف اداکار بن گئے۔سلطان راہی نے مجموعی طور پر 804 فلموں میں کام کیا جن میں500 سے زیادہ فلمیں پنجابی زبان میں اور 160 فلمیں اردو زبان میں بنائی گئی تھیں جبکہ 50سے زیادہ فلمیں ڈبل ورژن تھیں۔ ان میں سے 430 فلمیں ایسی تھیں جن کے ٹائٹل رول سلطان راہی نے ادا کئے تھے۔ ان کی مشہور فلموں میں بشیرا، شیر خان ،مولا جٹ، سالا صاحب، چند وریام،آخری جنگ ،شعلے ،راستے کا پتھر، ان داتا،خان چاچا ،گنڈاسہ ،شیر خان ،وریام،گجر دا ویر،سخی بادشاہ ، مولا جٹ،ملنگا،دھی رانی،رانی بیٹی راج کرے گی،گجر بادشاہ ،بابل،بابل صدقے تیرے ،آخری چٹان، سالا صاحب ،ببرک،بختاور،دوستی تے دشمنیکے نام سرفہرست ہیں۔ سلطان راہی مرحوم نے اپنے دور کی نامور ہیروئینوں آسیہ ، ممتاز، انجمن، نیلی، نادرہ، نجمہ، صائمہ اور گوری سمیت دیگر کے ہمراہ کام کیا۔اداکار مصطفی قریشی کے ہمراہ مرحوم کی جوڑی طویل عرصہ سپر ہٹ رہی۔وہ ایک مخیر شخص تھے اور انہوں نے اپنے ذاتی خرچ پر کئی مساجد بھی تعمیر کروائی تھیں۔ (ذرائع این این آئی)

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں