کیا آپ جانتے ہیں شطرنج کا آغاز ایک چاول کے دانے سے کیسے ہوا؟

شطرنج
loading...

شطر نج کا شما ر دنیا کی قدیم تر ین کھیلوں میں ہو تا ہے۔ اس کو بادشاہوں کا کھیل کہا جا تا ہے۔ اس کھیل کا اصل نام چتررنگا تھا۔ جو بعد میں تبدیل ہو کر شطرنج بن گیا ۔

ابتدا میں یہ کھیل راجہ،مہا راجہ شہزادے اور با د شا ہ ہی کھیلا کر تے تھے۔شطر نج کا کھیل چھٹی صدی عیسوی میں بر صغیرمیں ایجاد ہوا۔ وہاں تین ہزار(3000) سال قبل گیتا خا ندان کی حکو مت قا ئم تھی ۔ وہا ں کا با د شا ہ  کھیل میں بہت د لچسپی رکھتا تھا ۔

ایک دن اس نے اپنی رہا ست میں اعلان کر وایا کہ وہ پرانے کھیلوں سے تنگ آچکا ہے ۔ اب جو کو ئی بھی نیا کھیل متعا رف کر وائے گا اسے منہ ما نگا انعا م دیا جا ئے گا ۔ بہت سے لو گو ں نے اپنے اپنے کھیل متعا رف کروائے لیکن با دشا ہ مطمئن نہ ہو سکا ۔

 آخر ساتھ والی ریا ست سے ایک ریاضی دان جس کا نام سیسا تھا۔ شطر نج کا کھیل لے کر با دشا ہ کے پاس حا ضر ہو ا ۔ با دشاہ یہ کھیل دیکھ کر بہت خو ش ہو ااور اس نے خو شی کے عالم میں سیسا سے پو چھا ما نگوکیا ما نگئے ہو ۔

شطر نج

 سیسا نے چند لمحے سوچااور پھر بادشاہ سے کہا “چا ول کے چند دانے”  بادشاہ نے کہا کیا مطلب؟ سیسا بولا آپ شطرنج کے چونسٹھ دانے چاولوں سے بھر دیں لیکن میرے فارمولے کے مطابق با دشاہ نے پو چھا یہ فار مو لا کیا ہے ؟ سیسا بولا آپ پہلے دن خا نے میں چا ول کا ایک دانا رکھ کہ مجھے دے دیجئے۔

دوسرے دن دوسرے خا نے میں پہلے خا نے کے مقا بلے میں دگنے چا ول یعنی چاول کے دو دانے رکھ دیں۔

 تیسرے دن تیسرے خا نے کے مقا بلے میں پھر دگنے چاول یعنی چار دانے رکھ دیں ۔اور اسی طرح آپ ہرخا نے میں چاولوں کی مقدار کو ڈبل کر تے جا ئیں۔ یہاں تک کہ چونسٹھ خا نے پورے ہوجا ئیں۔

بادشاہ نے سیسا کے اس بے وقوفانہ مطا لبے پر قہقہہ لگایا اور یہ شرط قبول کرلی اور پھریہاں سے دنیا کی وہ گیم شروع ہو ئی جس سے آج ما ئیکر وسافٹ جیسی کمپنیوں نے جنم لیا۔

مزید پڑھیں۔  شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے مابین پنجاب کی وزارت اعلی کی رسہ کشی زور و شور سے جاری

یہ بظا ہر تو آسان سا کام دکھا ئی دیتا ہے لیکن یہ دینا کا مشکل تر ین معمہ ہے اور آج ساڑھے تین ہزار سال گزر جا نے کے بعد بھی شطرنج کے ان چونسٹھ خانوں کو چا ولوں سے بھر نا ممکن نہیں۔

بادشاہ نے پہلے دن شطر نج کے پہلے خا نے میں چاول کا ایک دانہ رکھا اور اسے اٹھا کہ سیسا کو دے دیا ۔ سیسا چلا گیا ۔ دوسر ے دن دوسر ے خا نے میں چاول کے دو دانے رکھ دیئے ۔تیسرے خا نے میں چاولو ں کی تعداد چار ( 4 ) ہو گئی ۔

شطر نج

چو تھے دن آٹھ (8) پانچو یں دن تعداد سولہ (16)  ہوگئی ، چھٹے دن یہ تعدادبتیس (32) ہو گئی ۔ ساتو ں دن یہ جوسسٹھ (64) ہو گئے۔

 آٹھویں دن یعنی شطر نج کے بو ٹ کی پہلے روکے آخر ی خانے میں ایک سوآٹھائیس( 128)چاول ہو گئے ۔ اور نو یں دن ان کی تعداد دوسو چھین [256) ہو گئی ۔

 دسویں دن پانچ سو با رہ (512) ہو گئے ۔گیارہویں دن ان کی تعداد ایک ہزارچوبیس (1024) ہو گئی ۔ بادہو یں دن یہ دو ہزار اڑتالیس (2048) ہو گئے ۔ اسی طر ح تیرہوں دن ان کی تعداد چارہزار چھیا نوے( 4096) ہو گئی ۔ چودھو یں دن یہ آٹھ ہزار ایک دو بیانوے( 8192) ہو گئے ۔

شطر نج

 پندرہویں دن سو لہ ہزار تین سو اڑتا لیس (16348) سو لہویں دن یہ دو ہزار سات سو اٹھا سٹھ( 2768) ہو گئے اور یہا ں پہنچ کہ شطر نج کی دو قطادیں مکمل ہو گئی اور یہاں پہنچ کہ با د شا ہ کو تھو ڑا تھو ڑا اندازہ ہو نے لگا کہ وہ کس مشکل میں پھنس چکا ہے۔

 وہ خو د اور اس کے سارے وزیر مشیرسارا دن بیٹھ کہ چا ول گنتے رہئے شطر نج کی تیسری قطار کے آخری خا نے تک پہنچ کہ چا ولو ں کی تعداد اسی لا کھ( 8000000) تک پہنچ گئی اور بادشاہ کو چاولوں کومیدان تک لانے اور سیسا کویہ چاول کھا نے کے لیے درجنوں لو گو ں کی ضر ورت پڑ گئی ۔

مزید پڑھیں۔  کوئی بھی نجی میڈیکل کالج 6 لاکھ 45 ہزار سے زائد فیس وصول نہیں کرے گا،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار

جب شطر نج کی چو تھی رو یعنی تیستیسواں ( 33) خا نہ شر وع ہوا تو پو رے ملک سے چا ول ختم ہو گئے ۔ بادشاہ حیران رہ گیا ۔

اُس نے اُسی وقت ریاضی دان کو بلا یا اور ان سے پو چھا کہ شطرنج کے چو سٹھ خا نو ں کے لیے کتنے چاول درکار ہوں گے اور ان کے لیے کتنے دن چا ہیے ۔بادشاہ کے وہ ریا ضی دان کئی دنوں تک بیٹھے رہے لیکن وہ وقت اور چاولوں کی تعدادکا اندازہ نہیں لگا سکے۔

شطر نج

 یہ اندازہ ساڑھے تین ہزار سال بعد بل گیٹس[Bill Gata] بے لگابل گیٹس کا خیال ہے کہ اگر ہم ایک کے ساتھ انیس زیرولگا ئیں تو شطرنج کے چونسٹھ خانوں میں اتنے چاول آئیں گے۔

 بل گیٹس کا کہنا ہے کہ اگر ہم ایک بوری میں ایک ادب چاول بھریں تو ہمیں چاول پو رے کرنے کے لیے   لیے اٹھا رہ ادب 18billion بوریاں درکار ہو ں گی اور ان چاولو ں کو گننے شطر نج پر رکھنے اور اٹھانے کے لیے ڈیڑھ ارب 1.5  سال چا ہیںیہں حساب عام کیلکو لیٹر calculatorسے نہیں لگا یا جاسکے گا۔ یہ صرف کمپیوٹر کے ذریعے ہی کیلکولیٹ کیا جا سکتا ہے ۔

شطر نج بنا نے وانے اور گیتا بادشاہ کو اس خوفنا ک مسئلے میں پھسنا نے والے سیسا نے شطر نج کی چوتھی رو میں پہنچ کہ گر فتارکروادیا کیونکہ بادشاہ کو شطر نج کے آدھ میں پہنچ کہ چاول پو رے کر نے کے لیے ساڈھے پانچ دن لگ گئے تھے ۔

شطر نج

وہ اگلے خانوں کی طرف بڑھا تو ملک سے چاول ختم ہوگئے جس سے بادشاہ چلا اٹھا اور انتہائی غصے میں شطر نج بنا نے واے کا سر قلم کروادیا۔ اور شطرنج بنانے والاتو ماراگیا لیکن شطرنج کی سر دردی آج بھی قا ئم ہے۔

 شطرنج بھارت سے ایران پہنچی۔ وہاں سے بغداد پھر سے سپین[Spain]اور سپس سے یورپ چلی گئی اور آج پوری دنیا میں یہ کھیل کھیلا جاتا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں