خون میں آکسیجن کی مقدار ناپنے والا عجیب و غریب آلہ ایجاد

آکسیجن کی مقدار ناپنے والا عجیب و غریب آلہ ایجاد

کیلیفورنیا: اب خون میں آکسیجن کی مقدار ناپنے والا عجیب و غریب آلہ ایجاد ہو چکا ہے جو عجب لچک دار سا ہے.
اس سے قبل اسپتالوں میں آکسی میٹر بہت جامد ہیں جنہیں انگلی پر پہنا کر جسم میں آکسیجن کی مقدار معلوم کی جاسکتی ہے لیکن اب کاغذ کی طرح لچک دار آکسی میٹر کے ذریعے جسم کے کسی بھی مقام پر خون میں آکسیجن کی مقدار نوٹ کی جاسکتی ہے۔

اس طرح سے طبی دنیا میں انقلاب آسکتا ہے کیونکہ بہت مرتبہ جسم کے کئی حصوں میں خون میں آکسیجن کی کمی بیشی معلوم کرنے سے مریض کا بہتر طورپر علاج کیا جاسکتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہلکے رنگت والا خون آکسیجن سے بھرپور ہوتا ہے اور انفراریڈ روشنی زیادہ جذب کرتا ہے جبکہ گہری رنگت والے خون میں آکسیجن کی مقدار کم ہوتی ہے اور وہ عام سرخ روشنی کو زیادہ جذب کرتا ہے۔ اس طرح دو مختلف روشنی ڈال کر ہی روایتی آکسی میٹر خون میں آکسیجن کی کمی یا زیادتی کی خبر دیتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، برکلے کے ماہرین نے لچک دار مواد پر نامیاتی ایل ای ڈی پرنٹ کی ہیں اور اس کے بعد ایک ایسا طریقہ وضع کیا جس کے تحت آر پار گزرنے والی روشنی کی بجائے منعکس ہونے والی روشنی کو استعمال کرکے خون میں آکسیجن کی مقدار معلوم کی جاسکتی ہے۔

اس میں سرخ اور انفراریڈ ایل ای ڈی اور فوٹو ڈائیوڈز لگائی گئی ہیں اور ان سب کو پلاسٹک کے لچک دار ٹکڑے پر سمودیا گیا ہے۔ اس طرح آکسی میٹر کو جسم کے کسی بھی حصے پر رکھا جاسکتا ہے۔ جسم پر لگتے ہیں یہ دو طرح کی روشنیاں خارج کرتا ہے اور منعکس ہونے والی روشنی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خون میں آکسیجن کم ہے یا اس کی مناسب مقدار موجود ہے۔

اس اہم ایجاد کو کئی مریضوں پر کئی طرح سے آزمایا گیا ہے۔ کسی کی پیشانی پر تو دوسرے مریض کے بازو پر لگا کر لچک دار آکسی میٹر کی افادیت کو پرکھا گیا ہے۔ پھر مختلف مریضوں سے تیز اور آہستہ سانس لینے کو کہا گیا جس سے خون میں آکسیجن کی مقدار کم اور زیادہ ہوئی تو اس مقام پر بھی آکسی میٹر نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی اور روایتی انگلی والے آکسی میٹر کی طرح درست اعداد ظاہر کیے۔

بعد ازاں آپریشن کی بحالی یا کسی جسمانی عضو کی پیوند کاری کے بعد اس کی کیفیت کا جائزہ لینا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ علاوہ ازیں ذیابیطس، سانس کے مریض اور نیند میں اچانک دم گھٹنے سے اٹھ جانے والے مریض ہر لمحہ اپنے لہو میں آکسیجن کی مقدار کو نوٹ کرسکیں گے۔

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں