حیوانیت اور بربریت کا ایک اور واقعہ!

ریپ

 قصور کے علاقے روڈ کوٹ کی شہری 7 سالہ زینب 5 جنوری کی شام ٹیوشن پڑھنے کے لیے گھر سے نکلی تھی لیکن واپس نہیں لوٹی۔ بچی کے والدین عمرے کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے تھے جبکہ بچی اپنی خالاؤں کے ساتھ رہ رہی تھی۔ زینب کے گھر والوں نے اسے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن کوئی سُراغ نہ مل سکا۔

چار دن بعد بچی کی لاش قصور کی ایک کچرا کنڈی سے ملی۔ پولیس اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔

قصور بھر میں دکانیں، مارکیٹس و دیگر تجارتی مراکز بند کردیے گئے جبکہ ڈسٹرکٹ بار نے بھی ہڑتال کردی ہے۔

بچی کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ زینب کے والدین کی عمرے سے آج واپسی ہورہی ہے جس کے بعد بچی کی نماز جنازہ ادا کر کے سپردِ خاک کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ قصور میں بچیوں کو اغوا کے بعد قتل کرنے کا یہ 10 واں واقعہ ہے۔ تاحال پولیس ایک بھی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایسی حیوانوں کو چوک پر کھڑا کر کے پھانسی دے کہ ان کے منتقی انجام تک پہنچایا جائے تا کہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہ آئیں اور مزید معصوم جانیں ایسی عزیت ناک تکالیف سے نہ  گزریں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں