اقبالؒ اور روح آزادی کشمیر

علامہ محمد اقبال
loading...

آج یوم اقبالؒ ہے ۔ مشرق کے اس عظیم فلسفی شاعر کا یوم پیدائش جسے اسکی زندگی میں بھی بھرپور تکریم ملی اور پس مرگ تو ان کی اہمیت اور عظمت اورزیادہ بڑھ گئی۔ اقبالؒ کے آباؤ اجداد کا تعلق کشمیر سے تھا۔ یہ خاندان کشمیر سے ہجرت کرسیالکوٹ آکر آباد ہوا تھا۔ ۔اقبالؒ کو کشمیر سے نسبت پر ہمیشہ فخر رہا ۔ انہوں نے اپنی شاعری میں جہاں امت مسلمہ کو جگایا ۔ معاشرے کے کمزور کچلے ہوئے طبقات کو بیدار کیا ۔ مزدوروں، کسانوں کو جینے کا قرینہ دیا، اسلام کے نظام حیات اور سرکار دو عالمؐ کے آل و اصحاب کی سیرت کا درس دیا۔ اسکے ساتھ ساتھ وہ آفاقی سطح پر بھی دنیا بھر کے لوگوں کو ظلم و غلامی سے نجات کا بھی درس دیتے نظر آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج مشرق و مغرب میں ان کی شاعری ہر جگہ سنی اور پڑھی جاتی ہے۔ انکے فلسفہ اور کلام پر دنیا بھر کی جامعات میں کام ہوتا ہے ۔ یہی اقبالؒ اہل کشمیر کی غلامی بدحالی اور مجبوری و مقہوری پر غمزدہ بھی رہتا تھا ۔ اس کا دل کشمیریوں کی حالت زار پر ہر گھڑی کڑھتا رہتا تھا ۔ انکی شاعری میں جا بجا اس کرب کا اظہار ملتا ہے جو کشمیریوں کی غلامی کو دیکھ کرانکے دل و دماغ کو اذیت میں مبتلا کرتا تھا۔ اسکے ساتھ ہی وہ کشمیریوں کو اپنے ماضی کے عظیم مسلم کشمیری سلاطین کے دور کی یاد دلا کر آمادہ جنوں بھی کرتا ہے، انہیں درس دیتا ہے کہ وہ ایک بار پھر اٹھ کر اپنی کھوئی ہوئی سلطنت بحال کریں ۔اقبالؒ کے دماغ میں کشمیریوں کی عظمت گزشتہ کا نقشہ بھی تھا اور موجودہ غلامی کا دکھ بھی کا وہ چاہتے تھے کہ کشمیری ایک بار پھر اپنی عظمت رفتہ کو پالیں اسکی راہ انہوں نے یہ کہہ کر دکھائی ۔

در مطلب ہے اخوت کے صدف میں پنہاں
مل کے دنیا میں رہو مثل حروف کشمیر

اقبالؒ کا کلام آج بھی صرف پاکستان میں ہی نہیں مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے چپے چپے میں کشمیریوں کا لہو گرما رہا ہے۔ بھارتی غاضب افواج کے ہاتھوں ہر قسم کا ظلم و ستم کشمیریوں پر آزمایا جا رہا ہے ۔ مگر اسکے باوجود اقبال کے یہ روحانی فرزند اپنی آزادی کی تحریک کو جان و مال کی قربانیاں دے کر زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ ان کے لبوں پر اقبال کی وہی لازوال دعا ہے۔

توڑ اس دست جفا کیش کو یارب جس نے
روح آزادی کشمیر کو پامال کیا

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں