شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع

مسلم لیگ ن

لاہور کی احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شہباز شریف کو سخت سیکیورٹی میں اسلام آباد سے لاہور کی احتساب عدالت پہنچایا گیا، جہاں شہباز شریف کمرہ عدالت پہنچے اور اپنے وکلا سے مشاورت کی۔

احتساب عدالت کے جج نجم الحسن شہباز شریف کے خلاف کیس کی سماعت کی جبکہ نیب کی جانب سے خصوصی پراسیکیوٹر وارث علی دلائل دیے۔

سماعت کے آغاز پر وکلاء کی جانب سے کمرہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا، جس پر جج احتساب عدالت نے استفسار کیا کہ یہ وکیل کیوں آئے ہیں، کیا کہ شہباز شریف سے اظہار یکجہتی کرنے آئے ہیں۔

اس دوران تفتیشی افسر نے اپنے دلائل دینا شروع کیے کہ رمضان شوگر ملز میں 21 مئی 2014 کو حکم دیا گیا کہ مل کے لئے ایک نالہ بنایا جائے۔

تاہم عدالت میں شور پر جج نے ریمارکس دیے کہ ایسے شور میں کیس نہیں سنا جاسکتا، بعد ازاں عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے روک دی۔

مختصر سے وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو نیب نے رمضان شوگر ملز کیس میں بھی شہباز شریف کی گرفتاری ڈال دی اور وکیل نیب نے بتایا کہ آج (10 نومبر) کو ان کی گرفتاری ڈالی گئی ہے۔

دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ ان کے موکل کو نیب نے پہلے مرتبہ جون 2018 میں بلایا اور جب بھی نیب نے شہباز شریف کو بلایا وہ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے نیب تحقیقات میں ہر طرح کا تعاون کیا ہے لیکن نیب کی ٹیم جنوری 2018 سے آج تک کوئی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس دوران نیب پراسیکیوٹر نے شہباز شریف کے ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس اور بطور اپوزیشن لیڈر مصروفیت کے باعث مکمل تفتیش نہیں کرسکے، جس پر شہباز شریف نے خود اٹھ کر کہا کہ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ پروڈکشن آڈر کے دوران بھی مجھ سے تفتیش کی جاتی رہی ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اسی کیس میں گرفتار احد چیمہ نے خود ایک فزیبلٹی رپورٹ بنائی، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ فزیبلٹی سے آگے بھی آئیں۔

وکیل شہباز شریف نے کہا کہ جوفزیبلی رپورٹ ایل ڈی اے یا کسی اور نے تیار کی اس کا میرے موکل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے موکل کے جسمانی ریمانڈ کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ عدالت کسی ملزم کا خودکار طور پر 90 روز کا ریمانڈ دینے کی پابند نہیں۔

عدالت میں سماعت کے دوران وکیل شہباز شریف نے دلائل دیے کہ آج جس درخواست پر ریمانڈ کی استدعا کی جارہی ہے وہ قانون کے مطابق نہیں ہے اور عدالت کے سامنے نیب نے جو نئی درخواست دی ہے وہ مفروضات پر ہے۔

دوران سماعت وکیل کی جانب سے مختلف عدالتی فیصلوں کی مثال دے کر ریمانڈ کی مخالفت کی گئی اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب لاہور کے بیان کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی نیب لاہور شہباز شریف کے کیس میں پارٹی بن گئے ہیں اور انہوں نے کیسز سے متعلق بہت سے ٹی وی چیلنز پر بیانات دیے ہیں۔

وکیل نے کہا کہ ایسے کیس جن پر تفتیش جاری ہے، اس پر بیان دیا گیا، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے اعلیٰ ترین فورم پر اپنا احتجاج کر نہیں لیا؟ جس پر وکیل نے کہا کہ میرا فورم یہ عدالت ہے، میں اس میں اپنا نقطہ بیان کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ آشیانہ کیس میں حراست یا جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے، نیب میرے موکل سے جو بھی بات پوچھنا چاہتا ہے وہ جیل میں پوچھ سکتے ہیں جبکہ نیب میرے موکل کو جیل میں سوالنامہ بھی بھیج سکتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ سے متعلق نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے عدالت نے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ کو 24 نومبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

قبل ازیں شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے باہر اور اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ عدالت کی طرف آنے والے راستوں کو بھی بند کیا گیا تھا۔

راستوں کی بندش کے باوجود مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے احتساب عدالت جانے کی کوشش کی تھی، جس پر پولیس اور لیگی کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔

پولیس کی جانب سے ہنگامہ آرائی روکنے کے لیے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا تھا جبکہ کارکنان نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔

شہباز شریف کی گرفتاری اور ریمانڈ
واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو نیب لاہور نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صاف پانی اسکینڈل کے حوالے سے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھا، تاہم انہیں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

بعد ازاں 6 اکتوبر کو انہیں احتساب عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں ان کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تھی لیکن عدالت نے 10 روزہ ریمانڈ پر انہیں نیب کے حوالے کیا تھا۔

16 اکتوبر کو 10 روزہ ریمانڈ ختم ہونے پر مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو دوبارہ عدالت پیش کیا گیا تھا، جہاں ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی گئی۔

اس کے بعد 29 اکتوبر کو انہیں دوبارہ عدالت پیش کیا گیا جہاں 7 نومبر تک ان کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا جبکہ 3 روز کا راہداری ریمانڈ بھی دیا گیا۔

بعد ازاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے انہیں اسلام آباد لے جایا گیا، جہاں 31 اکتوبر کو پہلے ان کے راہداری ریمانڈ میں 6 نومبر توسیع کی گئی تھی، جسے بعد میں عدالت نے بڑھا کر 10 نومبر تک کردیا تھا۔

آشیانہ اسکینڈل میں شہباز شریف پر الزامات
5 اکتوبر کوشہباز شریف کی گرفتاری کے بعد نیب نے بیان میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا کنٹریکٹ لطیف اینڈ سنز سے منسوخ کر کے کاسا ڈویلپرز کو دیا جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا جس کے لیے مزید تفتیش درکار ہے۔

شہباز شریف کو نیب نے جنوری 2016 میں پہلی مرتبہ طلب کیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چوہدری لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ کا استعمال کیا اور لاہور کاسا کپمنی کو جو پیراگون کی پروکسی کپمنی تھی کو مذکورہ ٹھیکہ دیا۔

نیب کے بیان میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف کے اس غیر قانونی اقدام سے سرکاری خزانے کو 19 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

شہباز شریف پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا لیکن ایل ڈی اے منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہا اور اس سے 71 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

یہ بھی یاد رہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف سے قبل فواد حسن فواد، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ، بلال قدوائی، امتیاز حیدر، شاہد شفیق، اسرار سعید اور عارف بٹ کو نیب نے اسی کیس میں گرفتار کیا تھا جبکہ دو ملزمان اسرار سعید اور عارف بٹ ضمانت پر رہا ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں