ککھ پتی سے لکھ پتی

ککھ پتی سے لکھ پتی

یہ سوال سب کے ذہنوں میں گردش کررہا ہے کہ ملک ریاض ککھ پتی سے لکھ پتی بلکہ کروڑ پتی کیسے بن گیا یہ بھی ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے کہ ہم کسی کو آگے نکلتا ہوا نہیں دیکھ سکتے جوانسان چاہے جتنی مرضی محنت کر لے ہم اپنے شک اور حسد کی بنا پر چند لفظوں سے ہی اس کی تمام عمر کی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں ملک ریاض نے پراپرٹی بزنس کا اس وقت آغاز کیا جب پاکستان تو کیا پوری دنیا میں پراپرٹی بزنس اپنے عروج پر تھاہاؤ سنگ کالونی یا ہاؤسنگ سکیم بنانے کے لیے اس وقت کسی خاص سرمائے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ آپ معمولی سا ایڈوانس دیکر باقی رقم پانچ سال کی اقساط میں ادا کر سکتے تھے جب زمین کے مالک سے ریٹ طے ہوتا تھا تو آپ کے پاس دو چوائس ہوتی تھیں ایک تو یہ کہ آپ کم قیمت میں نقد ادائیگی کرکے تمام زمین خرید لیں دوسرا یہ کہ آپ کچھ رقم ایڈوانس دے دیں باقی رقم پانچ یا سات سال تک فی سال کے حساب سے ادا کر دیں دونوں صورتوں میں قبضہ آپ کو مل جاتا تھا.

آپ چند ہزار کے عوض نقشہ بنوا کر پلاٹ سیل کرنا شروع کر سکتے تھے چونکہ زیادہ تر ہاؤسنگ سکیمیں عوام کی سہولت کی خاطر اقساط میں رقم کی ادائیگی کی آفر کرتی تھیں لہٰذا ہاؤسنگ سکیم کے مالکان کو ڈویلپمنٹ کے لیے پانچ سات سال کا وقت میسر ہو جاتا تھااس دوران اس کو اپنی جیب سے کوئی سرمایہ کاری نہیں کر نا پڑتی تھی جیسے جیسے پلاٹ فروخت ہوتے ایڈوانس موصول ہوتے اور اقساط آنے لگتیں توویسے ویسے ہاؤسنگ سکیم کے مالکان ڈویلپمنٹ کرواتے رہتے تھے دوسرے لفظوں میں کسٹمرز کے پیسے کو ہی استعمال کرکے بزنس وسیع کرتے تھے اس طرح ایک سے دو پھر دو سے تین اور دیکھتے ہی ؂دیکھتے کئی پراجیکٹ شروع ہوجاتے تھے اس سارے عمل میں سمجھنے والی بات یہی ہے کہ وہ ایسا کر کے کچھ غیر قانونی یا ناجائز نہیں کرتے تھے بلکہ بالکل جائز کاروبار کرتے تھے.

اب چونکہ اچھے یا برے لوگ ہر فیلڈ میں ہی ہوتے ہیں لہٰذا کچھ لوگ تو اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے مطلوبہ ہاؤ سنگ سکیم میں مکمل ڈویلپمنٹ کرواکر کسٹمرز سے کیے ہوئے وعدے پورے کرتے تھے جبکہ اس کے برعکس کچھ ہاؤسنگ سکیموں کے مالکان زیادہ پیسے کے لالچ میں پلاٹ بیچ کر بغیر ڈویلپمنٹ کیے وہاں سے بھاگ جاتے تھے۔حکمرانوں کی ملی بھگت کے بغیر ایسا کرنا ناممکن ہے اور نہیں تو کم از کم بلدیہ یا لوکل گورنمنٹ کا عملہ اس میں ان کے ساتھ ضرور شریک ہوتا تھا۔اس طرح کے لوگ ان کاروباری افراد کے پراپرٹی کے بزنس کو نقصان پہنچانے کاباعث بنتے تھے جو پوری ایمانداری سے اپنا بزنس کر رہے تھے یوں ملک ریاض بھی اپنی ایمانداری اور کمٹمینٹ کے بل بوتے پر مشہور ہوگیا اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ اس کے کسی بھی ٹاؤن میں خریداروں کی تعداد اتنی ہوجاتی تھی کہ اسے قرعہ اندازی کرنا پڑتی تھی ۔اس کی اس نیک نامی کا فائدہ اٹھاکر بڑے بڑے بیوروکریٹس اور فوج کے ریٹائرڈ افسران بھی اس کے ہر ٹاؤن میں سرمایہ کا ری کرنے لگے سرمایہ کاری میں اضافہ کسی بھی کمپنی کے لیے خوش قسمتی کا باعث ہوتا ہے.

ملک ریاض کو یہ اس کی محنت اور ایمانداری کا صلہ ملا تھا کہ وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں بہت سارے لوگ خوابوں میں بھی نہیں پہنچتے ۔کہتے ہیں کسی مقام پر پہنچے سے زیادہ اس مقام کو برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہوتا ہے ملک ریاض سے یہیں پر آکر وہ بڑی غلطی ہو ئی جو ہمیں اکثر بڑے سیاستدانوں میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ ملک ریاض جونہ تو کبھی جوئے میں ملوث رہا اور نہ کبھی شراب یا عورتوں کے چکرمیں پڑا اپنے بچوں کی غلط حرکتوں کا شکار ہو گیا حال ہی میں ہم نے دیکھا ہے کہ اس ملک کے بڑے بڑے سیاستدان اپنے بچوں کی وجہ سے اپنی نیک نامی گنوابیٹھے آپ یوسف رضا گیلانی کی مثال لے لیجئے یا پھر چوہدری پرویز الٰہی ،میاں شہباز شریف اور سردار ذولفقار علی کھوسہ کی یہ چند موجودہ زندہ و جاگتی مثالیں ہیں جن کے بچے یا تو کرپشن میں ریکارڈ بنارہے ہیں یا پھر غلط صحبت اختیار کیے ہوئے ہیں یہ برسوں سے بنائی ہوئی اپنے والدین کی نیک نامی کو داؤ پر لگا رہے ہیں.

بچوں کی خاطر سب رشوت کو جائز سمجھ لیتے ہیں اور ننانوے فیصد والدین ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جن کے لیے ان کا ضمیر انہیں اجازت نہیں دیتا اسی بات کو بنیاد بناکرچیف جسٹس اور اعلیٰ عدلیہ کے خلاف بھی کچھ اس طرح سے پلاننگ کی گئی کہ چیف جسٹس اپنے بیٹے کے ہاتھوں مجبور ہو جائیں گے اور وہ بھی دوسرے سیاستدانوں کی طرح حقیقت کا سامنا کرنے کی بجائے مک مکاؤ پر راضی ہو جائیں گے مگر شاید دوسرے لوگوں کی نسبت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بارے میں ان کا یہ تاثر یا اندازہ غلط نکلا چیف جسٹس نے اپنے ہی بیٹے کی عدالت میں طلبی کر کے ناصرف اپنی عزت و وقار میں اضافہ کیا بلکہ ملک کے سب سے اہم انصاف فراہم کرنے والے ادارے اور اس سے بھی بڑھ کر اپنے ملک اور سب سے بڑھ کر اپنے مذہب اسلام کی بھی لاج رکھ لی دنیا پہلے بھی ہمارے چیف جسٹس کی مثالیں دیتی تھی اور مستقبل میں نہ صرف چیف جسٹس اور پاکستان کی عدلیہ کے گن گائے گی بلکہ ان کے اپنے فیصلوں میں مثال بنایا کریگی ۔اس وقت اگر عوام کو چیف جسٹس سے کوئی گلہ ہے تو وہ یہی ہے کہ بہت سارے غیر معمولی نوعیت کے کیس طوالت کا شکار ہیں ان کی مزید طوالت ملک و قوم کے نقصان کا باعث بن رہی ہے اس کے علاوہ قوم مکمل طور پر چیف جسٹس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں راہِ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

میاں بابر صغیر

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں