یمن بحران پر ثالثی:ایک خوشنما امید

یمن
loading...

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں یمنی سفیر مطاہر العشبی سے ملاقات کے دوران یمن کے صدر اور وزیراعظم کو دورہ پاکستان کی دعوت دیتے ہوئے اپنی ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان یمن کے صدر عبدالرب منصور ہادی کی جائز حکومت کی بحالی کے لئے حمایت جاری رکھے گا،ان کا کہنا تھا کہ یمن کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرنا پڑے گا،قحط سے متاثرہ افراد کے لئے تمام ذرائع بروئے کار لانے چاہئیں۔

یمن کا بحران بنیادی طور پر ایک جائز اور تسلیم شدہ حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، حوثی باغیوں نے ملک کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا ہوا ہے یہ قبضہ چھڑانے کے لئے یمنی فوج جو کارروائیاں کرتی ہے انہیں سعودی حکومت کی حمایت حاصل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یمن کے حالات سعودی عرب کے امن و استحکام کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ یمن کی اس خانہ جنگی کو بند کرایا جا سکتا ہے،جس نے پورے ملک کو قحط سے دوچار کر رکھا ہے اور لاکھوں بچوں کی زِندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں، ہزاروں ہلاک ہو چکے ہیں اور جنگ اور قحط نے یمن کو تباہی بربادی کے آخری کنارے تک پہنچا دیا ہے۔یمن کے تنازعے میں پاکستان نے ثالثی کی جو پیشکش کی ہے اس کے نتیجے میں مذاکرات کا آغاز اسی صورت ہو سکتا ہے جب حوثی باغی اور ایران بھی شریک مذاکرات ہوں۔

یمن کی حکومت اگر پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حامی ہے تو سوال یہ ہے فریقِ ثانی کو اس پر آمادہ کون کرے گا۔ثالثی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈر مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور ثالث کے کردار کو تسلیم کریں۔ثالثی کی بات کئی ہفتوں سے چل رہی ہے، اِس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اِس ضمن میں سفارتی سطح پر کوششیں شروع کر رکھی ہوں گی اور باغیوں کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لئے بیک ڈور رابطے بھی ہو رہے ہوں گے، حوثی باغیوں کو اپنی قوت کا بھی اندازہ ہے اور اپنے سرپرست ایران کو اعتماد میں لئے بغیر وہ کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے، اِس لئے منطقی طور پر پاکستان ایران کو بھی مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لئے کوشاں ہو گا، چند روز پہلے ہی ایرانی وزیر خارجہ بھی پاکستان آئے ہوئے تھے۔

اگر ایران اِس ضمن میں پاکستانی مساعی سے مطمئن ہے تو پھر امید کی جا سکتی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر یمن کے معاملے پر بھی بات چیت کر لے گا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ سعودی عرب اور ایران دونوں پاکستان کے قریبی دوست اور اس کے لئے اہمیت رکھتے ہیں، یہی تعلق ہے جو پاکستان کی پوزیشن کو بہت حد تک نازک بھی بنا دیتا ہے،کیونکہ دونوں ممالک توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان ان کی حمایت کرے۔ وزیراعظم عمران خان دو بار سعودی عرب کا دورہ بھی کر چکے ہیں اور ان دوروں کے نتیجے میں سعودی عرب نے پاکستان کو ایک بیل آؤٹ پیکیج بھی دیا ہے،اس کے برعکس ابھی تک وزیراعظم عمران خان نے نہ تو ایران کا دورہ کیا ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں ان کا کوئی ایسا پروگرام ہے، بیل آؤٹ پیکیج کی جاری کوششوں میں بھی ایران کا کہیں ذکر اذکار نہیں۔ایران پر امریکہ نے جو پابندیاں تازہ تازہ سخت کی ہیں ان کی وجہ سے ایران خود مسائل کا شکار ہے، تیل اس کی سب سے بڑی دولت ہے،لیکن امریکہ کے خوف سے دنیا اس کی خریداری کھل کر نہیں کر رہی۔

اگرچہ چھ ممالک کو امریکہ نے کمال مہربانی سے تیل خریدنے کی اجازت بھی دے دی ہے اور انہیں پابندیوں سے استثنیٰ بھی دے دیا ہے،لیکن کمال ہوشیاری سے اس پوزیشن کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت اٹھا رہا ہے،وہ ایران کے تیل کا بڑا خریدار ہے اور یہ تیل بھی ادھار خرید رہا ہے،اِس کے علاوہ اس نے ایران کی چاہ بہار کی بندرگاہ کو ترقی دینے کے لئے سرمایہ کاری کا آغاز کر رکھا ہے۔اس بندرگاہ کے راستے بھارت اپنی تجارتی اشیا افغانستان اور سنٹرل ایشیا تک لے جائے گا اور ان ممالک سے سامانِ تجارت بھارت پہنچے گا۔

چاہ بہار کے ساتھ ساتھ ایران کے اندر سڑک اور ریل کے سفر کو بھی افغانستان کے ساتھ مربوط کیا جائے گااور افغانستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریل کی پٹڑی بچھائی جائے گی،جو ایران سے افغانستان جائے گی یہ ایک بڑا پراجیکٹ ہے،جس کی وجہ سے بھارت اور ایران کے اقتصادی تعلقات مزید بہتر ہوں گے، جبکہ پاکستان آج تک گیس کی وہ پائپ لائن بھی مکمل نہیں کر سکا،جس کا معاہدہ2013 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے آخری ایام میں کیا گیا تھا۔اس کے بعد نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت بھی پانچ سال پورے کر کے رخصت ہو گئی،لیکن گیس کی پائپ لائن کے پاکستانی حصے میں کام شروع ہی نہیں ہو سکا۔جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس نے پاکستان کی سرحد تک پائپ لائن بچھائی ہے جو پائپ لائن پاکستان نے تعمیر کرنی تھی اس کی مدت بھی گزر چکی ہے اور پاکستان تعمیر نہ کرنے کی وجہ سے جرمانے کا سزاوار بھی ہو چکا ہے۔جس عرصے میں ایران پر پابندیاں اٹھ گئی تھیں اِس دوران یہ پائپ لائن بڑی آسانی سے مکمل ہو سکتی تھی،مگر نہیں ہوئی،اب بھی حکومت شاید اس پر کسی پیش رفت کا ارادہ نہیں رکھتی۔

ایسے میں جو لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں کہ پاکستان کی سعودی عرب اور ایران کے ساتھ دوستی یکساں اور ایک ہی سطح پر ہے،وہ یقینناً کسی غلط فہمی کا شکار ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ یمن کے پیچیدہ بحران پر پاکستان نے ثالثی کی پیشکش کر تو دی ہے،لیکن کیا تمام سٹیک ہولڈر اس کا یکساں خوش دلی سے جواب دیں گے، اس کا انتظار کرنا ہو گا۔ یمن کا بحران تو بعد کی بات ہے مسلمان امت کے دو بڑے ممالک سعودی عرب اور ایران آپس میں سفارتی تعلقات تک بحال نہیں کر سکے، جو آج کے دور کی سفارت کاری میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو پہلے یہ کوشش کرنی چاہئے کہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات قائم ہو جائیں، پھر شاید ثالثی جیسا بڑا اقدام بھی کوئی برگ و بار لا سکے۔ فی الحال تو ثالثی ایک خوشنما امید اور خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں،جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ ثالثی کامیاب بھی ہو جائے گی۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں