وفاقی حکومت نے امجد جاوید سلیمی کو آئی جی پنجاب تعینات کردیا

آئی جی پنجاب

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو تبدیل کرکے امجد جاوید سلیمی کو صوبے کی پولیس کا نیا سربراہ تعینات کردیا۔

عام اتنخابات 2018 کے موقع پر چاروں صوبوں کے پولیس سربراہان کو تبدیل کیا گیا تھا جس کے تحت پنجاب میں خدمات انجام دینے والے گریڈ 22 کے افسر امجد جاوید سلیمی کو آئی جی سندھ تعینات کیا گیا تھا تاہم الیکشن کے بعد امجد جاوید کو ہٹا کر آئی جی پنجاب کلیم امام کو آئی جی سندھ تعینات کیا گیا۔

وفاقی حکومت نے پنجاب کے آئی جی پولیس طاہر خان کو ایک ماہ دو دن بعد ہی تبدیل کردیا اور ان کی جگہ سابق آئی جی سندھ امجد جاوید سلیمی کو تعینات کیا گیا ہے جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیاگیا ہے۔ امجد جاوید سلیمی پولیس سروسز کے 14ویں کامنتھ سے تعلق رکھتے ہیں۔

یکم نومبر 1986کو انہوں نے بطور اے ایس پی پولیس سروس جوائن کی، ان کی سب سے پہلی تعیناتی اے ایس پی اوگی ضلع مانسہرہ تھی۔

ایس پی کے طور پر انہوں نے اے آئی جی ٹریننگ اور گوجرانوالہ اور میانوالی کے ڈی پی اوز کے طور پر خدمات انجام دیں اور پھر اقوام متحدہ کے امن مشن پر بوسنیا میں ڈیڑھ سال تعینات رہے۔

اقوام متحدہ امن مشن سے واپسی پر ڈی پی او ساہیوال اور سیالکوٹ رہے جس کے بعد ان کی تعیناتی اسپیشل برانچ پنجاب میں ہوگئی۔

امجد جاوید سلیمی ڈی پی او جھنگ، اے آئی جی فائنانس پنجاب، ڈی آئی جی ایلیٹ پنجاب، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، آر پی او ساہیوال، آر پی او سرگودھا، سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ، آر پی او ملتان اور ایڈیشنل آئی جی پٹرولنگ ہائی ویز رہے۔

امجد جاوید سلیمی کی تعیناتیوں کے دوران سیالکوٹ جیل میں 7ججز کا قتل، لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملہ اور بادامی باغ میں مسیحی بستی جلانے کےواقعات بھی پیش آئے۔

Spread the love
  • 20
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں