اپنے بچوں کو درندوں سے کیسے بچائیں؟۔

کراچی،لیاری
loading...

آرمی پبلک سکول، پشاور پر ہونیوالے وحشیانہ حملے کے بعد سے سکولوں میں بچوں کی حفاظت سے متعلق خطرات بڑھ گئے ہیں۔ لیکن بچوں کی دہشتگردوں سے حفاظت کے علاوہ جو بات ہم نظر انداز کرتے ہیں۔ وہ بچوں کو انکے ارد گرد اور قریبی لوگوں سے درپیش خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

بچوں کو انکے گھر میں موجود لوگ یعنی چچا، ماموں اور کزنز وغیرہ سے بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں ۔ اگر بچے پارک میں جاتے ہیں تو پارک میں انہیں ارد گرد کے لوگوں سے خطرہ رہتا ہے۔ ان قریبی لوگوں سے بچوں کو جسمانی زیادتی یا تشدد، اور اغوا جیسے واقعات کا ہر روز خطرا رہتا ہے۔

دہشتگردی کے علاوہ ان خطرات سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آگاہی کی ضرورت ہے۔ جس میں انہیں سکھایا جائے کہ ایسی کسی بھی صورتحال میں انہیں کس طرح بچنا ہے۔

ہمیں بچوں کو بتانے کی ضرورت ہے کہ  ایسے کون سے لوگ اور کون سی باتیں اور کونسی حرکات ہیں۔ جو کوئی ان کے ساتھ کرے تو انہیں اپنے بڑھوں کو فوراً بتانا چاہیے۔

سب سے پہلے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سے خطرات ہیں۔ جو ہمارے معصوم بچوں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ جاننے کے لیے خود سے یہ چند سوالات پوچھیئے کہ دوسروں کی ایسی کون سی باتیں یا حرکات  ہیں جو آپ کو  اچھی نہیں لگتی ہیں۔

کیا  کسی دوسرے کا غلط زبان استعمال کرنا آپ کو نا پسند ہے؟۔

نامناسب لباس یا نا مناسب اشارے وغیرہ؟۔

نامناسب  طریقے سے جسم کو چھونا  یعنی غیر ضروی بغل گیرہونا؟۔

اگر آپ کو یہ سب باتیں نا پسند ہیں تو کیا آپ اپنے بچوں کو ایسے لوگوں کے پاس رہنے دیں گے؟

اگر آپ کا جواب نہیں میں ہے۔ تو  پھر آپ کو ان چند باتوں کا خیال رکھنا  چاہیے۔

1۔ سب سے پہلے آپ کو اپنے بچوں کو بتانا ہوگا کہ کسی دوسرے کی کون سی بات یا حرکت  قابل قبول ہے اور کونسی ناقابل قبول اور  اگر آپ کے بچوں کے ساتھ  کوئی گھریلو ملازم یا قریبی رشتے دار ایسی حرکت  کرتا ہے تو اس شخص کو فوری طور پر فارغ کردیں یا پھر اسے اپنے گھر آنے سے منع کردیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ مزکورہ شخص اپنی تزلیل کا بدلہ لینے کیلئے آپ کے معصوم بچے کو اپنی حوّس کا نشانہ بنائے۔

ان افراد کو بلیک لسٹ کروائیں اور ان سے متعلق آس پاس کے لوگوں اور رشتے داروں کو مطلع کریں۔

ایسے لوگوں کے بارے میں متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔

کسی کو بھی  گھر میں ملازم  رکھنے سے پہلے  اس کے شناختی کارڈ وغیرہ کو  چیک کریں اور  انکا گزشتہ ریکارڈ چیک کریں۔ ان کے آبائی گھر کا چکر ایک دفعہ ضرور لگائیں۔

اس تمام حفاظتی تدابیر کے علاوہ اپنے بچوں کو بتائیں۔ انکے جسم کے ایسے کون سے حصے ہیں جنہیں  کوئی دوسرا شخص نہیں چھو سکتا  اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے توان کو ایسی کسی صورت حال میں فوراَ آپ کو یا کسی بڑے کو اس بارے میں بتانا ہے۔

بچوں کو بتائیں کہ اگر سکول میں انکے ساتھ کوئی ایسی حرکت کرتا ہے تو انہیں فوراَ استاد یا استانی یا پرنسپل کے پاس بھاگ کے جانا ہوگا اور انہیں اس بات سے کے آگاہ کرنا ہوگا۔

اگر آپ کی غیر موجودگی میں  گھر میں کوئی ان  کے ساتھ ایسا کرتا ہے یعنی کوئی کزن، انکل  یا کوئی ملازم تو بچوں کو چاہیے  فوراَ اپنے دادا یا دادی وغیرہ کو بتائیں۔ اس میں سب سے ضروری ہے بچے کو یہ ترغیب دینا کہ وہ ایسی کسی صورت حال میں کسی نا کسی کو اطلاع ضرور دے۔

بچوں کو سکھائیے کہ انہیں کسی بھی اجنبی شخص سے کوئی چیز  یعنی کوئی کھانے کی چیز یا کوئی کھیلنے کی چیز نہیں لینی۔

یہ سب اور ایسی دیگر احتیاطی تدابیر ہیں جن کو اپنانے سے ہم زینب جیسے واقعات سے اپنے بچوں کو بچا سکتے ہیں ۔ ایک بات آپ کو جان لینی چاہیے کہ آپ خود ہی اپنے بچے کے محافظ ہیں آپ سے بڑھ کر کوئی آپ کے بچے کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔

[highlight bgcolor=”#ffffff” txtcolor=”#1e73be”]بشکریہ ڈان نیوز[/highlight]

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں