قصور میں7 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل ، اس حوالے سے پنجاب حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں، تحریک انصاف جاننا چاہتی ہے

loading...

قصور میں ایک 7 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل کے واقعہ نے ملک بھر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی سعدیہ سہیل رانا نے قصور میں 7  سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے حوالے سے “توجہ دلاؤ” نوٹس پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دیا جس میں کہا گیا ہے کہ نجی چینل کی خبر کے مطابق کیا یہ درست ہے کہ زینب کو 6 روز قبل اغواء کیا گیا تھا، گزشتہ روز بچی کی لاش ذکی اڈہ کے قریب سے ملی۔ بچی کے والدین عمرہ ادائیگی کے لئے سعودی عرب گئے ہوئے ہیں انکی واپسی پر بچی کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ کیا یہ بھی درست ہے کہ قصور میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ایک سال کے دوران اغواء اور زیادتی کے بعد قتل کیے گئے بچوں کی تعداد 12 ہو گئی لیکن پولیس ایک ملزم کو بھی گرفتار نہ کرسکی قصور میں بچیوں کے اغواء اور زیادتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس اہم معاملے میں پنجاب حکومت نے اب تک کیا اقدامات کئے ہیں، ایوان کو مکمل تفصیل سے آگاہ کیا جائے؟۔

یاد رہے کہ قصور میں منگل کے روز ایک سات سالہ بچی کی لاش ملی تھی۔ جسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کےبعد قتل کر دیا گیا تھا۔ سات سالہ بچی پانچ دن پہلے لاپتہ ہوئی تھی ۔ بچی کی شناخت زینب نام سے ہوئی اور باپ کا نام محمد آمین انصاری بتایا جاتا ہے۔ (ذرائع این این آئی)

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں