کیتھولک مسیحیوں کے مقدس شہر ویٹیکن کے امریکہ میں سفارت کار چائلڈ پورنوگرافی رکھنے کے الزام میں گرفتار

چائلڈ پورنوگرافی

سفارت کار پر ویٹیکن کے قوانین کے تحت فرد جرم عائد، پانچ سال تک کی قیداڑھائی ہزار سے پچاس ہزار یورو تک جرمانہ متوقع

گزشتہ سال واشنگٹن کے سفارت خانے میں خدمات سر انجام دینے والے ویٹیکن کے ایک سفارت کار کارلو ایلبرٹو کپیلا کو چائلڈ پورنوگرافی (بچوں کا فحش مواد) رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کارلو ایلبرٹو کپیلا کو ویٹیکن کے گارڈز نے گزشتہ روز انہیں حراست میں لے لیا۔ اس بارے میں جاری کردہ ویٹیکن کے بیان میں بتایا گیا کہ وہ اس وقت حراست میں ہیں اور انہیں وسیع پیمانے پر چائلڈ پورنوگرافی رکھنے کے سبب گرفتار کیا گیا ہے۔ کپیلا پر ویٹیکن کے قوانین کے تحت فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

2013 کے ایک قانون کے مطابق ایسے جرائم کی سزا ایک تا پانچ سال کی قید سمیت ڈھائی ہزار سے لے کر پچاس ہزار یورو تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کی نوعیت اگر بڑی ہو، تو قانون میں ان سزاؤں میں اضافے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ سفارت کار کارلو ایلبرٹو کپیلا گزشتہ سال  واشنگٹن کے سفارت خانے میں خدمات سر انجام دے رہے تھے تاہم امریکی حکام کی جانب سے ان پر چائلڈ پورنوگرافی کے شکوک و شبہات کی وجہ سے گزشتہ برس ستمبر میں انہیں واپس بلا لیا گیا تھا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں