بوڑھے ماں باپ کو اُف تک نہ کرو …….

ماں باپ

بچپن میں سب کہتے ہیں ” ماں میری ہے ” ، ” ماں میری ہے ” لیکن جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں اور ماں باپ بڑھاپے میں قدم رکھ لیتے ہیں تو یہ جملہ بدل جاتا ہے اور کچھ یوں شکل اختیار کر لیتا ہے ” ماں تیری ہے ” ماں تیری ہے ” لیکن افسوس اُس وقت وہ ماں کسی کی نہیں ہوتی ۔
ماں باپ اپنے بچوں کی ساری ضروریات خواہشات سب پوری کرتے ہیں ۔ اگرایک ماں باپ دس بچوں کو پال لیتے ہیں باپ کماتا ہے اور ماں گھر چلاتی ہے لیکن وہی دس بچے ماں باپ کو نہیں پال سکتے۔ آخر کیوں؟

والدین جب بوڑھے ہو جاتے ہیں تو اکثر بچے انہیں کوسنے لگتے ہیں اور وہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام میں ماں باپ کا کیا مقام ورتبہ ہے وہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام نے والدین کا درجہ سب سے افضل اور اعلی رکھا ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ قرآن میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ بوڑھے ماں باپ کو اُف تک نہ کرو.

قرآن پاک میں والدین کا مقام :
اللہ تعالیٰ سورة بنی اسرائیل میں ارشاد فرماتے ہیں
کہ
” تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نا کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آو پھر اگر ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں کبھی اف تک نا کہو اور نا انہیں جھڑکو اور ان کے ساتھ محبت سے بات کرو اور نرمی اور انکساری کے ساتھ جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو کہ اے پروردگار میرے ماں باپ پر رحم فرمائیں جیسے انہوں نے ہمیں بچپن میں پالا ”

اسی طرح سوة العنکبوت میں ارشاد پاک ہے کہ
” اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آو ”

ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ
” اور ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے ”

اسی طرح اللہ تعالیٰ والدین کی عظمت کے بارے میں سورة النساء میں ارشاد فرماتا ہے کہ

” اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نا ٹھراو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو ”
سورة لقمان میں ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ
” میرا شکر ادا کرو اور میرے ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر ادا کرو ”

loading...

اقوال حضور پاک ﷺ اور والدین کی عظمت :
حضور پاک ﷺ نے والدین کی فرمابرداری اور حسن سلوک پر بہت زور دیا ہے ۔ بلکہ حضور پاک ﷺ نے والدین کی نافرمانی اور حکم عدولی کو حرام قرار دیا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ
” اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر ماں کی نافرمانی کو حرام قرار دیا ہے ”
ایک موقع پر حضور پاک ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نا بتاوں تو صحابہ کرام نے پوچھا کیا یا رسول الله ﷺ تو اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ :
” الله تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور والدین کے ساتھ نافرمانی کرنا سب سے بڑا گناہ ہے ”
ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :
” ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے اور باپ جنت کا دروازہ ہے ”
اسی طرح ایک صحابی حضور پاک ﷺ کے پاس آئے اور دریافت کیا کہ یا رسول الله ﷺ میرے حسن سلوک کا سب سے ذیادہ حقدار کون ہے ؟ تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا تمہاری ماں اور چوتھی مرتبہ فرمایا تمہارا باپ ۔ ۔

حضور پاک ﷺ کی ماں سے محبت :
حضور پاک ﷺ خود فرمایا کرتے تھے کہ اگر میری ماں زندہ ہوتی تو خدا کی قسم اگر وہ مجھے نماز کی حالت میں بلاتیں تو میں نماز توڑ کر انکی بات کا جواب دیتا اور کہتا ” جی امی جی ”

والدین کی دعا :
والدین کے علاوہ تو اس دنیا میں کوئی ایسا شخض ہی نہیں ہے اور نا ہی ہو سکتا جو دل سے دعا بھی دے سکے ۔ اور اس دنیا میں صرف ایک باپ ہی ایسی ہستی ہے جو اپنی اولاد کو خود سے بھی آگے بڑھتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے ۔

حضرت موسی ؑ کی رب سے ملاقات اور ماں کی دعا :
حضرت موسیؑ جب اپنے رب سے ملنے کے لیئے جاتے تھے تو ان کی ماں پیچھے سے دعا کرتی رہتی تھی کہ اے اللہ پاک اگر میرے بیٹے سے کوئی غلطی ہو گئی تو انہیں معاف کرنا ۔ لہکن ایک دن جب حضرت موسیٰ الله تعالیٰ سے ملنے کے لیئے گئے تو الله پاک نے فرمایا
” اے موسی آج ذرا دھیان رکھ کر بات کرنا آج تیری ماں نہیں ہے جو تیرے لیئے پیچھے سے دعا کرے ” کیونکہ اس دن حضرت موسیؑ کی ماں فوت ہو چکی تھیں ۔ (جاری ہے)
زونیرہ شبیر

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں