چین کی آبادی کو بڑھانے کے لیے کیا کیا جائے؟

چین کی آبادی
loading...

دنیا کے سب سے گنجان آباد ملک چین میں  1979میں ‘ون چائلڈ پالیسی‘ اپنائی گئی۔ جس کو بعد میں ختم کرکے دو بچوں کی اجازت دے دی گئی۔ جس  کے باوجود چین کی آبادی میں کمی دیکھی جا رہی ہے اور اب یہ قومی مسئلہ بھی بنتا جا رہا ہے۔ چینی سرکار نے نوجوانوں سےجلدی شادی کر کے خاندان شروع کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

چائینہ:  گزشتہ دنوں چین کے ایک سرکاری اخبار میں سرخی لگائی گئی کہ’بچے کی پیدائش خاندانی معاملہ ہے اور قومی مسئلہ بھی۔‘حکومت عوام کو زیادہ بچے پیدا کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرتی نظر آرہی ہے۔

ایک اور چینی اخبار میں ایک کالم چھاپا گیا جس میں انتباہ جاری کیا گیا ہے چین میں پیدائش کی کم شرح معیشت اور معاشرے پر اثر انداز ہونا شروع ہو گئی ہے۔اس کالم نے لاکھوں مبصرین کی توجہ اپنی طرف مرکوز کی۔

علاوہ ازیں چین میں ایک سر کاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں بچوں کی تعداد میں اضافے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ایسا ہی ایک ڈاک ٹکٹ 2016میں جاری کیا گیا تھا جس میں آرٹ ورک کے ذریعے والدین کو ایک بچے کے بجائے دو بچے پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔

چین کے قومی ادارۂ شماریات کے مطابق 2017ء میں چین میں ایک کروڑ 72 لاکھ سے زائد بچے پیدا ہوئے جو کہ 2016ء کے مقابلے میں کم ہیں۔ادارے کے مطابق 2016ء میں ملک میں ایک کروڑ 78 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوئی تھی۔

چین کی آبادی ایک ارب 40 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور وہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ آبادی پر قابو پانے کے لیے چین کی حکومت نے ون چائلڈ پالیسی کا نفاذ کیا تھا جسے 2015 میں ختن کیا گیا۔

چین کی کمیونسٹ حکومت نے 1979ء میں ‘ون چائلڈ پالیسی نافذ کی تھی جس کی خلاف ورزی کرنے والے والدین کو بھاری جرمانوں اور بعض اوقات متوقع ماؤں کو زبرستی اسقاطِ حمل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

‘ایک بچہ پالیسی کے خاتمے کے آغاز کے اگلے ہی برس 2016ء میں چین میں شرحِ پیدائش میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن نئے اعداد و شمار کے مطابق 2017ء میں یہ شرح دوبارہ کم ہوئی ہےتاہم محکمۂ شماریات کے اعداد و شمار کے باوجود چین کے صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے قومی کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ سال بھی چین میں شرحِ پیدائش’معمول سے خاصی بلند رہی ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں