جو ہمیں زمین تنگ کر دینے کی دھمکیاں دیتے تھے آج ان پر پاکستان کی زمین تنگ ہو گئی،ڈاکٹر طاہر القادری

ڈاکٹر طاہر القادری
loading...

لاہور:پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ4سال قبل 10اگست 2014 ء کے دن اقتدار کے نشے میں مست شریف برادران نے شہدائے ماڈل ٹاؤن کی یاد میں تقریب منعقد کرنے سے ریاستی طاقت کے ذریعے روکا

 ماڈل ٹاؤن لاہور کی طرف آنے والے تمام راستے کنٹینر لگا کر بلاک کر دئیے، صرف ایک دن میں 8 ہزار سے زائد کارکنوں کو گھروں سے اٹھایا، سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایاگیا ، جو ہمیں زمین تنگ کر دینے کی دھمکیاں دیتے تھے آج ان پر پاکستان کی زمین تنگ ہو چکی،قاتل ،ظالم اور کرپٹ شریف خاندان کے آدھے افراد جیلوں میں، آدھے مفرور ہیں، یہ اللہ کی گرفت ہے، ابھی سانحہ ماڈل ٹاؤن اور انقلاب مارچ کے شہداء کے خون کا حساب باقی ہے، وہ گزشتہ روز سویڈن(مالمو) میں تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس کے اختتام پر گفتگو کررہے تھے،

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ 10اگست کے دن پنجاب بھر میں ہزاروں کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، عوامی تحریک کے کارکنوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگا دی گئیں، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی بدترین روایات قائم کی گئیں ، 10اگست سے 14اگست 2014 ء کے درمیانی چار دنوں کے اندر اتنی گرفتاریاں ہوئیں کہ پنجاب کی حوالاتیں اور جیلیں بھر گئی تھیں اور شریف برادران کی غلام پولیس کارکنوں کو گاڑیوں میں لے کر گھومتی رہی، ہتھکڑیاں ختم ہو گئیں تو کارکنوں کے ہاتھ، پاؤں انہی کے کپڑوں سے باندھے گئے،ن لیگ کے گزرے ہوئے گزشتہ پانچ سال سیاسی کارکنوں پر جبرو تشدداور ریاستی انتقام کے بدترین پانچ سال تھے،یہ بے رحم اور درندہ صفت کسی رورعایت کے مستحق نہیں ہیں،

مزید پڑھیں۔  موسم کی صورتحال کے ساتھ دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو بھی 24گھنٹے مانیٹر کیا جائے ،ڈاکٹر حسن عسکری

ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ پاکستان کے عوام کو ظالم اور کرپٹ اقتدار سے نجات ملی، انہوں نے کہا کہ نواز لیگ کے دور حکومت میں عوامی تحریک کے ساتھ دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے خلاف بھی بدترین انتقامی کارروائیاں کی گئیں، ہم تمام کی مذمت کرتے ہیں،ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بہنے والا معصوم خون شریف برادران کے زوال کا نکتہ آغاز بنا، اس کا اختتام ان کی پھانسیوں پر ہو گا، ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ روئے زمین پر عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن جیسے پرامن اور اعتدال پسند صبروتحمل والے کارکن نہیں ہیں، میں نے اپنے کارکنوں کو امن ،برداشت اور محبت کرنے کی تربیت دی جس کا مظاہرہ پوری دنیا نے 17 جون 2014 ء کے دن دیکھا، 17 جون 2014 ء کے دن لیگی حکومت کی غنڈہ گردی کا سامنا کرنے والے کارکنوں نے شہباز شریف کی قاتل فورس کی گولیاں سینوں پر کھائیں مگر قانون ہاتھ میں نہیں لیا ،

اس دن کارکنوں کو ردعمل دینے کی اجازت دے دیتا تو کوئی زندہ واپس نہ جا پاتا، انہوں نے کہا کہ ہم نے لاشیں بھی اٹھائیں اور ن لیگی حکومت کا ہر ظلم جبر بھی برداشت کیا، انصاف سے بھی محروم رکھے گئے مگر پھر بھی انصاف صرف عدالتوں سے مانگا اور آج کے دن تک انصاف عدالتوں سے ہی مانگ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف کے اداروں کو سوچنا ہو گا کہ اگر انہوں نے امن کی بات کرنے والوں کوآئین اور ملکی قوانین کے تحت تحفظ اور انصاف نہ دیا تو پھر پاکستان میں کبھی پائیدار امن قائم نہیں ہو سکے گا، ظالموں کی کڑی گرفت کرنا ہو گی، حکومتی وسائل اور طاقت ذات اور جماعت کو مضبوط کرنے والوں کا راستہ ریاستی طاقت سے روکنا ہو گا، مظلوموں کو انصاف دینا ہو گا،بے گناہ خون بہانا پیسے لوٹنے سے زیادہ سنگین جرم ہے،

مزید پڑھیں۔  نا بینا افراد مطالبات منوانے کیلئے دوبارہ سڑکوں پر نکل آئے،پریس کلب کے بعد میٹروک ٹریک پر دھرنا

شریف برادران کا آئین و قانون کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں ٹرائل چاہتے ہیں۔17 جون 2014 ء سے لے کر 30,31 اگست 2014 ء تک کارکنوں پر جتنا بھی ظلم ہوا اور خون بہا وہ ایک ایک دن لمحہ اور خون کا ایک ایک قطرہ میری آنکھوں کے سامنے ہے، ہمارا مطالبہ انصاف بشکل قصاص ہے۔انہوں نے کہا کہ چار سال سے صبرو تحمل کے ساتھ انصاف مانگ رہے ہیں، امید ہے ہمارے صبر کو مزید نہیں آزمایا جائے گا ۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں