ایران: پھانسی کا قانون بدل دیا گیا، پانچ ہزار لوگ پھانسی سے بچ گئے

ایران میں منشیات کے جرم میں گرفتار ملزمان کو بھی سزائے موت دی جاتی تھی ۔ ایران میں ہر برس سینکڑوں کی تعداد میں افراد کو سزائے موت دی جاتی ہے جنھوں میں اکثریت کا تعلق منشیات سے متعلق جرائم سے ہوتا ہے۔اگست میں ایرانی پارلیمان نے منیشات برآمد ہونے مقدار دوبارہ طے کی تھی جس پر سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ گذشتہ قوانین کے تحت 30 گرام کوکین برآمد ہونے پر سزائے موت ہو سکتی تھی تاہم اب اس مقدار کو بڑھا کر دو کلوگرام کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ چرس اور افیون کی مقدار کو بڑھا کر 50 کلوگرام تک کر دیا گیا تاہم اب یہ خبریں سننے میں آ رہی ہیں کہ اس قانون میں تبدیلی کی جا رہی ہے جس سے بہت سارے لوگ پھانسی سے بچ سکتے ہیں۔  میڈیا رپورٹس کے مطابق  قوانین کی تبدیلی کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں سزائے موت پانے والے مجرمان پھانسی سے بچ سکتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق نئے قوانین کے تحت منشیات سے متعلق بعض جرائم میں سزائے موت ختم کر دی گئی ہے اور عدالتی امور کے سربراہ نے کہا کہ سزائے موت کے تمام کیسوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔قوانین میں تبدیلی کا اطلاق ماضی کے کیسز پر بھی ہو گا اور اس کا مطلب ہے کہ پانچ ہزار کے قریب افراد سزائے موت پر عمل درآمد سے بچ جائیں گےاس حوالے سے  ہیعدالتی امور کے سربراہ آیت اللہ صدیق لاریجانی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ زیادہ تر کیسز میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ایران میں حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیم آئی ایچ آر کے اہلکار محمد عماری مخددم نے قانون میں تبدیلی کا خیرمقدم کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر قانون کی مناسب طریقے سے نافذ کیا جاتا ہے تو یہ تبدیلی دنیا بھر میں سزائے موت کے استعمال کو کم کرنے کے اہم ترین اقدامات کا نمائندہ ہو گی۔ (ذرائع این این آئی)

loading...
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں