برطانیہ میں انسانی پیشاب کی فروخت کے کاروبار میں تیزی آخر وجہ کیا ہے؟

برطانیہ میں
loading...

برطانیہ میں انسانی پیشاب کی فروخت تیزی سے پھیلتا ہوا کاروبار بن گیا ہے۔ اس کاروبار کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں پر کمپنیاں اب باقاعدگی سے اپنے ملازمین کا ڈرگ ٹسٹ کرتی ہے۔

ڈرگ ٹسٹ کے لیے پیشاب کے نمونے ہی حاصل کیےجاتے ہیں۔ پکڑے جانے سے بچنے کے لیے منشیات استعمال کرنے والے لوگ دوسروں کے پیشاب کے نمونے دینے لگے ہیں۔
منشیات کے عادی افراد میں انسانی پیشاب کی طلب اتنی زیادہ ہے کہ آن لائن منجمد پیشاب بھی فروخت کیا جانے لگا ہے۔

لوگ اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے بھی جار میں پیشاب مانگنے لگے ہیں۔ منشیات  کے عادی افراد نئی ملازمت حاصل کرنے یا موجودہ ملازمت بحال رکھنے کے لیے کافی بڑی رقم خرچ کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ یہی لوگ انسانی پیشاب کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔

پیشاب خریدنے والے ایک شخص نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برٹش میٹرو کو بتایا کہ وہ کبھی کبھار میریجوانا کا استعمال کرتا ہے۔

اس کی کمپنی میں سٹاف کا ہر تین ماہ بعد ڈرگ ٹسٹ کیا جاتا ہے۔ اس شخص نے بتایا کہ اس نے اپنے 60 سالہ ہمسائے کا پیشاب 5 کلو دودھ کی بوتل میں محفوظ کیا ہے۔

وہ یہ بوتل ٹسٹ ہونے تک ریفریجرٹر میں مناسب درجہ حرارت میں رکھتا ہے۔ اس شخص نے بتایا کہ اگر کسی شخص کا ہمسایہ یا دوست تعاون نہ کریں تو ان کے لیے ای بے یا آن لائن سائٹس بھی موجود ہیں۔

کچھ کیسز میں پیشاب کے نمونے موقع پر لیبارٹری میں لیے جاتے ہیں لیکن منشیاب کے عادی افراد نے اس کا بھی بندوبست کیا ہوا ہے۔

منشیات کے عادی افراد 100 سے 150 یورو میں ملنے والی مخصوص نلکیوں میں پیشاب چھپا کر پینٹ میں رکھ لیتے ہیں اور لیبارٹری میں جا کر نلکی میں موجود پیشاب نمونے کے طور پر دے آتے ہیں۔

Spread the love
  • 6
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں