اثاثہ جات ریفرنس: اسحاق ڈار کا گھر اور اکاؤنٹس کی رقم صوبائی حکومت کے حوالے

اسحاق ڈار
loading...

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے ضمنی ریفرنس کی سماعت میں پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق تعمیلی رپورٹ جمع کروادی۔

رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار کا لاہور میں گھر اور اکاؤنٹس میں رقم صوبائی حکومت کی تحویل میں دے دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے ضمنی ریفرنس پر سماعت ہوئی۔ سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔

نامزد ملزمان سعید احمد، منصور رضا اور نعیم محمود عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ سعید احمد کے وکیل حشمت حبیب نے استغاثہ کے گواہ محسن امجد پر جرح کی۔ پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق نے اسحٰق ڈار کے اثاثوں پر تعمیلی رپورٹ جمع کروا دی۔

نیب کے مطابق اسحٰق ڈار کے بینک اکاؤنٹس اور موجود رقم کی تفصیلات پنجاب حکومت کو فراہم کردی گئی۔
نیب کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار اور ان کی کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں 5 کروڑ 83 لاکھ سے زائد رقم موجود ہے۔

عدالت میں اسحاق ڈار ، ان کی اہلیہ اور بیٹے کے 3 پلاٹوں کی قرقی کی تعمیلی رپورٹ بھی جمع کروادی گئی۔
تفتیشی افسر نادر عباس نے بتایا کہ اسحاق ڈار کی گاڑیاں تحویل میں لینے کے لیے رہائش گاہ پر کارروائی کی گئی، اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر گاڑیاں موجود نہیں تھیں۔ گاڑیوں کی تلاش کی کوشش جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار اور اہلیہ کے شیئرز کی قرقی سے متعلق ایس ای سی پی رپورٹ کا انتظار ہے۔ رپورٹ ملنے کے بعد عدالت کو آگاہ کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ موضع ملوٹ اسلام آباد میں واقع 6 ایکڑ اراضی فروخت کی جاچکی ہے، اراضی کیس کی تفتیش شروع ہونے سے پہلے فروخت کی جاچکی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اسحاق ڈار کا  گلبرگ 3 لاہور میں گھر بھی صوبائی حکومت کی تحویل میں دے دیا گیا جبکہ اسحٰق ڈار کے اکاؤنٹس میں موجود رقم صوبائی حکومت کی تحویل میں دے دی گئی۔

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں