امیروں کے پیسے چرا کرغریبوں میں بانٹنے والا اطالوی رابن ہڈ

پاکستان

اٹلی کے علاقے دولومیت کے ایک چھوٹے سے ٹاؤن فورنی دی سوپرا کے ایک بنک کے سابق منیجر جیلبرتو باسچیرا کو “رابن ہڈ بینکر” کا نام دیا گیا ہے۔

جیلبرتو نے پچھلے کئی سالوں کے دوران امیر لوگوں کے اکاؤنٹ سے 1 ملین یورو یا 1.15 ملین ڈالر کی رقم نکلوا کر ایسے غریب لوگوں کی مدد کی جو قرض کے حقدار تھے۔ اس قصے کا آغاز 2009 میں شروع ہوا۔ اس وقت عالمی معاشی بحران عروج پر تھا۔

بنکوں نے اپنی قرض دینے کی شرائط کو تبدیل کر دیا تھا۔ تب بنک قرض دینے سے پہلے کھاتے داروں کو مجموعی طور پر نہیں دیکتھا تھا بلکہ بنک کے ڈیسک پر رکھے کمپیوٹر سے کھاتے دار کے اعتبار کا تعین کیا جاتا تھا۔
ایسے میں جب ایک مقامی ضرورت مند شخص چھوٹے سے قرض کے لیے جیلبرتو کے پاس آیا تو انہوں نے دیکھا کہ وہ بنک کے قرض کی نئی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔

اسی وجہ سے دوسرے بینکروں نے اس شخص کو قرض نہیں دیاتھا۔ اس پر جیلبرتو نے ایک امیر شخص کے اکاؤنٹ سے تھوڑی سی رقم اس ضرورت مند شخص کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی تاکہ یہ قرض لینے کی شرائط کو پورا کر سکے۔ یہ تو ابتدا تھی، اس کے بعد جیلبرتو نے غریبوں کی مدد کا یہی طریقہ اپنا لیا اور بینکنگ کی دنیا میں رابن ہڈ بینکر مشہور ہوگیا۔

جلد ہی 1000 لوگوں کی آبادی والے اس چھوٹے سے ٹاؤن میں لوگوں کو جیلبرتو کی سخاوت کا پتا چل گیا اور دوسرے ضرورت مند لوگوں نے بھی جیلبرتو کے بنک کا رخ کیا۔ جیلبرتو اسی طرح امیر لوگوں کی رقم ضرورت مندوں کےاکاؤنٹ میں منتقل کر کے انہیں قرض کا اہل بناتا اور پھر قرض لینے والے شخص کو بتا بھی دیتا کہ اس رقم کو جلد سے جلد واپس کرنا ہے۔
لوگوں کے جلد رقم واپس کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا لیکن چند مقروض لوگوں نے اپنے قرض واپس نہیں کیے، جس سے جیلبرتو کی سخاوت کا بھانڈہ پھوٹ گیا۔ سالوں تک لوگوں کی مدد کرنے والے جیلبرتو کو جرائم پر 2 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
خوش قسمتی سے جیلبرتو نے بنک کے کسی بھی کھاتے دار کے اکاونٹ سے اپنے لیے ایک پائی تک نہیں لی تھی۔
اسی وجہ سے عدالت نے انہیں معطل سزا سنائی یعنی انہیں جیل میں ایک دن بھی نہیں رہنا پڑا۔ لیکن اس کے باوجود اس کہانی کا انجام کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہوا۔

ان کے وکیل کے مطابق حکومت نے جیلبرتو کی نہ صرف ملازمت ختم کر دی بلکہ ان کا مکان بھی بحق سرکار ضبط کر لیا۔ رابن ہڈ بینکر نے ایک اطالوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ہمارے بینکاری نظام نے کم پینشن یافتہ بوڑھوں اور ذرائع نہ رکھنے والے نوجوانوں کو ترک کر دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے کھاتے داروں کا تحفظ کرتے ہوئے کوشش کی ہے کہ ضرورت مندوں کی مدد کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ اس دور میں واپس جا سکیں تو شاید یہ چیزیں دوبارہ نہ کریں کیونکہ اس کی انہوں نے بہت زیادہ قیمت ادا کی ہے۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں