جس کی بیٹی بچ جائے، وہ خوش قسمت ہے۔

اجتماعی زیادتی
loading...

نوید نسیم

7 سالہ قصور کی زینب کا قصور یہ تھا کہ اس کے والدین اسے چھوڑ کر عمرہ ادا کرنے سعودی عرب گئے تھے۔ زینب 5 جنوری سے گمشدہ تھی اور قریبی مدرسے سے گھر واپسی پر لاپتہ ہوئی۔ جس کے بعد معصوم زینب کی لاش راہ گیروں کی نشاندہی پر کوڑے کے ڈھیر سے ملی۔
زینب کا قصور یہ نہیں تھا کہ اس کے والدین اسے عمرہ ادا کرنے ساتھ نہیں لے گئے۔ بلکہ زینب کا قصور یہ تھا کہ وہ ایسے سماج اور سوسائٹی میں رہتی تھی۔ جہاں اُن درندوں کی بہتات ہے جو کہ اپنی جنسی درندگی کیلئے معصوم بچیوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ زینب اس معاشرے میں رہتی تھی۔ جس کے شہری ہر برائی کا زمہ دار حکومت کو سمجھتے تھے اور جس سماج کا میڈیا برقی پاپی پیٹ کو بھرنے کیلئے ایک آدھ دن تو زینب کی خبر کو پیٹے گا۔ مگر پھر وہی عمران خان کی تیسری شادی، نیب میں دائر نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف ریفرنسز اور امریکہ کی پاکستان کو دی جانے والی امداد کی بندش کا رونا پٹنا دکھانا شروع کردیگا۔
زینب کا قصور یہ تھا کہ اس کی معصومیت دیکھ کر اس کے ساتھ زیادتی اور پھر گلہ دبا کرقتل کرنے والوں کو اسے دیکھ کر پیار نہیں آیا۔ بلکہ اُن حیوانوں کے جنسی ہارمونز پُھدکنے لگے۔ جن کو قابو کرنے کیلئے بے بس اور معصوم زینب کو ان درندوں نے اپنے جنسی حیوانیت کا نشانہ بنایا۔
زینب کی لاش ملنے پر اہل علاقہ نے احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا اور وکلا برادری جو کہ ججز ک سامنے دھڑلے سے اپنے مقدمات کی پیروی کرتے ہیں۔ عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ لیکن کسی بھی وکیل نے یہ نہیں کہا کہ معصوم زینب کا مقدمہ وہ لڑیگا اور جب تک مجرموں کو بیچ چوراہے کہ پھانسی نہیں دی جاتی۔ وہ آرام سے نہیں بیٹھے گا۔
ایسے وقت میں جب زینب کے والدین مالک دو جہاں کے گھر میں اور روزہ رسول نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنی 7 سالہ بیٹی کے اچھے نصیب کیلئے دعا گو تھے۔ قصور کے علاقے شہباز خان کوٹ روڈ کی رہائشی زینب ظلم کرنے والے ظالموں سے یہ کہہ کر اپنی عزت اور زندگی کی بھیگ مانگ رہی ہوگی کہ میرے والدین میرے اچھے نصیب کی دعائیں مانگنے اُس خدا کے گھر گئے ہیں۔ جنھوں نے تمھیں بھی پیدا کیا ہے اور مجھے بھی۔ اس خدا کیلئے ہی سہی مجھے بخش دو۔ لیکن اسی خدا کے پیدا کردہ درندوں نے پہلے اپنی جنسی درندگی کی پیاس بجھائی اور پھر زینب کو گلا گھونٹ کر اپنے اور زینب کے مشترکہ خدا کے پاس واپس بھجوا دیا۔

کینیڈا سے آئے وزیٹنگ انقلابی ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کے کان پر بھی جوں تک نہیں رینگی اور ناہی پنڈی کے پینڈو کی غیرت جاگی اور وہ سگار سلگائے قصور پہنچا۔

عمرہ پر گئے زینب کے والدین پر کیا گزری ہوگی جب انھیں اللہ کے گھر میں اپنی معصوم 7 سالہ بیٹی کے ساتھ ہونے والی درندگی اور اس کی موت کی اطلاع ملی ہوگی۔ جس خدا سے زینب کے والدین نے اس کے اچھے نصیبوں کے لئے دعا کی ہوگی۔ کیا اسی خدا سے زینب کے والدین اس کی مغفرت کی دعا کرسکے ہوں گے؟۔ کیا اُس خدا سے جس نے ان درندوں کو بھی پیدا کیا ہوگا، ان درندوں کیلئے بد دعا کرسکیں ہوں گے؟۔
روحانی پیرنی کو حاصل کرنے کی خواہش کرنے والے عمران خان نے بھی احتجاج یا دھرنے کی کال نہیں دی۔ کیونکہ زینب کے ساتھ زیادتی اور اس کی موت پر احتجاج کرنے سے عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکتے۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو جو کہ لاہور ے کے علاقے بحریہ ٹاؤن میں اکثر پائے جاتے ہیں۔ بزریعہ ٹویٹ ہی زینب کی آڑ میں شریفوں کو خوب لتاڑا۔

برقی میڈیا پر چلتی زینب کی تصویر دیکھ ناچاہتے ہوئے بھی اپنی بیٹی کی شکل آنکھوں کو نم کردیتی ہے اور دماغ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ میں اپنی بیٹی کی حفاظت اس بھیڑیوں کے جنگل میں کیسے کروں؟۔ جتنی عزیز مجھے اپنی بیٹی ہے، اتنی ہی عزیز زینب، اپنے والد کو ہوگی۔

کہتے ہیں کہ خدا کے ہر کام میں کوئی نا کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات خدا کی مصلحت عقل سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے۔ زینب کے ساتھ زیادتی اور پھر اس کا قتل خدا ہی جانے اس میں کیا مصلحت ہوسکتی ہے؟۔

معصوم زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم اور بربریت کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ جس کی بیٹی ان درندوں سے محفوظ ہے۔ وہ خوش نصیب ہے۔
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں