چین کو اعتماد میں لے کر ہی منصوبے کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے

سی پیک

سی پیک چین اور پاکستان کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک کے مفادات کا بہترین منصوبہ ہے۔ اس میں پاکستان اور چین نے بھارت سمیت تمام علاقائی ممالک کو شرکت کی دعوت دی۔ آج افغانستان، ایران اور کئی وسط ایشیائی ریاستیں اس منصوبے کا حصہ بن چکی ہیں۔ پاکستان کی دعوت پر سعودی عرب بھی سی پیک منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے جبکہ بھارت اس منصوبے میں شرکت سے انکاری اور اسے سبوتاژ کرنے کے لیے سرکرداں اور سازشوں کے جال بن رہا ہے۔ وہ اس منصوبے کو ختم کرانے کے لیے آخری حد تک جا چکا ہے۔

نریندر مودی نے چین جا کر حکومت پر زور ڈالا، سیکرٹری لیول کے بیورو کریٹس اور کابینہ کے ارکان کو بھی اسی مقصد کے لیے چین بھیجا جاتا رہا۔ سی پیک کے خلاف افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کیا گیا۔ ایران کی سرزمین کلبھوشن کی صورت میں پاکستان کے خلاف اسی مقصد کے لیے استعمال کی گئی۔ بھارتی ایجنٹ پاکستان میں چینی ورکرز اور انجینئروں کے خلاف حملوں اور اغواء کے بعد قتل کے بہیمانہ اقدامات میں بھی ملوث رہا مگر سی پیک کے حوالے سے چین کے عزم میں کوئی فرق نہیں آیا۔

بھارت ہی کے ایماء پر پاکستان کے اندر سے سی پیک کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں، ان آوازوں کو مسلم لیگ ن کی حکومت نے بہتر حکمت عملی کے ذریعے دبا دیا۔ اس دور میں کئی بار آل پارٹیز کانفرنسیں ہوئیں جن میں سی پیک کی مخالفت کرنے والوں کے تحفظات سنے گئے اور ان کو دور کردیا گیا۔

خیبر، پی کے اور سندھ میں ان دنوں مسلم لیگ ن کی حریف پارٹیوں کی حکومت تھی، ان کی طرف سے سی پیک منصوبوں میں کم حصہ ملنے کی شکایات تھیں۔ سابق مرکزی حکومت نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی چینی حکومت کے ساتھ بیجنگ میں میٹنگ کرا دی جہاں خیبر پختونخواء سے تحریک انصاف اور سندھ سے پیپلزپارٹی کے وزرائے اعلیٰ مطمئن ہو کر واپس آئے۔

پاکستان میں سی پیک منصوبہ ایک موقع پر کالا باغ ڈیم کی طرح متنازعہ ہوتا نظر آ رہا تھا۔ حکومت کی طرف سے لیے گئے ہوشمندی کے اقدامات کے باعث اس پر وسیع پیمانے پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا مگر بھارت کی طرف سے اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اس نے سی پیک منصوبے کے خلاف امریکہ کو بھی بیان بازی پر آمادہ کر لیا مگر پاکستان کسی دباؤ میں آیا نہ چین نے کسی کی سنی۔ چین نے بنیادی طور پر سی پیک کے لیے 56 ارب ڈالر کی رقم مختص کی تھی۔ اس رقم سے سی پیک منصوبوں کی تعمیر جاری ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے سی پیک کا ازسرِنو جائزہ لینے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم کا بیان مختصر ہے اس میں واضح نہیں ہے کہ وہ چین کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہتے ہیں یا پاکستان کے اندر جاری سی پیک منصوبوں میں کوئی تبدیلی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تبدیلی بلوچستان کے لیے اس کے حصے سے زیادہ مراعات کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ پنجاب نے دیگر صوبوں خصوصاً بلوچستان کے لیے ہمیشہ بڑے بھائی کا کردار ادا کیا ہے۔ کے پی کے اور پنجاب میں بھی مرکز کی طرح تحریک انصاف کی حکومت ہے اس لیے سی پیک منصوبوں کا کچھ حصہ اگر بلوچستان کو منتقل کر دیا جاتا ہے تو پنجاب اور کے پی کے اس پر متفق ہو سکتے ہیں مگر اس حوالے سے بھی صرف حکومت پاکستان اکیلے فیصلہ نہیں کر سکتی کیونکہ سارے منصوبے چین کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت بروئے عمل ہیں۔ ان میں مجوزہ تبدیلی کے لیے چین کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ امکان یہی ہے کہ چین پاکستان کے اندر جاری منصوبوں میں تبدیلی پر آسانی سے متفق ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم کا چین کا دورہ طے ہو چکا ہے دیگر امور کے ساتھ سی پیک معاہدے پر ازسرِنو جائزہ کے حوالے سے بھی بات ہوگی۔

وزیراعظم کے بیان سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت سی پیک پر چین کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر نظرثانی کرنا چاہتی ہے۔ اس کی باز گشت وزیراعظم کے معاون خصوصی عبدالرزاق داؤد کے ایک برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں بھی موجود تھی جس کو متنازعہ قرار دیا اور خود عبدالرزاق داؤد نے وضاحت کی تھی کہ ان کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر شائع کیا گیا۔

اقتصادی امور میں مہارت رکھنے والے عبدالرزاق داؤد نے حالیہ دنوں یہ بھی کہا کہ چین کے ساتھ تجارت میں پاکستان کا بہت زیادہ خسارہ ہے۔ ملائیشیا میں مہاتیر محمد اقتدار میں آئے تو کرپشن کیسز میں ان کے پیشرو وزیراعظم نجیب رزاق جیل میں ہیں۔ گزشتہ دنوں سابق وزیراعظم کی اہلیہ پر بھی فرد جرم عائد کردی گئی۔ مہاتیر محمد نے حالیہ دنوں چین کا دورہ کیا اور اس کے ساتھ سابق دور میں طے پانے والے وہ معاہدے ختم کردیے گئے جو ان کی نظر میں ملائیشیا کے مفاد میں نہیں تھے جبکہ دیگر معاہدے جاری ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت کو چین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں میں اگر بہتری کی گنجائش نظر آ رہی ہے تو پاکستان کے سب سے زیادہ پراعتماد دوست چین کے ساتھ بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سی پیک منصوبوں کی تعمیر کے لیے چین ہی سے ورک فورس لائی گئی ہے۔ اس کا بھی پاکستان کو کوئی نقصان نہیں ہے ان کی ضروریات کسی نہ کسی حد تک پاکستان ہی سے پوری ہو رہی ہیں، کچھ نہ کچھ لوگوں کا روزگار بھی لگا ہوگا۔ اگر سارا کام مقامی لوگ کریں تو مزدوروں کے بلاواسطہ ہزاروں اور لاکھوں بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ ایسے معاملات میں چین کے ساتھ پراعتماد فضاء میں بات ہو سکتی ہے۔ اس امر کو اگر سی پیک معاہدے میں ازسرِنو جائزہ لینے کی طرف اشارہ دیا گیا ہے تو اس کا جائزہ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

چین نے ہمیشہ پاکستان کے لیے بڑے دل کا مظاہرہ کیا وہ بھی معاہدے کا ازسرِنو جائزہ لینے پر تیار ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صوبوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے سی پیک معاہدے کا ازسرِنو جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس منصوبے میں بلوچستان کو جائز حصہ دیا جائے گا۔ صوبے کے مالی سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے وفاق بھرپور کردار ادا کرے گا۔ یہ بات انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں بلوچستان کابینہ کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا ملک اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہے۔ ہمیں امید ہے ہم اس مشکل سے جلد چھٹکارا پالیں گے۔

loading...
Spread the love
  • 8
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں