امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پانچ لاکھ افراد لقمہ اجل بنے، رپورٹ

دہشت گردی
loading...

واشنگٹن: امریکی یونیورسٹی کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک 5 لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، اموات عراق، افغانستان اورپاکستان میں رپورٹ کی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکہ کی براؤن یونیورسٹی نے انسداد دہشت گردی جنگ سے متعلق رپورٹ شائع کردی ہے، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قیام امن کے لیے امریکہ کی مسلط کردہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پانچ لاکھ سے زائد اموات ہوئیں، اموات عراق، افغانستان اور پاکستان میں رپورٹ کی گئیں تاہم اصل ہلاکتیں ان اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ہلاک شدگان میں اتحادی افواج،مقامی پولیس کے اہلکار اور عسکریت پسند بھی شامل ہیں جبکہ دہشت گرد قرار دیے گئے بہت سے ہلاک افراد عام شہری بھی ہوسکتے ہیں۔

امریکی رپورٹ کے مطابق ستمبر2001 میں نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی، 17 سالوں کی نسبت گزشتہ 2سالوں میں ہلاکتوں میں22فیصد اضافہ ہوا ہے اور فغانستان، پاکستان اور عراق میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ عراق میں سوا 2 لاکھ، افغانستان میں 38 ہزار 480 اور پاکستان میں 23 ہزار 372 شہری مارے گئے جبکہ افغانستان اور عراق میں 7 ہزار امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ۔

خیال رہے نائن الیون کے بعد امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

واضح رہے گیارہ ستمبر 2001 ایک ایسا دن جب نیویارک کی فضا میں تین طیارے قہر بن کر داخل ہوئے، دو طیارے دنیا کی بلند ترین عمارت ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاور سے ٹکرائے اورسو منزلہ عمارت کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا جبکہ تیسرا طیارہ پنٹاگون کےقریب مار گرایا، واقعے میں تین ہزارافراد ہلاک ہوئے۔

جس کے بعد اس وقت کے صدرجارج واکر بُش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور سات اکتوبر 2001 میں القاعدہ رہنمااُسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان پرحملہ کردیا۔

افغانستان کے بعد 2003 پر عراق پر حملہ کیا اور پھر دہشت گردوں کی تلاش میں امریکی ڈرون 2004 میں پاکستان میں بھی داخل ہوگئے اورپھر یکے بعد دیگرے پوری دُنیا ہی اس آگ کی لپیٹ میں آگئی۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں