خُدا کی محبت اور ہیرا منڈی (آخری حصہ)۔۔۔ شہریار خاور

خدا کی محبت اور ہیرا منڈی، شہریار خاور

چوتھے حصہ کے لئے لنک پر کلک کریں۔

میں نے تو بہت دیکھ بھال کرنے کی کوشش کی مگر وہ کمبخت باہر سے جتنا اجلا تھا اندر سے اتنا ہی کالا تھا۔

میری خاموشی پر توجہ دیے بغیر شہناز نے پھر سے اپنی کہانی کا آغاز کیا۔

وہ سمجھتا تھا کہ چونکہ میں ایک عیسائی کی لڑکی تھی میرے لیے عزت ایک معمولی چیز تھی۔ حالانکہ مذہب کا عزت سے کیا تعلق؟ وہ خدا جس نے انسان کے خمیر میں عزت گوندھی وہ خدا تو سب کا ایک ہے۔

اس نے میری طرف ٹٹولتی نگاہوں سے دیکھا تو میں سٹپٹا گیا۔ اس لیے کہ میں نے کبھی اس طرح سے سوچا ہی نہیں تھا۔ میرے نزدیک صرف مسلمان ہی قابل احترام تھے اور میں سمجھتا تھا کہ خدا نے عزت صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص کی تھی۔

“ہاں بالکل عزت سب کی ایک جیسی ہوتی ہے۔” مرتا کیا نا کرتا اس سے اتفاق کرنا ہی میری خالی جیب کے مفاد میں تھا۔

مگر شہناز بہت گہری لڑکی تھی۔ اس نے ہنس کر میری جانب دیکھا۔

نہیں تم ایسا نہیں سمجھتے۔ مگر ایک دن جب خدا کی محبت کو سمجھ جاؤ گے تو یہ بھی سمجھ میں آ جائے گا۔

خدا کی محبت ؟ تم خدا کی محبت کو سمجھتی ہو ؟ میں زیادہ دیر اپنے نظریات کی بےحرمتی برداشت نہیں کر پایا۔

ہاں بالکل کیوں نہیں ؟ اس نے میرے چہرے پر پھیلی نفرت انگیز حیرت کی کوئی پرواہ نہیں کی۔

“دیکھو ! گناہ اور ثواب کے درمیان ایک بہت گہری خلیج حائل  ہے۔ ایک کھائی ہے۔ جسے نا مذہب پار کر سکتا ہے نا انسانوں کے دل۔ صرف خدا کی محبت اس کھائی کو عبورکرسکتی ہے اور کرتی ہے۔”

تم بتا رہی تھیں کہ وہ تمہاری عزت کے در پہ تھا۔ میں نے اس سے بحث کا کوئی فائدہ نا سمجھتے ہوئے دوبارہ اس کو کہانی کی طرف لانے کی کوشش کی۔

ہاں اس بدبخت کی محبت مجھ سے میری عزت کی قربانی مانگ رہی تھی۔

وہ میرے دل میں چلتی تذبذب کی آندھی سے ناواقف بولتی چلی گئی۔

میں بھی کیا کرتی ؟ محبت کی دیکھ بھال جو کرنی تھی۔ میں نے وہ قربانی بھی دے دی۔

اس نے تمہاری عظیم الشان قربانی کی کوئی قدر نہیں کی ؟ میں نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔

ارے مرد کب اپنی فتوحات اور ان سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کی قدر کرتا ہے۔ اس نے میرے لہجے میں سانپ کی طرح سرسراتے طنز کی کوئی پرواہ نہیں کی۔

میری عزت کی قربانی اس کی فتح تھی۔ اس نے تھوڑا عرصہ اپنی فتح کا جشن ضرور منایا مگر پھر دوسری فتوحات کی تلاش میں نکل گیا۔

کیا ؟ وہ تمھیں چھوڑ کر چلا گیا ؟ میں نے حیرانگی سے پوچھا۔

مزید پڑھیں۔  خُدا کی محبت اور ہیرا منڈی (دوسرا حصہ)... شہریار خاور

“نہیں جانا کہاں تھا اس نے۔ وہیں یونیورسٹی میں رہا میری نظروں کے سامنے مگر آہستہ آہستہ مجھ سے دور ہوتا چلا گیا۔ ہاسٹل میں رہتی تھی۔ ماں پاس نہیں تھی کہ اس کے گلے لگ کر روتی۔ میں نے مایوس ہو کر کیڑے مار دوائی پی لی مگر ابھی میرا وقت نہیں آیا تھا۔ میری ایک سہیلی تھی جس کا باپ پولیس میں کوئی بڑا افسر تھا۔ خدا اس کو خوش رکھے اس نے ناصرف بروقت ہسپتال لے جا کر میری جان بچائی بلکہ اپنے باپ سے کہ کہلا کر پولیس کیس بھی نا ہونے دیا۔”

ہسپتال سے واپس آئی تو اپنے محبوب سے انتقام لینے کا سوچا۔ اس سے کیا انتقام لیتی سارا غصہ اپنی ذات پر مرکوز ہوگیا۔ عزت تو جا ہی چکی تھی۔ میں نے ایک کے بعد ایک عشق لڑانا شروع کر دیا۔ ایک آغوش سے دوسری آغوش، ایک بستر سے دوسرا بستر۔ مگر جس محبت آمیز حرارت کی مجھے تلاش تھی ان سب مردوں سے مجھے نا مل سکی۔ آہستہ آہستہ اچھی سہیلیاں ساتھ چھوڑتی چلی گئیں اور بری صحبت نے مجھے گھیر لیا۔

اس کی اچانک خاموشی پر میں نے کالے تالابوں کے چھلکتے پانی کی امید میں نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا مگر ان تالابوں کے پانیوں میں صرف ایک تاریک سکوت تھا اچانک قریبی مسجد سے سپیکر پر کوئی اعلان ہوا تو اس نے چونک کر کھڑکی کی طرف دیکھا۔

loading...

“ارے ! بہت دیر ہوگئی تمہاری ماں پریشان ہو رہی ہوگی۔”

کوئی بات نہیں میں چلا جاؤں گا۔ مگر یہ تو بتاؤ کہ تم یہاں ہیرا منڈی تک کیسے پہنچی ؟

میں اس کی کہانی کا اختتام جاننا چاہتا تھا۔

بس ایک دن ایک سہیلی نے احساس دلایا کہ جب جسم کا سودا کرنا ہی ہے تو محبت کی امید پر ہی کیوں کیا جائے ؟ پیسوں کے یقین پر کیوں نا کیا جائے ؟ اس نے مسکراتے ہوئے میرے سوال کا جواب دیا۔

پھر ایک دن میں یہاں آ گئی۔

اور تمہارے ماں باپ ؟ بہن بھائی ؟ انہوں نے تمھیں تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی ؟

مجھے اس کے خاکروب باپ کی فکر تھی۔

کی تھی لیکن پھر میں نے ایک دن خود ماں کو فون کر کے بتا دیا۔ پہلے بہت روئی دھوئی مگر پھر اس نے بھی حقیقت سے سودا کر لیا۔

اس کے لہجے میں ہلکا سا ملال امڈ آیا۔

سودا ؟ کیسا سودا ؟ میں سمجھا کے شاید وہ سمجھوتے کی جگہ سودا کہہ گئی۔

ہاں سودا۔ آخر اس غریب کو باقی بہنیں بھی تو بیاہنی تھیں اور پھر یہ ایک نوکری ہی تو ہے۔ لوگ اپنی محنت بیچتے ہیں، پسینہ بیچتے ہیں، خون بیچتے ہیں اور میں اپنا جسم بیچتی ہوں۔ جسم بیچ کر جو کچھ کماتی ہوں۔ تھوڑا خود رکھ لیتی ہوں باقی گھر بھیج دیتی ہوں۔ باپ باہر اکڑ کر بتاتا ہے کہ میری بیٹی سعودی عرب میں نرس ہے اوررات کو تکیے میں منہ چھپا کر روتا ہے۔ ماں بیچاری کا کیا ہے ؟ رو دھو کر اس کے بھی آنسو خشک ہوچکے ہیں۔ اس کی کالی آنکھیں اب بھی خشک تھیں۔

مزید پڑھیں۔  فلم " لوڈ ویڈنگ "کا میوزک ریلیزکردیا گیا

اور تم ؟ تم یہاں اکیلی کیسے رہتی ہو ؟ محبت کے بغیر؟ میں نے اٹھتے ہوئے پوچھا۔

اکیلی ؟ محبت کے بغیر ؟ نہیں نہیں میں اکیلی نہیں۔ مجھ سے میرا خدا محبت کرتا ہے۔

اس کی کالی آنکھوں میں یقین کی نمی چمکی۔

“وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے۔ میں گناہ گار ہوں جسم کا سودا کرتی ہوں خواہشیں بیچتی ہوں مگر میرے خدا کو پھر بھی مجھ سے محبت ہے۔”

یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ میں نے شہناز سے پوچھا مگر اب میری آواز میں طنز نہیں صرف سمجھنے کی خواھش تھی۔

“ہوسکتا ہے ضرور ہوسکتا ہے محبت نا ہوتی تو وہاں اس دن ہسپتال ہی میں مار دیتا محبت نا ہوتی تو میرے ہاتھ سے میرے گھر والوں کو رزق نا دیتا۔”

شہناز کی آنکھوں کے تالاب آخر کار چھلک اٹھے اور شاید اس کے الفاظ سے زیادہ اس کے آنسوؤں نے مجھے اس بات کا یقین دلا دیا کہ خدا کو شہناز سے محبت کے لیے کسی نظریے یا گناہ و ثواب کے کسی پیمانے کی کوئی ضرورت نا تھی۔

سُنو !

اس کی آواز نے میرے دروازے کی جانب بڑھتے شرمندہ قدم روک لیے۔

یہ لو ایک ہزار یہ نیچے دلال کو دے دینا اور یہ لو پانچ سو اور۔ گھر جانے کے لیے سواری کی ضرورت پڑے گی۔

اس نے میری جانب دو نوٹ بڑھائے۔

لے لو شاباش۔ وہ اٹھ کر میری جانب بڑھی۔ نوٹ میری جیب میں ڈالے اور میری پیشانی کو چوم کر مجھے ہلکے سے دروازے کی طرف دھکیل دیا۔

میں یہ پیسے واپس کرنے آؤں گا۔

میں نے شرمندگی سے شہناز کی طرف دیکھا۔

اب جاؤ۔ کہیں بہت دیر نا ہو جائے۔ خدا حافظ!

شہناز واپس کھڑکی کی طرف مڑ گئی۔

میں مڑ کر جانے لگا تو دیوار پر ٹنگی صلیب کے گرد ایک نور کا نا محسوس ہالا چمک رہا تھا۔

میں نے احترام سے نظریں جھکائیں اور شہناز کی زندگی سے نکل گیا۔

بعد میں پیسے واپس کرنے کی نیت سے میں وہاں ضرور گیا مگر بہت کوشش کے باوجود نا کبھی شہناز کا مکان ڈھونڈ پایا اور نا ہی کبھی بخشو دلال کا کچھ پتا لگ سکا۔

لیکن جب کبھی مجھے غلطی سے اپنے خود کے یا کسی اور گنہگار کے گناہوں سے نفرت محسوس ہوتی ہے تو مجھے فوراً یاد آ جاتا ہے کہ کبھی ایک طوائف کے کوٹھے پر میری ملاقات خدا کی محبت سے ہوئی تھی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں