ایوان نمائندگان میں عدم برداشت کا فقدان

قومی اسمبلی میں(ن)لیگ اور تحریک انصاف میں لفظی گولہ باری، چور چور کے نعرے لگائے، وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈ ا کی جانب سے سابق(ن) لیگی حکومت پر پانی چوری کے الزام پر وفاقی وزیر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ فیصل واوڈانے کہاکہ نوازشریف نے سندھ کے حق پرڈاکہ ڈال کر پانی چوری کیاجس پر شاہد خاقان نے جواب دیاکہ آپ نے چور کہا تومیں آپ کواورآپ کے والدکوچورکہوں گا۔اس پر وزیر مملکت مواصلات مراد سعید نے کہا کہ جنہوں نے ملک کو لوٹا، ان کا احتساب ہوگا روک سکوتوروک لوسب کو معلوم ہے کہ تصدیق شدہ چور کون ہے،سندھ اور بلوچستان کا جو پانی چوری ہوتا ہے اس کے اعداد و شمار سامنے رکھیں گے۔اس موقع پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
قومی اسمبلی ملک کا معتبر اور قابلِ احترام ادارہ ہے، اس میں بیٹھنے والے منتخب ارکان بھی ہر لحاظ سے قابلِ احترام ہیں، انہیں اس ایوان کے اندر ملک و قوم کی بھلائی کے لئے اقدامات پر سوچ بچار کرنا چاہئے اور ایسی سلجھی ہوئی گفتگو کرنی چاہئے جس سے یہ احساس ہوتا ہو کہ وہ نہ صرف اپنے حلقہ نیابت کی نمائندگی کا حق ادا کررہے ہیں بلکہ مجموعی طور پر ملک و قوم کے مفاد کی خاطر اسمبلی میں بیٹھے ہیں ۔ ہر اجلاس کے انعقاد پر ٹیکس دہندگان کی دی ہوئی قیمتی رقوم خرچ ہوتی ہیں۔ اس لئے اگر ارکان لا یعنی الزام تراشیوں، بے معنی بحث و تکرار، باہمی توتکار، اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کرکے اور لڑ جھگڑ کر ہی گھروں کو چلے جائیں گے تو یہ احساس اور تاثر نمایاں ہوگا کہ منتخب نمائندے اخلاقیات کے اس کم سے کم معیار سے بھی نیچے ہیں جس کی توقع ہر شریف انسان سے بجا طور پر رکھی جاتی ہے۔ کسی گفتگو پر شعلے کی طرح بھڑک اٹھنا اور ایسے رد عمل کا اظہار کرنا جو شائستگی سے گرا ہوا ہو قطعاً پسندیدہ نہیں ہے، سیاسی رہنما تنقید سے بالا تر نہیں ہوتے، وزیراعظم یا حکومت کے اقدامات کا منفی تذکرہ بھی پارلیمانی الفاظ کی حدود میں رہ کر کیا جائے تو چنداں مضائقہ نہیں، اور کون سا لفظ پارلیمانی اور کون سا غیر پارلیمانی ہے اس کا فیصلہ بھی سپیکر کو کرنا ہوتا ہے جو ایوان کا کسٹوڈین ہوتا ہے۔ اسی لئے ہر بات ان سے مخاطب ہوکر کی جاتی ہے۔ کراس ٹاک کی مخالفت اسی لئے ہے۔ کسی وزیر یا رکن اسمبلی کے الفاظ سے اگر کسی کے جذبات مشتعل ہوگئے تھے تو اس پر سپیکر کو متوجہ کیا جاسکتا تھا، لیکن اگر جواب میں کسی کے خاندان تک کو اسی طرح ہدف ملامت بنا دیا گیا تو فریقین ایک ہی درجے پر آ گئے اور ان دونوں میں سے کوئی بھی اخلاق کے بہتر مقام پر کھڑا نظر نہ آیا جب اسی طرح براہ راست حساب بے باک کرنا شروع ہو جائے اور شائستہ گفتگو گالیوں تک چلی جائے اور گالیاں لڑائی جھگڑے کی شکل اختیار کر جائیں تو پھر انسان کسی کی مذمت اور کسی کی تعریف کیسے کرے، دونوں رویئے ہی قابل ملامت ٹھہرتے ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح پاکستان کے معاشرے سے تحمل اور رواداری کا عنصر غائب ہوتا جا رہا ہے اس کا عکس قومی اسمبلی کے ایوان پر بھی پڑ رہا ہے۔ ظاہر ہے مجموعی معاشرتی رویئے ہی قومی اسمبلی کے ایوان میں منعکس ہوں گے اس لئے، ہمیں وہی کچھ دیکھنے اور سننے کو ملا جو ہم شب و روز اپنے اردگرد دیکھتے اور سنتے ہیں۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ قومی اسمبلی کے ایوان میں قبرستان کا سا سناٹا چھا جائے لیکن ہنگامہ اور شور و غوغا بھی اس انداز میں نہیں ہونا چاہئے کہ منتخب ارکان پر انگلیاں اٹھنے لگیں، اگرچہ یہ معاملہ کوئی پہلی دفعہ تو نہیں ہوا، ہر سیاسی جماعت کے بعض جوشیلے ارکان اکثر و بیشتر بات کرتے وقت احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے نظر آتے ہیں، مخالف سیاستدانوں کو فسادی، چور، ڈاکو، کرپٹ اور نہ جانے کیا کچھ کہہ دیا جاتا ہے ۔روایت کے مطابق ایوان میں امن و امان کی ذمہ داری سرکاری بنچوں پر عائد ہوتی ہے۔ غالباً کسی وجہ سے حکومتی بنچ نہیں چاہتے تھے کہ اجلاس کی کارروائی آگے بڑھے، اسی طرح بعض وزراء بھی ایوان کو ہر وقت گرمائے رکھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے میں یہ امید تو کم ہی ہے کہ آئندہ ایسے مناظر دیکھنے کو نہیں ملیں گے ۔قومی اسمبلی کو تشکیل پائے تین ماہ ہوگئے اور ابھی تک ایوان کی کمیٹیاں ہی تشکیل نہیں پاسکیں جن کا بڑا اہم کردار ہے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اس لئے نہیں بن سکی کیونکہ حکومت بقول اپنے وزراء کے دودھ کی رکھوالی پر بلے کو نہیں بٹھانا چاہتی لیکن ایسا نہ ہو کہ غیر معمولی انتظار میں یہ دودھ ہی پھٹ جائے، حکومت کو یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ ایوان میں اس کے پاس اکثریت نہیں ہے اور آٹھ چھوٹی جماعتوں کے ارکان نے اسے سہارا دے رکھا ہے، ایسا نہ ہو روز روز کی باہمی لڑائیوں میں یہ سہارا ہی کھسک جائے ۔

Spread the love
  • 7
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں