افغانستان عسکریت پسندوں کا غزنی پر حملہ ،38جنگجو ہلاک

افغانستان
loading...

کابل:طالبان عسکریت پسندوں نے غزنی شہر پر چڑھائی کر دی جس کے بعد جھڑپیں ہوئیں اورمارٹر گولے بھی فائر کیے گئے ،اب تک 38افرادکے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے،

ادھرصوبائی گورنر کے ترجمان عارف نوری نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ طالبان نے یہ حملہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کیا،طالبان ملکی فوج حملہ آوروں کو پسپا کرنے کی کوشش میں ہیں اور اس وقت پورے شہر میں خوف و ہراس ہے، سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کے علاوہ کئی شہریوں کے مکانات بھی مارٹر گولوں کی زد میں ہیں، غزنی شہر کی گلیوں میں طالبان حملہ آوروں کی لاشیں کئی جگہ پڑی ہوئی ہیں،ایک اورحکومتی اہلکار نے بھی کہاہے کہ شہر میں اب تک گولیاں برسنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں جبکہ غزنی کے رہائشیوں نے بھی دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے کی تصدیق کی ہے اورکہاہے کہ اس حملے میں کئی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں لیکن انھوں نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی ہے اسی دوران طالبان نے شہر کے راستوں کو بند کر دیا اور ایک عمارت میں چھپ کر پولیس ہیڈ کوارٹر کی عمارت پر فائرنگ کی۔

دوسری جانب طالبان ترجمان نے بھی نے بھی غزنی میں کیے گئے حملے کے بارے میں تفصیلات فراہم کی ہیں اور طالبان کی جانب جاری بیان میں اس حملے میں متعدد افغان فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اورکہاگیا ہے کہ جنگجو نے شہر کے اہم مقامات پر قبضہ کر لیا ہے اور چیک پوسٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان سکیورٹی فورسز نے جمعہ کو جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہاکہ طالبان نے جنوب مغربی شہر غزنی پر دھاوا بول دیا ہے جبکہ اس شہر میں شدید لڑائی کی خبروں کی تصدیق کر دی گئی ہے،ادھر صوبائی گورنر کے ترجمان عارف نوری نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی فوج حملہ آوروں کو پسپا کرنے کی کوشش میں ہے اور اس وقت پورے شہر میں خوف و ہراس ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کے علاوہ کئی شہریوں کے مکانات بھی مارٹر گولوں کی زد میں ہیں۔ نوری کے مطابق غزنی شہر کی گلیوں میں طالبان حملہ آوروں کی لاشیں کئی جگہ پڑی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں۔  ایٹم بم حملے میں جان بچانے کے لیے آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اس حملے طالبان اور حکومتی افواج دنوں ہی بڑی تعداد میں ایک دوسرے کو جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔غزنی صوبے کے ترجمان محمد عارف نوری نے بتایا کہ طالبان نے جمعرات کی شب غزنی میں چاروں جانب سے حملے کیے۔انھوں نے بتایا کہ یہ حملے رات دیر گئے کیے اور طالبان جنگجو شہر کے مضافات میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔صوبائی ترجمان نے بتایا کہ غزنی میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان لڑائی ابھی تک جاری ہے اور حکومتی افواج نے طالبان کو شہر کے مرکز سے پچھے دھکیلنے کا دعویٰ کیا ہے۔صوبائی پولیس کے سربراہ کے مطابق طالبان نے یہ حملہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کیا۔ایک اورحکومتی اہلکار کا کہنا تھا کہ شہر میں اب تک گولیاں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں جبکہ غزنی کے رہائشیوں نے بھی دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے کی تصدیق کی ہے۔

حکومتی اہلکار کا کہناتھا کہ اس حملے میں کئی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں لیکن انھوں نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی۔اطلاعات ہیں کہ طالبان نے شہر کے راستوں کو بند کر دیا اور ایک عمارت میں چھپ کر پولیس ہیڈ کوارٹر کی عمارت پر فائرنگ کی۔ادھر طالبان نے بھی غزنی میں کیے گئے حملے کے بارے میں تفصیلات فراہم کی ہیں اور طالبان کی جانب جاری بیان میں اس حملے میں متعدد افغان فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ جنگجو نے شہر کے اہم مقامات پر قبضہ کر لیا ہے اور چیک پوسٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔حالیہ کچھ عرصے میں افغانستان میں طالبان کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ افغان حکام نے تصدیق کی ہے کہ کچھ عرصے سے طالبان اپنی حکمتِ عملی کو تبدیل کرتے ہوئے شہری علاقوں میں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں۔  سیالکوٹ میں شہریوں نے سابق وفاقی وزیر زاہد حامد کی گاڑی پر ڈنڈے برسادیئے
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں