کرتار پور راہداری:بھارت چاروں شانے چت

بھارت

پاکستان کے خیر سگالی اقدامات نے بھارتی میڈیا کو پاکستان کی امن کوششوں کا اعتراف کرنے پر مجبور کردیا۔ بھارتی میڈیا نے پاکستان سے مذاکرات نہ کرنے پر مودی سرکارکو آڑے ہاتھوں لے لیا اور کہا کرتارپور کوریڈور کھول کر پاکستان نے بھارت کوچت کردیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کی خیرسگالی سیق منہ موڑنے والے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی پربھارتی میڈیا برس پڑا اور پاکستان سے مذاکرات سے بھاگنے والی مودی سرکار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے پاکستان کے مذاکرات کی دعوت کا مثبت جواب نہ دینے کو حماقت قرار دیا ہے۔

بھارتی میڈیا نے کھلے الفاظ میں تسلیم کیا کہ کرتارپورکوریڈورکھول کر پاکستان نے بھارت کوچت کردیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے مزید کہا کہ مودی نے مذاکرات کی دعوت نہ مان کرنئی پاکستانی قیادت سے فاصلہ پیداکیا اور مودی سرکار کومشورہ بھی دیا کہ سارک سے فرارکے بجائے بہترحکمت عملی اپنائے۔

پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے جب دونوں ممالک نے مل بیٹھ کر مسائل کو حل کرنے کا فیصلہ کیا۔پہلی دفعہ دونوں ممالک کوباضابطہ مذاکرات کی ضرورت تب پیش آئی جب 1971 کی جنگ کے نتیجے میں پاکستان دو ٹکڑے ہوا اور بنگلہ دیش کے نام سے ایک نئی ریاست معرض وجود میں آئی۔ ان مذاکرات کی رو سے شملہ معاہدہ طے پایا جسکی شرائط نے پاک بھارت تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

دوسری دفعہ دونوں ممالک کے سربراہان کو مل بیٹھنے کی ضرورت تب پیش آئی جب بھارت نے مئی 1998 میں پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو ایٹمی ملکوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ ان دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے بھی 28مئی 1998 کو چاغی کے مقام پر چھ ایٹمی دھماکے کئے۔ ان ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں اس خطے میں ایٹمی خطرات بڑھ گئے جسکی بدولت بین الاقوامی سطح پر دونوں ملکوں پر دباؤ ڈالا گیا کہ مل بیٹھ کر اپنے معاملات کا حل نکالیں۔بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نامور بھارتی شخصیات کے ہمراہ دوستی بس کے ذریعے لاہور پہنچے۔

جواباً اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نوازشریف بھی پاک بھارت بارڈر پر انکا استقبال کرنے گئے۔ لاہور میں ہونے والے ان مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جسے لاہور اعلامیہ کہا جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کے سربراہان کے مل بیٹھنے کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا اور اسے امن کی طرف پیش رفت گردانا گیا۔ لیکن اس اعلامیے کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ امن کی فاختائیں اڑانے والوں کو کارگل کے مقام پر ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہونا پڑا۔ دونوں ممالک کے درمیان چھڑنے والی اس جنگ نے اس خطے کے حالات یکسر بدل کر رکھ دیے۔

لاہور اعلامیہ آخری موقع تھا جب دونوں ممالک کے سربراہان نے ایک میز پر بیٹھ کر اپنے مسائل کو حل کرنے کی لاحاصل سعی کی۔کارگل جنگ کے بعد پاکستان میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی اور اقتدار ایک بار پھر فوج کے ہاتھ میں آگیا۔ اگرچہ ڈکٹیٹر مشرف نے بھی بھارت کے ساتھ مذاکرات کی کئی کوششیں گی مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔ بعدازاں پیپلز پارٹی اور پھر ن لیگ کی حکومتوں کا قیام عمل میں آیا لیکن دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی بہتری میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔

loading...

پاک بھارت تعلقات کی تاریخ میں اہم موڑ تب آیا جب پاکستان میں عمران خان جولائی 2018 کے عام انتخابات میں جیت حاصل کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ جیت کے بعد اپنی پہلی تقریر میں عمران خان نے بھارت کو پیش کش کی کہ اگر بھارت ایک قدم ہماری طرف چل کر آئے گا تو پاکستان دو قدم اسکی طرف چل کر جائے گا۔ بعد ازاں عمران خان کی دعوت پر بھارتی نامور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو عمران خان کی وزارت عظمیٰ کی حلف برداری میں شریک ہوئے جہاں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ ان سے بغل گیر ہوئے اور انکو خوشخبری دی کہ پاکستان جلد ہی کرتارپور بارڈر بھارتی سکھوں کے لئے کھول دے گا تاکہ سکھ برادری بغیر ویزے کے گوردوارہ دربار صاحب کی یاترا کرسکیں۔امن کا یہ پیامبر پاکستان سے بھی امن کا پیغام لے کر اپنے وطن لوٹا اور بھارت میں پاکستان کے محبت نامے کی خوب چرچا کی۔

پاکستان کی طرف سے کرتار پوربارڈر کھولنے کی تجویز کو بھارت نے 22نومبر کو سرکاری طور پر قبول کیا۔ نتیجے میں پاکستان کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ 28نومبر کو وزیراعظم عمران خان کرتار پور بارڈر کھولنے کا افتتاح کریں گے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی ہم منصب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی جسکے جواب میں سشما سوراج نے معذرت ظاہر کی کہ انتخابی مصروفیات کی بدولت وہ شرکت نہیں کرسکتیں۔

نئی دہلی میں میں بابا گورونانک کی سالگرہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ کسی نے سوچا تھا کہ دیوار برلن گرے گی؟1947 میں جو ہونا تھا ہوگیا اب کرتار پور راہدرای دونوں ملکوں کے درمیان پل کا کام کرے گی۔لیکن کچھ دن بعد ہی بھارتی وزیراعظم نے حسب عادت پاکستان کیخلاف نئی ہرزہ سرائی کرتے ہوئے گزشتہ روز تقسیم ہند کے تاریخی حقائق کو بھی مسخ کردیا اور درفنطنی چھوڑی کہ 1947 میں تقسیم ہند کے وقت کرتارپور کو پاکستان کے حوالے کرنا کانگرس کی بہت بڑی غلطی تھی۔ انہوں نے راجستھان میں حکمران بی جے پی کی انتخابی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے کانگرس کو زیر کرنے کیلئے یہ کٹ حجتی پیش کی کہ 1947 میں کانگرسی رہنماؤں کی وجہ سے کرتارپور پاکستان کے حصے میں چلا گیا۔

انکے بقول کانگرس کی 70 سال پر محیط غلطیوں کو ٹھیک کرنا میری قسمت میں لکھا تھا۔ ہمیں کانگرس سے سوال کرنا چاہیے کہ انہوں نے کرتارپور پاکستان کے پاس کیوں جانے دیا۔ انکے خیال میں کانگرس نے سکھ کمیونٹی کیلئے باباگرونانک کی اہمیت کو جانا ہی نہیں تھا۔ بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کھولنے اور سکھ برادری کا اعتماد حاصل کرنے پر بوکھلاہٹ کا شکار بھارتی وزیراعظم نے اپنی ہرزہ سرائی سے کانگرس کی قیادت اور بھارت کے بانی کہلائے جانیوالے مہاتما گاندھی کو بھی نہیں بخشا۔

تاریخ سے نابلد مودی کا مزید کہنا تھا کہ تقسیم ہند کے بعد کانگرس کی حکومتوں نے بھی 70 برسوں میں کرتارپور تک بھارت کی رسائی کیلئے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بڑ بھی ماری کہ آج کرتارپور راہداری کھل گئی ہے تو یہ بی جے پی کو ملنے والی عوامی حمایت کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دشمنی میں کانگرس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں اور ہمیں ان دونوں جماعتوں کے ادوارِ اقتدار میں ملک کی سلامتی کیخلاف انکی سازشوں کا ہی سامنا رہا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں