معیشت کا بائی پاس

معیشت
loading...

(امجد طفیل بھٹی)

وفاقی وزیر خزانہ جناب اسد عمر صاحب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ابھی ملکی معیشت کا بائی پاس چل رہا ہے یعنی کہ ابھی تک معیشت مشکلات کا شکار ہے۔ یقیناً اسد عمر صاحب نے بائی پاس کا لفظ بھی اسی لیے استعمال کیا ہوگا کہ اس وقت حالات کچھ اچھے نہیں ہیں۔ ہم بطور عوام یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر ملکی معیشت عالمی مالیاتی اداروں یعنی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سہارے کب تک چلتی رہے گی؟ کب پاکستانی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگی؟ کب تک ہم بڑے ممالک سے قرضے اور امداد مانگتے پھریں گے؟ کب ہمیں پتہ چلے گا کہ ہمارے ملک میں کتنا ٹیکس اکھٹا ہوتا ہے اور کتنا کہاں خرچ ہوتا ہے؟

ہر نئی آنے والی حکومت خالی خزانے کا شکوہ کرتی ہے اور تمام تر خامیوں اور خرابیوں کا ذمہ دار پچھلی حکومت کو ہی ٹھہراتی ہے لیکن معیشت اور خزانے کا ہیر پھیر عوام کی سمجھ سے تو بالاتر ہے۔ عوام یہ نہیں جانتے کہ ملکی خزانے میں کتنے ارب ڈالر ہیں؟ عوام کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ ڈالر کی قیمت کیا ہے؟ عوام کو اس بات سے غرض نہیں ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے، عوام کو تو اس بات سے غرض ہے کہ سبزی مہنگی ہے یا سستی، بس کا کرایہ کم ہو گیا ہے یا زیادہ، دوائیاں مہنگی ہیں یا سستی، چینی، دالیں اور آٹا پہنچ میں ہے کہ نہیں، بچوں کے سکول کی فیسیں کم ہیں یا زیادہ۔ یہ سب باتیں عوام کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ حکومت کی تعریف کریں یا پھر برا بھلا کہیں۔

جہاں تک بات ہے بجٹ کی یا پھر معیشت کی تو یہ سارے اعداد و شمار کا ایسا گورکھ دھندہ ہیں کہ ان پڑھ تو دور کی بات اچھے خاصے پڑھے لکھوں کی سمجھ سے بھی باہر ہیں۔ اس وقت عام آدمی کی نظریں عمران خان پر ہیں چاہے وہ معیشت کا آپریشن کرائیں یا پھر بائی پاس عوام کو تو نتائج سے غرض ہے کہ بائی پاس اسکے حق میں ہے ہیں کہ نہیں؟ اسکے مسائل کم ہو رہے ہیں کہ نہیں؟ اسے روزگار ملا کہ نہیں؟ اسکو سستا علاج میسر ہوا کہ نہیں؟ اسکے بچے سکول گئے کہ نہیں؟ جہاں تک تعلق ہے تبدیلی کا تو شاید یہ تبدیلی اتنی جلدی نظر بھی نہیں آئے گی۔ اصلاحات کے ثمرات عوام تک پہنچتے پہنچتے سالوں لگ جاتے ہیں لیکن حکومت کو کم از کم ایسے تمام اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جن سے براہ راست غریب یا متوسط طبقہ متاثر ہو۔ مثلاً بجلی اور گیس کی قیمتیں، پٹرول کی قیمتیں، ادویات کی قیمتیں ، چینی آٹا اور دال کی قیمتیں، یہ سب بنیادی اشیاء ضرورت ہیں جن کا تعلق عوام کے ردعمل سے ہے یعنی اگر یہ سب چیزیں عوام کے لیے مسئلہ بنیں گی تو عوام حکومت سے متنفر ہوگی اور اگر یہ چیزیں سستی اور عوام کی پہنچ میں ہوں گی تو عوام حکومت کی تعریفیں کریں گے۔ باقی معیشت کے مسائل، زرمبادلہ، درآمدات، برآمدات، افراط زر، ڈالر کی قیمت، نئے ٹیکسوں کا اطلاق اور نئی نئی اسکیمیں حکومتی معاملات ہیں وہ وزارت خزانہ جانے اور وزیر خزانہ جانے۔ عوام کو قطعاً غرض نہیں ہے۔ شاید حکومت کے لیے بھی کام کرنا تب ہی آسان ہوگا جب عوام کو ریلیف ملے گا۔

اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کو کہیں سے بھی اپوزیشن کا سامنا نہیں ہے یعنی تمام ریاستی ادارے بشمول عدلیہ اور افواج پاکستان سب ہی حکومت کو چلتا دیکھنا چاہتے ہیں حتیٰ کہ اپوزیشن جماعتوں کی تقسیم کی وجہ سے حکومت کو حقیقی اور مضبوط اپوزیشن کا بھی سامنا نہیں ہے۔ اس لیے اب وقت ہے کہ حکومت ملکی مفاد کی خاطر ملکی معیشت کو ٹریک پر لانے کے لیے ٹھوس اور دلیرانہ اقدامات اٹھائے۔ مثلاً کرپشن پر کنٹرول کے لیے جامع اور واضح پالیسی کے ساتھ ساتھ خاطر خواہ قانون سازی، ملک کی لوٹی ہوئی دولت کی بیرون ملک سے واپسی کے اقدامات، بڑے بڑے ٹیکس نا دہندگان سے ٹیکس کی وصولی اور بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے خوشگوار ماحول تاکہ سرمایہ ملک میں آئے۔

یہ سب اقدامات اتنے آسان نہیں ہیں جتنا ان کا ذکر کرنا آسان ہے کیونکہ اس سے ملک کے نامی گرامی ناموں کے سامنے آنے کا خدشہ بھی موجود ہے اس لیے ان تمام اقدامات کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لیے بھی حکومت کو اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ اس میں شاید کئی حکومتی چہروں پر سے پردہ بھی اٹھ جائے مگر بذات خود عمران خان کے لیے یہ کوئی مسئلہ بھی نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ وہ تو عوام سے مینڈیٹ بھی کرپشن کے خلاف اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کا ہی لے کر اقتدار تک پہنچے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ عمران خان کی سیاست ہی کرپشن کے خلاف شروع ہوئی تھی اور یقیناً اب عمران خان کی حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوئی ہے کہ اب وہ تمام ممکنہ اقدامات کریں کہ جن سے ملک میں پھیلی مایوسی اور نفسا نفسی کو ختم نہیں تو کم کرنے میں ہی مدد مل سکے وگرنہ تو کوئی شک نہیں کہ پھر سے وہی پرانا دو پارٹی نظام یعنی باریوں والا نظام ہی مسلط ہو جائے اور عوام کا جمہوریت پر سے یقین ہی اْٹھ جائے۔ اور خدا نہ کرے کہ لوگ پھر سے مارشل لاء کے حق میں مٹھائیاں تقسیم کرنے کی خواہش کرنے لگ جائیں۔

اس سے پہلے کہ پانچ سال زبانی کلامی نعروں اور تقریروں میں گزر جائیں عمران خان کی کابینہ میں شریک ایک ایک وزیر، مشیر اور رکن قومی و صوبائی اسمبلی کا یہ قومی فریضہ ہے کہ وہ بطور پاکستانی ملک کی خدمت کرنے میں عمران خان کا ساتھ دیں تاکہ ملک پر سے اندرونی اور بیرونی مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے کیونکہ ہمارا ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور ایسا نہ ہو کہ ملک معاشی اور انتظامی طور پر اتنا کمزور ہو جائے کہ ملک میں جنگ لڑنے کی صلاحیت ہی ختم ہو جائے پھر نہ کسی جماعت کی سیاست بچے گی اور نہ ہی کسی سیاستدان کی سیاست زندہ رہے گی۔

Spread the love
  • 6
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں