آخر بیرون ملک سے ڈاکٹری کی ڈگری لینے والے حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پرکیوں مجبور

بیرون ملک سے ڈاکٹری کی ڈگری لینے والے حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور
loading...

حکومتی عدم توجہی ہمارے نوجوان ڈاکٹرز ڈگریاں لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور تقریبا”3ہزار سٹوڈنٹس جو کہ دراصل تین ہزار خاندان ہیں جو مختلف ممالک چین ، روس ،کیوبا ، یوکرائن وغیرہ سے ڈاکٹر بن کر آئے ہیں۔
پی ایم ڈی سی کے قانون کے مطابق بیرون ملک کے گریجویٹس کو این ای بی  .
( نیشنل ایگزا مینشن بورڈ) کے تحت امتحان پاس کرنا لازمی ہے (پی ایم ڈی سی ) کے اپنے قانون کے مطابق یہ امتحان سال میں دو مرتبہ منعقد کرانا ہوتا ہے لیکن پچھلے چار سال سے صرف ایک بار ہی یہ امتحان منعقد کرایا جا رہا ہے جس کی اصل وجہ پی ایم ڈی سی کی عدم توجہی ہے۔

، دنیا میں میڈیکل لائسنس کے امتحانات ہفتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں ، جب کہ پاکستان میں ایسا سالوں بعد بھی ہوتا نظر نہیں آ رہا ۔۔نئے ڈاکٹرز کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ پی ایم ڈی سی کو مختلف یونیورسٹیز کا سہارا لئے بغیر خود یہ امتحان لینے کا پابند کیا جائے.اور یہ امتحان سال میں کم از کم چار مرتبہ لیا جائے

.٬ اگر یہ ابھی ممکن نہ ہوتو سٹوڈنٹس کو امتحان کی کار بن کاپی مہیا کی جائے اور امتحان کے فورا” بعد آفیشل ویب سائیٹ پر )شائع کی جائے. کیونکہ پی ایم ڈی سی طلبا کو کاربن پیپر کی کاپی مہیا نہیں کرتی اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ کامیاب طلبا کا تناسب آٹھ فیصد سے دس فیصد رکھنا مقصود ہوتا ہے جس کا نقصان سب سے زیادہ بیرون ملک سے پڑھ کر آنے والے ایم بی بی ایس طلبا کو ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں